Hazrat_Umar_Farooq

خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

EjazNews

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کو حضورﷺ نے بارگاہ خداوندی میں جھولی پھیلا کر مانگا تھا، اسی وجہ سے آپ کو ’’مرادِ مصطفیٰؐ‘‘ کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔ آپؓ عشرہ مبشرہ ؓ جیسے خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں شامل ہیں، جنہیں دنیا میں ہی حضورﷺ نے جنت کی بشارت دے دی تھی۔آپ ؓ کی تائید میں بہت سی قرآنی آیات نازل ہوئیں، آپ کی شان میں چالیس کے قریب احادیث نبویﷺ موجود ہیں،آپؓ کی صاحب زادی حضرت سیّدہ حفصہؓ کو حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ اور مسلمانوں کی ماں(ام المؤمنین) ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کا مسلمان ہو جانا فتح اسلام تھا۔ان کی ہجرت ’’نصرت الٰہی‘‘ اور ان کی خلافت اللہ تعالیٰ کی رحمت تھی۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عمرؓ! قسم ہے اس ذات پاک کی، جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جب تمہیں شیطان کسی راستے پر چلتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے کو اختیار کر لیتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا: بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے عمر فاروقؓ کی زبان اور ان کے دل پر حق کو (جاری) قائم کر دیا ہے۔(ترمذی) ایک روز سرکار دو عالم ﷺ گھر سے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور آپ ﷺ کے ہمراہ دائیں بائیں ابو بکر ؓ وعمرؓ بھی تھے۔آپ ﷺ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، اسی حالت میں آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز ہم اسی طرح اٹھیں گے۔ (ترمذی) ایک اور موقع پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کے دو وزیر آسمان والوں میں سے ہوتے ہیں اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں، میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے جبرائیلؑ اور میکائیلؑ ہیں اور زمین والوں میں سے دو وزیر ابو بکرؓ و عمرؓ ہیں۔(ترمذی)ایک موقع پر حضورﷺ نے فرمایا: میرے بعد ابو بکرؓ و عمرؓ کی اقتدا کرنا۔(مشکوٰۃ)

سیدنا حضرت عمر فاروقؓجب کسی صوبے یا علاقے میں کسی کو گورنر وغیرہ مقرر کرتے تو اس کی عدالت و امانت لوگوں کے ساتھ معاملات کے بارے میں خوب تحقیق کرتے۔ پھر اسے مقررکرنے کے بعد اس کی مسلسل نگرانی بھی کرواتے۔ رعایا کو حکم تھاکہ میرے حکام (گورنرز) سے کسی کو بھی کوئی شکایت و تکلیف پہنچے تو وہ بے خوف وخطر مجھے اطلاع دیں، آپ ؓ اپنے مقرر کردہ حکام کی ذرا ذرا سی بات پر گرفت کرتے اور انہیں مقرر کرتے وقت ایک پروانہ لکھ کر دیتے جس پر یہ ہدایات درج ہوتیں! باریک کپڑا نہ پہننا،چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھانا، اپنے دفتر کا دروازہ بند نہ کرنا، کوئی دربان نہ رکھنا، تاکہ جس وقت بھی کوئی حاجت مند تمہارے پاس آنا چاہے،بے روک ٹوک آجاسکے بیماروں کی عیادت کرنا،جنازوں میں شرکت کرنا۔

حضرت عمر فاروقؓ اپنی رعایا کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت و آرام کا بہت خیال رکھتے اور ان کی شکایات کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتے۔ آپؓ کا یہ معمول تھا کہ ہر نماز کے بعد مسجد کے صحن میں بیٹھ جاتے اور لوگوں کی شکایات سنتے ہوئے موقع پر احکام جاری کرتے،راتوں کو گشت کرتے اور سفر میں راہ چلتے لوگوں سے مسائل وحالات پوچھتے، دور دراز علاقوں کے لوگ وفود کی صورت میں حاضر ہو کر اپنے مسائل وغیرہ سے آگاہ کرتے اور بعض مرتبہ آپؓ مختلف علاقوں کا خود دورہ کر کے لوگوں کے مسائل وشکایات کو دور کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:  شب قدر(ایک رات جو ایک ہزار مہینے سے بہتر ہے)

قیامِ امن کی عملی کاوشیں:
اسلام میں امن کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ،آپ کے دورِ خلافت میں جو علاقے اسلامی سلطنت کے زیر نگیں آئے یا جو پہلے سے موجود تھے، ان میں عدالتی نظام کو فعال کیا، مفتوحہ علاقوں میں بنیادی طور پر دو کام کیے ، وہاں کے باسیوں کو دین اسلام کی تعلیم سے آشنا کیا اور دوسرا وہاں عدالتیں قائم کر کے قیام امن اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا۔ آپ نے قانون کے علمی ماخذ کے طور پر قرآن و سنت کے بعد قضائے صالحین کو درجہ دیا۔ سنن نسائی میں آپ کا وہ خط بھی موجود ہے جو آپ نے قاضی شریح کے نام لکھا تھا اور اس میں قانون کے علمی مآخذ کے طور پر قرآن وسنت اور قضائے صالحین کا تذکرہ موجود ہے۔ اس سے ہمیں قرآن و سنت کے بعد صالحین یعنی دین کے ماہرین کے فیصلوں پر عمل کرنے کا درس ملتا ہے۔

کمال دیانت وبلندی اخلاق:
اسلام باہمی مشاورت پر زور دیتا ہے، تاکہ خیر کے پہلو زیادہ سے زیادہ سامنے آئیں اور نقصان دہ پہلو سے بچا جا سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اس کی عملی نمونہ تھی، خلیفہ وقت میں عدالت، دیانت، تقویٰ، علم دین سے واقفیت، انتظامی امور میں اہلیت اور احکام شریعت کے نفاذ کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جو اسے عوام ممتاز کر دیتی ہے، اس کے باوجود آپ اپنے مشیروں کی بات کو اہمیت دیتے تھے، اور ان کی حوصلہ افزائی فرماتے جس سے آپ کی کمال دیانت اور عاجزی چھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔

سربراہ کا عام معیار زندگی:
سربراہ کے طرز زندگی کے اثرات رعایا پر پڑتے ہیں، اگر حکمران انصاف پسند، قناعت پسند اور سادگی پسند ہو تو عوام میں ظلم وتشدد، خواہش پرستی جنم نہیں لیتی جس کی وجہ سے معاشرہ سکون و راحت کی زندگی بسر کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجودیہ کہ بڑی سلطنت کے فرماںروا تھے، لیکن مزاجاً سادگی اورقناعت پسندی کے خوگر تھے۔ تاریخ ایسے کئی واقعات کی شہادت دیتی ہے چنانچہ ہرمزان سلطنت کا حکمران جب قید ہو کر آیا تو اس نے دیکھا کہ آپ ؓ مسجد کے فرش پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے ہیں۔

بیت المقدس کی فتح کا مشہور واقعہ سیرت و تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے: سن 46 ھ میں جب حضرت عمرو بن عاص ؓ بیت المقدس کا محاصرہ کیا تو وہاں کے اہل کتاب علماء نے کہا:تم بلاوجہ تکلیف اٹھاتے ہو، بیت المقدس کو فتح کرنے والا کا حلیہ اور علامات ہماری کتابوں میں موجود ہے ،اگر تمہارے امام میں وہ سب باتیں موجود ہیں تو ہم آپ کو بیت المقدس حوالے کر دیںگے ،چنانچہ آپ ؓکو اس بارے اطلاع کی گئی، آپ اپنے ایک غلام کے ہمراہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر عازم سفر ہوئے، زادِراہ میں چھوہارے اور جو کے سوا کچھ نہ تھا، اونٹ پر سوار ہونے کی باریاں مقرر کیں، کبھی آپ خود سوار ہوتے اور غلام پیدل چلتا، کبھی غلام سواری پر سوار ہوتا اور آپ پیدل چلتے، آپ نے جو کرتہ زیب تن کیا ہوا تھا، اس میں پیوند لگے ہوئے تھے، جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے آپ کے لیے ایک عمدہ جوڑے اور گھوڑے کا انتظام کیا، آپ نے نیا لباس پہنا، گھوڑے پر سوار ہوئے چند قدم کے بعد فرمانے لگے کہ میرے نفس پر اس کا برا اثر پڑ رہا ہے، لہٰذا مجھے میرے وہی کپڑے اور اونٹ واپس کرو، چنانچہ اسی پر سوار ہوئے اور بیت المقدس پہنچے، اہل کتاب علماء نے آپ کا حلیہ مبارک اور علامات دیکھی تو برملا کہہ اٹھے کہ ہاں فاتح بیت المقدس یہی ہیں اور آپ کے لیے اس کے دروازے کھول دیے۔اس سے ہمیں سربراہ کے عام معیار زندگی، سادہ مزاجی اور صبر وشکر کا درس ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی معاشرے کے سنہری اصول

انسانی حقوق میں مساوات:
آپ نے اسلام کی نافذ شدہ تعلیم مساوات کو مزید آگے بڑھایا ،چنانچہ کسی علاقے کے حاکم، گورنر بلکہ خود خلیفۃ المسلمین کو یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں پر ترجیح دے ،جو وظیفہ بدریوں کو ملتا ،وہی آپ لیتے تھے۔ اس سے ہمیں مساوات کا درس ملتا ہے۔

حقوق نسواں کا حقیقی تصور:
اسلام میں خواتین کو بہت بلند مقام حاصل ہے اور خواتین میں سب سے اہم عنصر حیا اور تقدس کا ہے۔ آپ نے ان کے عزت اور حقوق کو محفوظ کرنے کے لیے حجاب کو لازمی سمجھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی رائے کی موافقت میں قرآن کریم نازل فرما کر حجاب کو ضروری قرار دیا۔خواتین کے لیے رائے کی آزادی بھی حقوق نسواں کے ذیل میں آتی ہے، چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ نے دوران خطبہ خواتین کے مہنگے مہنگے حق مہر کے بارے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تو ایک عورت نے کہا: اے عمر،آپ ہمارے مہروں کو کس طرح کم کرسکتے ہیں ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سونے کے ڈھیر تک مہر لینے کا حق دیا ہے اور قرآن کریم سورۃ النساء کی آیت نمبر 20 بھی تلاوت کی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس پر بہت خوش ہوئے اور خاتون کو عزت بخشتے ہوئے فرمایا: مدینہ کی خواتین عمر سے زیادہ دین کی سمجھ رکھتی ہیں۔ اس سے ہمیں حجاب، آزدی اظہار رائے اور خواتین کی سماجی عزت و احترام کا درس ملتا ہے۔

مفتوحہ علاقوں کے نظم و نسق:
آپ 22 لاکھ 51 ہزار 30 مربع میل زمین پر حکمرانی کرنے والے انصاف پرور حکمراں تھے۔ اس کے باوجود آپ مفتوحہ علاقوں کی کثرت پر زور دینے کے بجائے ان کے باسیوں کی تربیت کو ترجیح دیتے۔ آپ نے دمشق، بصرہ، بعلبک، شرق، اُردن، یرموک، قادسیہ، اہواز، مدائن، ایران،عراق، تکیت، انطاکیہ، حلب، بیت ا لمقدس، نیشاپور، الجزیرہ، قیساریہ، مصر، اسکندریہ، نہاوند اور دیگر علاقوں کو فتح کیا۔ ان میں تربیتی اور تعلیمی مراکز قائم کیے، کھلی کچہریاں لگوائیں، فوری انصاف کو یقینی بنایا، عوام الناس کی شکایات کو دور کرنے کے لیے احکامات جاری کئے۔ روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی ضرورتوں کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔اس سے ہمیں اپنے نظام زندگی میں نظم و نسق کا درس ملتا ہے۔

اقلیتوں سے حسن سلوک:
ایسے کفار جو مسلمانوں سے نہ لڑیں اسلام ان سے حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حمص کو حاصل کرنے کے لیے بطور سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، انہوں نے اسے فتح کیا اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا ،لیکن جب انہیں جنگ یرموک کے لیے حمص چھوڑنا پڑا تو انہوں نے یہ کہہ کر جزیہ واپس کر دیا کہ اب جب ہم آپ کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتے تو ہمیں جزیہ لینے کا بھی حق نہیں۔ جب مسلمان حمص سے لوٹنے لگے تو وہاں کے غیر مسلم بھی اس عادلانہ نظام سے محروم ہونے پر رونے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:  رشتے داروں سے مضبوط تعلقات

بیت المقدس فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے مذہبی پیشوا کے ساتھ شہر کی متعدد عبادت گاہوں کو دیکھا، آپ معائنہ فرما رہے تھے کہ اتفاق سے نماز کا وقت ہوگیا، انہوں نے آپ اور آپ کے رفقاء کے لیے صفیں بھی بچھا دیں کہ آپ یہاں نماز ادا کرلیں ،لیکن آپ نے یہ کہہ کر انکار فرمادیا کہ اگر ہم نے یہاں نماز پڑھ لی تو کل کو کوئی یہاں مسجد بنانا نہ شروع کردے، میں نہیں چاہتا کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں ہم کسی طرح کا حق قائم کریں۔ اسی طرح اہل ایلیا کے غیر مسلموں سے آپ نے معاہدہ امن کیا کہ یہ امن جو ان کو دیا جاتا ہے، ان کی جانوں، مالوں، ان کے گرجائوں اور ان کی صلیبوں، ان کے بیماروں، تندرستوں اور ان کے جملہ اہل مذاہب کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے گرجا گھروں میں رہائش نہ رکھی جائے، انہیں گرایا نہ جائے، انہیں اور ان کے احاطوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور نہ ہی ان پر دین کے بارے جبر کیا جائے۔اس سے ہمیں اقلیتوں سے حسن سلوک کا درس ملتا ہے۔

دیگرسماجی ورفاہی خدمات:
قرآن کریم کی تعلیم کے لیے مکاتب و مدارس قائم کیے، قاری صاحبان اور ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر فرمائیں، اسلامی تقویم کا آغاز ہجرت نبوی سے شروع فرمایا اور اس کا ابتدا محرم سے فرمائی، مسجد حرام اور مسجد نبوی کی توسیع فرمائی، عرب و عجم کے سنگم پر مرکز علم کوفہ کو آباد فرمایا، دریائے نیل کو بحیرہ قلزم سے ملانے کے لیے نہر سویز کھدوائی جس کی وجہ سے نفع بخش تجارت نے فروغ پایا، محکمہ ڈاک قائم کیا، شہر کے اندرونی حالات کو درست رکھنے کے لیے محکمہ پولیس قائم کیا، فوج کو سرحدیں اور محاذ سپرد کیے، بیت المال تعمیر کرائے، اپاہج، معذور اور ضعیف لوگوں کے وظائف بیت المال سے مقرر فرمائے، مسافروں کے لیے شاہراہوں پر مسافر خانے تعمیر کرائے، لاوارث بچوں کے تربیتی مراکز قائم کیے، دریائے نیل کے نام خط جاری فرمایا، اورقیصر و کسریٰ جیسی سپر پاور طاقتیں پاش پاش ہوئیں۔ مورخین کے محتاط اندازے کے مطابق آپ کے زمانہ خلافت میں 3600 علاقے فتح ہوئے۔ 900جامع مساجد اور4000عام مساجد تعمیر ہوئیں۔اس سے ہمیں تعمیر وطن، خوشحالی اور ترقی، اہل علم کی قدر، مستحق افراد کی معاونت، یتیموں کی کفالت کا درس ملتا ہے۔

سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کی شان و شوکت اور فتوحات اسلامی سے باطل قوتیں پریشان تھیں۔ 27 ذوالحجہ 23ھ کو آپؓ حسب معمول نماز فجر کےلیے مسجد میں تشریف لائے اور نماز شروع کروائی۔ ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ ایک شخص ’’ابو لولو فیروز مجوسی‘‘ جو پہلے سے ہی ایک زہر آلود خنجر لئے مسجد کی محراب میں چھپا ہوا تھا، اس نے خنجر کے تین وار آپؓ پر کئے جس سے آپؓ کو کافی گہرے زخم آئے۔ آپؓ بے ہوش ہو کر گر گئے، اس دوران قاتل کو پکڑنے کی کوشش میں مزید صحابہ کرامؓ زخمی ہو گئے ۔سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے زخم درست نہ ہوئے اور پانچویں روز ’’یکم محرم الحرام‘‘ کو 63 برس کی عمر میں ’’جام شہادت ‘‘ نوش کیا۔حضرت صہیبؓ نے آپؓ کا جنازہ پڑھایا اور ’’روضہ نبویؐ‘‘ میں خلیفہ اول سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کے پہلو میں دفن ہونے کی ابدی سعادت پائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں