Afghan_war_1

افغانستان میں جاری لڑائی گھمسان جنگ کی شکل اختیار کرگئی

EjazNews

طالبان نےصوبہ جوزجان کے صوبائی دارالحکومت شبر غان پر بھی قبضہ کرلیا ہے ، نمروز صوبے پر قبضے کے بعد یہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اندر ملک کے دوسرے صوبائی دارالحکومت پر طالبان کا قبضہ ہے۔

افغان وزارت دفاع کے ترجمان فواد عالم نے کہا ہے کہ شبر غان میں امریکی بی 52بمبار طیاروں کے فضائی حملوں میں 200 طالبان جنگجو مارے جاچکے ہیں۔

افغان میڈیا کےمطابق امریکی صدر جوبائیڈن نےقندھار، ہرات ، لشکر گاہ اور ہلمند میں طالبان کی پیش قدمی روکنے کیلئے بمبار طیاروں کو بمباری کی ہدایت کی تھی ، دوسری جانب کابل میں دو بم دھماکے ہوئے ، چہار اعصاب ڈسٹرکٹ میں بم دھماکے میں افغان فضائیہ کا پائلٹ ہلاک اور 5افراد زخمی ہوگئے ہیں،طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔بم افغان پائلٹ حمیداللہ عظیمی کی گاڑی میں نصب تھا ، افغان حکومت نے 350 طالبان جنگجوئوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے ،لڑائی میں فوج کا مرکزی کمانڈر اور طالبان کا شیڈو گورنر بھی مارا گیا ہے ۔

Afghan_war
افغانستان میں تشدد اورشہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اورسیکورٹی کی صورتحال بگڑ گئی

جنگ کا دائرہ صوبہ سنمگان تک پھیل گیا ہے ، طالبا ن اور غنی حکومت کی طرف سے کامیابیوں کے متضاد دعوے کئے گئے ہیں ، شبرغان سے تعلق رکھنے والے جنرل دوستم کے روپوش ہونے کی اطلاعات ہیں ، امریکا اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے، اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے 31 صوبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مودی کو اپنا بڑا بھائی قرار دے دیا

نیو یارک میں اقوام متحدہ کے نمائندے ڈیبورہ لیونز نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ہرات، قندھار اور لشکر گاہ کی صورت حال انتہائی سنگین ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے تشدد سے اب تک ایک ہزار سے زائد شہری مارے جاچکے ہیں، اقوام متحدہ میں چینی مستقل مشن کے ناظم الاموردائی بنگ نے کہا کہ افغانستان جنگ اورامن کے تاریخی دوراہے پر ہے۔سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو لڑائی کو پھیلنے سے روکنے اور افغانستان میں جاری جنگ کو روکنے میں مدد کرنی چاہیے،انہوں نے کہا کہ امریکی اورنیٹو افواج کےجلد بازی میں کئے گئے انخلا سے افغانستان میں تشدد اورشہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا اورسیکورٹی کی صورتحال بگڑ گئی۔

چین میں افغان سفیر جاوید احمد قائم نے کہا ہے کہ چین کو طالبان کے وعدوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، چین کا دورہ کرنے والے طالبان نے چین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ سنکیانگ کے باغیوں کی مدد نہیں کرے گا تاہم جاوید احمد کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایسا صرف علاقائی حمایت حاصل کرنے کیلئے کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ترکی میں کینال پراجیکٹ منصوبے کیخلاف 10ریٹائرڈ ایڈمرلز نظر بند

امریکی حکومت کی ترجمان جان ساکی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں عالمی سطح پر قانونی جوازفراہم کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو گی۔

انہوں نے طالبان کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جوزجان صوبے نائب گورنر قادر مالیا نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت شبرغان پر طالبان پوری طرح قابض ہو چکے ہیں۔ افغانستان کے معروف جنگی سردار عبدالرشید دوستم کا تعلق اسی شہر سے ہے۔ دوستم ترکی میں علاج کے بعد اسی ہفتے افغانستان پہنچے ہیں اور خیال ہے کہ اس وقت وہ ملکی دارالحکومت کابل میں موجود ہیں تاہم وہ منظر عام پر نہیں آئے ۔دوستم کے ایک قریبی دوست نے بھی شبرغان پر طالبان کے قبضے کی تصدیق کی ہے ۔ طالبان نے صوبہ نمروز کے دارالحکومت زرنج پر جمعے کو قبضہ کیاتھا۔

Taliban_miltary
امریکی حکومت کی ترجمان جان ساکی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی کارروائیاں عالمی سطح پر قانونی جوازفراہم کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو گی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں زرنج کے مقامی لوگ طالبان جنگجوؤں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ جنگجو بکتر بند اور دیگر گاڑیوں پر سوار ہو کر فاتحانہ انداز سے جشن مناتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ عیاں ہے۔ طالبان نے زرنج میں مرکزی جیل کے دروازے توڑ کر تمام قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے75ویں اجلاس میں ترک صدر نے کیا کہا ؟

مقامی حکام کے مطابق شہر میں طالبان کے داخلے سے قبل ہی مقامی فورسز ہتھیار ڈال چکی تھیں۔ اقوام متحدہ کے نمائندے ڈیبورہ لیونز نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خطرناک اور تباہ کن مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے افغانستان کا انفراسٹکچر بری طرح سے تباہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگر افغانستان میں بڑی جنگ ہوئی تو پڑوسی ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ افغانستان میں امن و سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

واضح رہے کہ بدھ کو امریکا ، روس ، چین اور پاکستان دوحہ میں افغانستان کی صورتحال پر مذاکرات کریں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں