Global_Warming

گرمی کی شدت مزید بڑھنے کے خدشات تقویت اختیار کر گئے

EjazNews

اقوامِ متحدہ کے سائنسدانوں کے مطابق اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انسان دنیا کے ماحول پر بری طرح اثر انداز ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ کوئلے، تیل اور گیس کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ فوسلز فیولز سیارے کو تباہ کررہی ہے۔ جب کہ فرانسیسی صدر نے نومبر میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس میں ایسے معاہدے کا مطالبہ کیا ہے جو صورت حال سے مطابقت رکھتی ہو۔

آئی پی سی سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زمین کی سطح کا درجہ ہرارت 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا 2011 سے 2020 کے درمیان رہا۔ دونوں ادوار کے درمیان1.09 سینٹی گریڈ کا فرق ہے۔

دوسری جانب امریکا کے وزیر خارجہ انتوتی بلنکن کا رپورٹ کے اجرا کے بعد کہنا تھا کہ یہ وقت عالمی رہنمائوں، نجی شعبے اور انفرادی حیثیت میں متحد ہونے کا ہے اور ہو وہ اقدام کیا جانا چاہیے جس سے ہمارا سیارہ محفوظ ہوسکے۔ موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہے۔یہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔
آئی پی سی سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زمین کی سطح کا درجہ ہرارت 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا 2011 سے 2020 کے درمیان رہا۔ دونوں ادوار کے درمیان1.09 سینٹی گریڈ کا فرق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انگریز دور میں مسلمانوں کی حالت زار

گذشتہ پانچ برس 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے۔دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90فیصد) انسانی عوامل ہیں۔یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

اگر اگلے چند سالوں میں گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں کی گئی تو ایسا 2040 سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ہم نے آج تک جس گرمی کا تجربہ کیا ہے اس نے ہمارے بہت سے سیاروں کے سپورٹ سسٹم میں تبدیلیاں کی ہیں جو ناقابل واپسی ہیں۔سمندر گرم ہوتے رہیں گے اور مزید تیزابیت کا شکار ہوجائیں گے۔ پہاڑی اور قطبی گلیشیر کئی دہائیوں یا صدیوں تک پگھلتے رہیں گے۔سمندر کی سطح میں اضافے کی بات کی جائے تو، سائنسدانوں نے مختلف سطحوں کے اخراج کی ممکنہ حد کا نمونہ بنایا ہے تاہم اس صدی کے اختتام تک تقریباً دو میٹر اضافے اور 2150 تک پانچ میٹر اضافے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔اس طرح کے نتائج 2100 تک سیلاب کے باعث ساحلی علاقوں میں مزید لاکھوں لوگوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  قانونی اصلاحات کیلئے لابنگ

ایک اہم پہلو درجہ حرارت میں اضافے کی متوقع شرح ہے، اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انسانیت کی حفاظت کے لیے اس اضافے کا کیا مطلب ہے۔اس رپورٹ کے مصنفین کا خیال ہے کہ تمام منظرناموں کے جائزے سے واضح ہے کہ 2040 تک عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری تک اضافہ ہو جائے گا۔ اگر اگلے چند سالوں میں گیسوں کے اخراج میں کمی نہیں کی گئی تو ایسا 2040 سے پہلے بھی ہو سکتا ہے۔

اس طرح کے نتائج 2100 تک سیلاب کے باعث ساحلی علاقوں میں مزید لاکھوں لوگوں کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔

90 ممالک کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نقصانات کو روکنے والے ان کے منصوبے پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی آفات سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں دن بدن شدت آتی جا رہی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی موافقت کے منصوبوں پر کام کرنے والے ترقی پذیر ممالک کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن اقوام متحدہ کے مطابق اس بات کے محض محدود شواہد موجود ہیں کہ ان منصوبوں نے کسی خطرے کو کم کیا ہو۔ ہمارے موجودہ منصوبے لوگوں کی حفاظت کے لیے کافی نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  Historical Images of Pakistan

صنعتی دور شروع ہونے کے بعد سے دنیا پہلے ہی تقریباً 1.2 سینٹی گریڈ تک گرم ہو چکی ہے اور یہ درجہ حرارت تب تک بڑھتا رہے گا جب تک کہ دنیا بھر کی حکومتیں گیسوں کے اخراج پر قابو نہیں پا لیتیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں