Story-of-the-fox

رس بھرے انگور

EjazNews

بی لومڑی بہت چالاک اور مکار تھی لومڑی نے مکاری اور چالاکی سے شیر کوبھی بے وقوف بنا رکھا تھا۔ ایک دن لومڑی جنگل کی سیر کرتے ہوئے گزر رہی تھی کہ اس کی نظر خوب رسیلے انگوروں سے لدی بیل پر پڑی۔ اتنے مزد ار اور رسیلے انگور دیکھ کر لومڑی کے منہ میں پانی بھر آیا۔ وہ ان انگوروں کو دیکھ کر حیران ہو گئی۔ لومڑی نے سوچا اگر میں یہ انگور کھالوں تو کتنا مزہ آئے گا؟۔ اتنے رسیلے انگور میں نے آج تک نہیں کھائے۔

بی لومڑی ان انگوروں کو کھانے کے لیے ترکیب سوچنے لگی اور کچھ سوچ کر خوشی سے ایک دم اچھل پڑی مگر انگور توڑنے میں ناکام رہی۔ لومڑی نے انگور کھانے کے لیے دوبارہ چھلانگ لگائی۔ مگر اس بار بھی ناکام ہوئی لمڑی بری طرح ہانپ رہی تھی وہ سانس لینے کے لیے بیل کے سائے میں بیٹھ گئی مگر اس کی نظر بیل پر لٹکتے انگوروں پر رہی۔ وہ بار بار اپنے منہ میں آنے والے پانی کو پیتی اور زبان پر ہونٹ پھیرتی رہی۔ جب اس کی سانس بحال ہوئی تو وہ پھر ایک لمبی چھلانگ لگا کر اچھلی مگر اس بار بھی انگور اس کی گرفت میں نہ آسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  بادشاہ اور موچی صحرا میں

انگور بہت اونچی طرف لٹکے ہوئے تھے۔ اس لیے انگوروں کو پکڑنے کے لیے بی لومڑی کی تمام چھلانگیں ناکام ہو گئی تھیں۔لومڑی نے ساری قوت اکٹھی کر کے ایک لمبی چھلانگ لگائی مگر منہ کے بل زمین پر گری۔ لومڑی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے جس سے انگور مل جائیں؟۔آخر لومڑی نے آخری کوشش کی اور پوری ہمت سے چھلانگ لگائی اس بار بھی اسے انگوروں کی بجائے شرمندگی ملی۔ یوں اسے کئی بار کوشش کے ناکام ملی تو تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ گئی۔ لومڑی کو محسوس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے؟۔ مگر جب ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نظر نہیں آیا۔ لومڑی نے ایک بار پھر انگور حاصل کرنے کے لیے ایک بھرپور لمبی چھلانگ لگائی مگر تیزی سے زمین پر آگری۔ اس بار اس کی ٹانگ پر چوٹ بھی لگی۔ آخر تھک ہار کر لومڑی نے وہاں سے جانے کا ارادہ کیا اور دل پر ہاتھ رکھ کر ایک لمبی آہ بھری اور رسیلے انگوروں کو حسرت بھری نظروں س دیکھتے ہوئے بولی ’’چلو چھوڑ جی‘‘ ویسے دیکھنے میں انگور پکے اور رسیلے نظر آتے ہیں مگر انگور کچے اور یقیناً کھٹے ہی ہوں گے۔ اس لیے ایسے انگوروں کو کھانا نہیں چاہیے۔ بہتر یہی ہے کہ کہیں اور سے پکے اور رس بھرے انگور کھائے جائیں۔ لومڑی ٹانگ کو لنگڑاتی ہوئی جب چل پڑی تو سامنے درخت کی اوٹ میں چھپے خرگوش ، گلہریاں اور پرندے خوب جی بھر کر ہنسنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:  نمک کا تھیلا

اچھے بچو! ناکامی سے شرمندگی کی بجائے دوبارہ کوشش کا درس حاصل کرنا چاہیے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں