Zaaheer

نور مقدم قتل کیس ،اہم گواہ زخمی حالت میں گرفتار ،سکیورٹی فرم سےمتعلق انکشاف

EjazNews

پولیس نے نور مقدم قتل کیس کے اہم گواہ زخمی امجد کو بھی حراست میں لے لیا،ذرائع کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ امجد کا دفعہ 161 کے تحت بیان ریکارڈ کرلیا گیا ہے، امجد تھراپی سینٹر کا ملازم اور موقع کا اہم گواہ ہے، اس نے پولیس کو دئیے گئے بیان میں بتایا کہ تھراپی سینٹر کو ملزم کے والد نے کال کرکے اطلاع دی تھی، والد نے کہا ملزم کنٹرول سے باہر ہورہا ہے، ہم موقع پر تھراپی سینٹر کے 5 لوگ پہنچے تھے، ملزم نے پہلے مجھ پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی مگر گولی نہ چلی، ملزم نے چھری سے میرے پیٹ پر وار کیا تو میں زخمی ہوگیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ امجد کے بیان کے بعد مقدمے میں 324 کی دفعہ شامل کردی گئی ہے،امجد زخمی ہے اس لئے کاغذی کارروائی کے لیے زیر حراست ظاہر کیا ،پولیس کے مطابق امجد پر ملزم ظاہر جعفر کو کور اپ دینے کی کوشش کا بھی الزام ہے، امجد کا نام ملزمان کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے، گزشتہ دنوں نور مقدم قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواستیں عدالت نے مسترد کردی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  محمد عامر کا ورلڈ کپ کھیلنا مشکوک ہوگیا

دوسری جانب نور مقدم قتل کیس کی تحقیقات میں مبینہ قاتل ظاہر جعفر، اس کی ماں اور راولپنڈی کی ایک سیکورٹی فرم کے سربراہ کے درمیان غیرمعمولی رابطوں کا انکشاف ہوا ہے۔ قتل کی واردات والے دن گزشتہ 20 جولائی کو ظاہر کی والدہ عصمت ظاہر نے کراچی سے نجی سیکورٹی فرم ٹریلیم انفارمیشن سیکورٹی سسٹم کے سربراہ کو درجن بھر کالز کیں۔ اسی نمبر سے ظاہر بھی مصروف گفتگو رہا۔

پولیس کے خیال میں قتل شام 6:30 سے 7:30 کے درمیان ہوا۔ کم از کم ایک کال عصمت ظاہر نے 7:12 بجے سیکورٹی فرم کے سربراہ کو کی جبکہ ماں اور بیٹے کے درمیان گفتگو 7:29 بجے ہوئی۔ جس میں ظاہر نے عصمت کو نورمقدم کے قتل سے آگاہ کیا۔ اس کے فوری بعد اس نے سیکورٹی فرم کے سربراہ سے شام ساڑھے سات بجے رابطہ کیا اور 5 منٹ گفتگو کی۔ اس کے بھی 5 منٹ بعد ظاہر نے سیکورٹی فرم کے سربراہ سے رابطہ کر کے 5 منٹ بات کی۔ اس کے بعد بھی سیکورٹی فرم کے سربراہ اور عصمت میں تین بار رابطہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل کے دوسرے مرحلے کا آغاز آج شارجہ میں ہوگا

عدالت نے ظاہر کے والدین کی ضمانت دینے سے انکار کیا ان پر اعانت مجرمانہ کا شبہ تھا۔ اب مذکورہ رابطے تحقیقات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ رابطہ کرنے پر مذکورہ سیکورٹی فرم کے سربراہ نے کہا کہ ان کا مبینہ واردات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، جوکچھ کہا جا رہا وہ غلط ہے اور میرا مبینہ قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عصمت نے کراچی سے مختلف افراد سے دو سو رابطے کئے۔ عصمت نے جن لوگوں سے رابطے کئے ان میں سے کچھ نے تصدیق کی کہ انہوں نے کچھ ناگہانی کا قبل از وقت ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ 20 جولائی کو عصمت نے اپنے شوہر ذاکر جعفر سے دن میں نصف گھنٹہ بات کی۔ پھر ٹیکسٹ میسج بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں