Taliban_mazar

مزار شریف پر طالبان کی حکومت ،شمال میں حکومتی تسلط کے خاتمے کا اشارہ ہوگا

EjazNews

مزار شریف کی معاشی اور تاریخی حیثیت کو دیکھتے ہوئے یہاں طالبان کے قبضے کی صورت میں افغان حکومت کا شمال میں تسلط کے خاتمے کا اشارہ ہوگا اور حکومت کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات اٹھیں گے۔دوسری جانب طالبان جنگجووں کی جانب سے قندھار اور لشکر گاہ کے حصول کی کوششیں ہفتوں سے جاری ہیں جہاں دونوں صوبوں میں پشتون آبادی کی اکثریت ہے اور طالبان کی طاقت قرار دیا جاتا ہے۔افغان فوج کے 215 کور کے کمانڈر سمیع سادار نے لشکر گاہ سے غیر ملکی میڈیا کو بتایاہے کہ ہم گھروں، سڑکوں اور عمارتوں کو واگزار کر رہے ہیں جہاں طالبان قابض ہیں۔افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طالبان کے سیکڑوں جنگجووں کو مارا گیا ہے۔

طالبان نے شمالی صوبوں میں حکومتی فورسز کے خلاف تیزی سے پیش قدمی کرنے کے بعد اب چھٹےصوبائی دارالحکومت پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔صوبہ سمنگان کے ڈپٹی گورنر صفت اللہ سمنگانی نے بتایا کہ طالبان بغیر کسی لڑائی کے صوبائی دارالحکومت ’’ایبک‘‘ میں داخل ہوئے جہاں صوبے کے مضافات میں ایک ہفتےسے جاری جھڑپوں کے بعد مقامی عمائدین نےسرکاری عہدیداروں سے درخواست کی کہ وہ شہر کو مزید کشیدگی سے روکنے کیلئے اس کا کنٹرول چھوڑ دے۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی مودی کو جیت کی مبارکباد

صفت اللہ سمنگانی نے کہا کہ گورنر نے درخواست منظور کرتے ہوئے تمام فورسز کو شہر سے ہٹادیا اور شہر میں اب طالبان کا مکمل کنٹرول ہے۔طالبان کے ترجمان نے بھی شہر پر قبضے کی تصدیق کردی ہے۔

اس سے قبل طالبان نے شمال میں 5 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کیا، جس کے بعد شمالی خطے میں حکومت کےکنٹرول کھونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

طالبان نے تازہ بیان میں کہا کہ وہ مزار شریف کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جو شمال میں سب سے بڑا شہر ہے اور خطے میں حکومت کے تسلط کی علامت ہے جبکہ طالبان نے اس کے مغرب میں شبرغان اور مشرق میں قندوز اور تالقان کو زیرنگیں کر چکے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان شہر میں داخل ہوچکے ہیں لیکن سرکاری عہدیدار اور مقامی افراد نے فون پر کہا کہ طالبان بڑھا چڑھا کر بات کر رہے ہیں تاہم اطراف کے اضلاع میں جھڑپوں کی تصدیق کی۔

بلخ صوبے کی پولیس فورس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دشمن رائے عامہ کو توڑ مروڑنا اور اپنے پروپیگنڈے سے عام آبادی میں بے چینی پیدا کرنا چاہتا ہے۔افغان صوبے بلخ کے دارالحکومت مزار شریف کے مضبوط رہنما عطا محمد نے آخر تک لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے خون کے آخری قطرے تک مزاحمت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنے ملک کا دفاع کرنا افغان فوج کی ذمہ داری ہے، امریکا کا فوجی مشن 31اگست کو مکمل طور پر ختم ہو جائے گا:جو بائیڈن

سوشل میڈیا پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں بے بسی کی موت کے بجائے عزت سے مرنے کو ترجیح دوں گا۔

خیال رہے کہ دونوں جانب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے جبکہ اس کی تصدیق بھی ناممکن ہے۔اطلاعات کے مطابق مزار شریف کے علاوہ پُلِ خمری اور بلخ صوبے کے شہر کوٹ برگ پر بھی طالبان نے حملہ کیا ہے۔ جنوبی شہر لشکرگاہ اور ہلمند میں اس وقت شدید لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں لشکر گاہ میں اب تک 20 شہریوں کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

مزید اطلاعات کے مطابق لشکر گاہ میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے باہر دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی گئی ہیں۔

دسری جانب اقوام متحدہ کے مطابق 27 اموات افغانستان کے تین صوبوں قندھار، خوست اور پکتیا میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق ان علاقوں میں گزشتہ تین دن کے دوران تقریباً 136 بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں تیزی سے اضافےسے ادارے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  رمضان المبارک میں کتنے افراد کو عمرے کی اجازت ہوگی؟

یونیسیف کی افغانستان سے متعلق نمائندہ سمینتھا مورٹ نے کہا ہے کہ افغانستان ایک طویل عرصے سے بچوں کے لیے زمین پر بدترین جگہ ہے لیکن گذشتہ 72 گھنٹوں میں صورتحال پہلے سے بھی بدتر ہوگئی ہے۔

بچے سڑک کنارے نصب بموں اور فریقین کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ ایک ماں نے یونیسیف کو بتایا کہ وہ گھر پر سو رہے تھے جب بم کے ٹکڑے ان کے گھر پر لگے اور آگ لگنے سے ان کا 10 سالہ بیٹا بری طرح جھلس گیا ہے۔ ادارے کے مطابق اپنے گھروں سے جان بچا کر بھاگنے کے بعد کئی بچے کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔یونیسیف نے لڑائی میں شامل تمام فریقین سے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں