Bangladesh

صرف چین نہیں بنگلہ دیش سے بھی بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے؟

EjazNews

گزشتہ 20برسوں میں بنگلہ دیش کی فی کس جی ڈی پی میں 500فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ پاکستان سے اڑھائی گنا زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش جس کا انفرا سٹرکچر 1971ء میں تباہ ہو گیا تھا اب اسکی معیشت پاکستان کے مقابلے میں تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے۔

کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے انٹرنیشنل تھنک ٹینک ہیڈ کوارٹرز سے گزشتہ ہفتے شائع ہونیوالے اعداد کے مطابق بنگلہ دیش نے اقتصادی چیلنجوں کا بڑی دانش مندی سے مقابلہ کیا ہے اور بنگلہ دیشی معیشت کے اعشاریئے پاکستانی معیشت سے میلوں دور نکل گئے ہیں۔

ٹورنٹو کے انٹرنیشنل تھنک ٹینک کے مطابق بنگلہ دیش کی گروتھ پاکستان کے مقابلے میں کووڈ 19کے باوجود مضبوط ہو رہی ہے۔ 2018-19ء میں بنگلہ دیش کی اقتصادی شرح نمو  7.8فیصد تھی جبکہ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 5.8 فیصد تھی۔ آج پاکستان اور بنگلہ دیش کی معیشت کوسوں فاصلے پر پہنچ چکی ہے کیونکہ دونوں ملک قومی مفادات کو مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں ہر معاشی فیصلہ بہترین قومی مفاد میں ہوتا ہے جبکہ تھنک ٹینک کے مطابق پاکستان میں صورتحال بنگلہ دیش سے مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانسیسی صدر نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروع کیا:وزیراعظم عمران خان
الی سال 2020ء میں جب کورونا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتیں سکڑ گئی تھیں بنگلہ دیش کا گروتھ ریٹ پانچ اعشاریہ چوبیس فیصد تھا۔

بنگلہ دیش اپنا مستقبل انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن ڈیویلپمنٹ) اور اقتصادی فروغ (Economic Growth) میں دیکھتا ہے۔ بنگلہ دیش نے ایکسپورٹس میں اضافے کو اپنی منزل بنایا ہوا ہے-اسی کے ساتھ بیروزگاری میں کمی‘ صحت کی سہولیات میں اضافہ‘ غیرملکی قرضوں اور امداد پر کم انحصار کرتا ہے۔ اسکے علاوہ مائیکرو کریڈٹ پروگرام میں چھوٹے چھوٹے قرضوں کے اجراء میں توسیع کو اپنا نصب العین بنایا ہوا ہے جبکہ (International Forum For Rights and Security) کے مطابق بنگلہ دیش کی معجزانہ سٹوری کچھ یوں ہے۔

بنگلہ دیش کی گروتھ ریٹ پہلے پاکستان سے کہیں پیچھے تھی۔ آئی ایف ایف آر اے ایس کے مطابق بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر مئی 2021ء میں 45ارب 10کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے حالانکہ کووڈ 19کی وباء آ چکی تھی جبکہ جون 2021ء میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17ارب 10کروڑ ڈالر سے کچھ ہی زیادہ تھے۔ مالی سال 2020ء میں جب کورونا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتیں سکڑ گئی تھیں بنگلہ دیش کا گروتھ ریٹ پانچ اعشاریہ چوبیس فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  13جولائی1931کے 22شہداءکو سلام پیش کرتے ہیں:وزیراعظم پاکستان

آئی ایف ایف آر اے ایس کے مطابق 2021ء میں بنگلہ دیش کی فی کس گروتھ 9فیصد بڑھی۔ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2227ڈالرز رہی جبکہ پاکستان کی سالانہ فی کس آمدنی 1543ڈالر رہی۔ تھنک ٹینک کے مطابق بنگلہ دیشی معیشت کا سنگ میل مائیکرو اکنامک سٹیبلٹی ہے۔ اس میں اب 271گنا اضافہ ہواہے۔

دو عشروں میں بنگلہ دیش پاکستان سے اقتصادی اعشاریوں میں کہیں آگے نکل چکا ہے۔ ان 20 سالوں میں آئی ایف ایف آر اے ایس کے مطابق بنگلہ دیش کی فی کس سالانہ آمدنی میں 500فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں گارمنٹس فیکٹریاں ہیں‘ بنگلہ دیش ایسا ملک ہے جہاں کپاس پیدا نہیں ہوتی۔ وہ کئی سو ملین ڈالر کی کپاس درآمد کر کے ویلیو ایڈڈ گارمنٹس دنیا بھر کو برآمد کر رہا ہے۔ صرف ریڈی میڈ گارمنٹس سے اسکی آمدنی 35ارب ڈالر سالانہ ہو گئی ہے۔

انٹرنیشل تھنک ٹینک کے مطابق بنگلہ دیش کے برعکس پاکستان اگرچہ کپاس اگانے والا ملک ہے مگر وہ بنگلہ دیش کے تناسب سے ٹیکسٹائل پروڈکٹس اور گارمنٹس کی ایکسپورٹ آدھی بھی نہیں کر پا رہا۔ پاکستان کی گارمنٹس اور ٹیکسٹائل پراڈکٹس کی ایکسپورٹ زیادہ سے زیادہ 10ارب ڈالر ہے البتہ پاکستان اب کپاس درآمد کر رہا ہے۔ پاکستان میں انوویشن (Innovation) کا فقدان ہے کیونکہ یہاں پر جاگیر دارانہ قبائلی سٹرکچر ہیں جو پاکستان میں زرعی وسائل خاص طور پر کپاس کے حوالے سے بھی کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل میڈاپس کی برآمد بڑھا کر اپنی برآمدات بنگلہ دیش کی 35ارب ڈالر کی ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات سے آگے جا سکتاہے۔

یہ بھی پڑھیں:  10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہم اہداف ہیں:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں