Shah_Mahmood_Qureshi

پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن گارنٹر نہیں ہے:وزیر خارجہ

EjazNews

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان نے درخواست دی تھی، جس کو قبول نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے جنہیں ہم مسترد کرتے ہیں۔

دوسروں کی ناکامی پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا افسوس ناک ہے۔ ہم نے افغانستان سے کہا کہ وہ الزام تراشی سے پرہیز کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سلامتی کونسل میں افغان نمائندے کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے لیکن گارنٹر نہیں ہے۔

وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔پاکستان افغانستان کا اہم ہمسایہ اور سٹیک ہولڈر ہے۔ پاکستان کی مدد سے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  HBL-PSL5۔ہوم کرائوڈ ،ہوم گرائونڈ مقابلہ سخت ہونے والا ہے

انہوں نے کہا کہ افغان عوام کو اپنے مستقبل کا انتخاب کرنے دیں۔کوئی آرمی حل نہیں ہے، مذاکرات، سیاسی حل ہو سکتا ہے، یہ حقیقت ہے جس کو اب بین الاقوامی برادری بھی تسلیم کر رہی ہے۔افغانستان کے مسئلے کا حل صرف سیاسی مذاکرات ہیں۔پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کیا ہے۔پاکستان کو افغانستان میں بڑھتے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات ہیں۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ افغانستان میں ہمارا کوئی فیورٹ نہیں ہے۔اگر افغان مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کامیابی کا سہرا افغان قیادت کے سر ہوگا، ناکام ہوا تو بھی ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔افغانستان میں قیام امن ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، عالمی برادری کو بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں