Imran_khan_balochistan

ہم نے سیاحت کے لیے صحیح طرح سے کام نہ کیا تو اس کا غلط استعمال ہو جائے گا :وزیراعظم

EjazNews

کراچی کے بعد وزیراعظم نے بلوچستان کے شہر لسبیلہ میں بھی خطاب کیا۔وزیر اعظم نے بلوچستان کے شہر لسبیلہ کے قریب سونمیانی کے ساحل پر پودے لگانے والے کارکنوں اور مقامی افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تقریباً سارا پاکستان دیکھا ہے، شاید ہی کوئی علاقے ہیں جہاں میں نہیں گیا لیکن بلوچستان میں زیادہ علاقوں میں نہیں جا سکا تو آج مجھے ادھر آنے کا موقع ملا جس پر میں خود کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں۔ میں جب پاکستان کے مختلف علاقوں میں جاتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اللہ نے پاکستان کو کتنی نعمتیں بخشی ہیں، یہ اللہ کا بڑا تحفہ ہے لیکن ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی ان نعمتوں سے ہمیں جس طرح انصاف کرنا چاہیے تھا، وہ ہم نے نہیں کیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم لسبیلہ کو سیاحتی مقام بنا سکتے ہیں جس سے مقامی لوگوں کی زندگی بہتر ہو گی اور ان کو روزگار ملے گا، وہ اپنے بچوں کو پڑھا سکیں گے اور وہ آگے بڑھ سکیں گے، یہ حکومت کی اولین ذمے داری ہوتی ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی زندگی بہتر کیسے کر سکتے ہیں، کیسے ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے بعد انہیں خوشحال کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرونے کیلئے شہروں میں فوج طلب

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں صنعت تو نہیں لگا سکتے ہیں لیکن یہاں پر ٹورزم ریزورٹ بنا سکتے ہیں لیکن ایسی سیاحت ہرگز نہیں جو ہماری روایات اور دین کے خلاف ہو بلکہ ہم ایسی سیاحت کو فروغ دے سکتے جس سے مسلمان ممالک سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں آئیں۔ اسلامو فوبیا کی وجہ سے ہمارے مسلمان بھائی بہن اب یورپ سمیت ایسی کئی جگہوں پر نہیں جا پاتے جہاں وہ پہلے بآسانی چھٹیاں منانے جاتے تھے لیکن اب انہیں اسلاموفوبیا کی وجہ سے ان ممالک میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ایسی جگہوں پر اپنے لوگوں کو نہیں لے جانا چاہتے تو پاکستان میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ یہاں مسلمان ملکوں سے لوگ سیاحت کے لیے آئیں۔

اس موقع پر انہوں نے سونمیانی کے علاقے کو سیاحت کے لیے بہتر طور پر استعمال کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے سفارشات طلب کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے سیاحت کے لیے صحیح طرح سے کام نہ کیا تو اس کا غلط استعمال ہو جائے گا کیونکہ ہمارے کئی علاقے تباہ ہو چکے ہیں جیسے مری میں انتہا سے زیادہ تعمیرات ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مولانا عبدالعزیز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں لیکن وہ ہر دوسرے روز ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیتے ہیں:وزیر داخلہ

عمران خان نے کہا کہ اب ہم پہلی مرتبہ پاکستان میں ان پہاڑی علاقوں میں ترقیاتی کام کررہے ہیں جو پہلی مرتبہ کسی پاکستانی نے تیار کیے ہیں ورنہ مری، نتھیا گلی اور گلیات جیسے علاقے تو انگریزوں کے زمانے سے سیاحتی مقام ہیں اور انہوں نے گرمی کی وجہ سے ان علاقوں کو بنایا تھا لیکن ساحلی پٹی پر کوئی کام نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملک کو موسمی اثرات سے بچانے کے لیے بہت آگے نکل چکے ہیں اور اس سلسلے میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں اور حال ہی میں دنیا کے بہترین سائنسدانوں نے رپورٹ دی ہے کہ دنیا کا موسم اس تیزی سے گرم ہو رہا ہے کہ کئی علاقوں میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دنیا میں کہیں جنگلات میں آگ لگ رہی ہے اور کہیں سیلاب آ رہے ہیں اور اگر اسی طرح موسم گرم ہوتا گیا تو دنیا کو نقصان پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کے جنگلات اور مویشی

ان کا کہنا تھا کہ ہم خوش قسمت ہے کہ ہمارے یہاں مینگرووز کے درخت ہیں کیونکہ مینگرووز موسم گرم ہونے کے نظام کو روکتا ہے اور ہمیں ناصرف ان کی حفاظت کرنی ہے بلکہ ان کو بڑھانا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اس لیے پیچھے رہ گیا کیونکہ نہ کبھی وفاقی حکومت نے اتنے بڑے علاقے پر توجہ دی اور بلوچستان کے اپنے لیڈرز نے بھی صحیح طرح سے توجہ نہیں دی جبکہ ہمارے کچھ سیاستدان تو بلوچستان سے زیادہ لندن کی دکان ہیرٹز میں گئے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا کہ بلوچستان پر مکمل توجہ دینی ہے اور ہم بلوچستان پر ایک ہزار ارب خرچ کررہے ہیں جہاں پاکستان کی تاریخ میں آج تک اس صوبے پر اتنا پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ اگر بلوچستان ترقی کرے تو پاکستان ترقی کرے گا کیونکہ بلوچستان میں لوگ پیچھے رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے غربت ہے جبکہ ہم بلوچستان کی معدنیات کے بہتر استعمال کی بھی کوشش کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں