kashmir_death

تحریک حریت کشمیر

EjazNews

جس خاک کے ضمیر میں ہو آتش چنار
ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

سر زمین کشمیر کے سب سے اوّلین مورخ پنڈت کلہن نے اپنی راج ترنگنی میں بارہویں صدی عیسوی میں لکھا ہے کہ ” کشمیر وہ ملک ہے جسے روحانی اوصاف سے فتح کیا جا سکتا ہے مسلح افواج سے نہیں۔“ کلہن کے اس آفاقی پےغام کو نظر انداز کرتے ہوئے کشمیر کی حسین وادی پر اس سے پہلے یا اس کے بعد باہر سے جو بھی نظر پڑتی اس میں ملک گیری کی ہوس اور حرص زیادہ کار فرما رہی ہے اس طرح سے کشمیر جارحوں، غاصبوں، لٹیروں اور ملک گیروں کے ہتھے چڑھتا رہا اور اس کے فطری حسن اور سادہ لوح مکینوں کی روح کو بیرونی غاصب صدیوں سے اپنے پاوں تلے روند رہے ہیں۔یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ اس ملک کی تاریخ ہر موڑ پر مسلح افواج کے ہاتھوں بہتے ہوئے انسانی خون سے رقم ہوتی رہی جب کہ اس کے محکوم اور مظلوم عوام اپنی آزادی کا پرچم بلند و بالا رکھنے کی غرض سے بے مثال جانی و مالی قربانیاں دیتے رہے اور آج بھی دے رہے ہیں۔

آگ اور خون کے سمندر سے گزرتی ہوئی کشمیر کی تحریک حریت کی تاریخ اتنی ہی طولانی ہے جتنی کہ کشمیری قوم کی داستان الم ہے۔ محمد بن قاسم نے سندھ اور پائینی پنجاب پر711ءاور 713ءکے عرصے میں قبضہ کر لیا اور اس کے بعد وہ ملتان سے روانہ ہوااور اپنے اسلحہ خانے کو سلطنت کشمیر کی سرحدوں تک لے گیا۔ عربوں کی اس پیش رفت کے عمل سے خوف زدہ ہو کر کشمیر کے راجہ چندر پیڈا نے اپنا ایک سفیر چین کے بادشاہ کے پاس بھیج دیا تاکہ عربوں کے خلاف چینی امداد حاصل کی جا سکے۔ا دھر سے اگرچہ کوئی چینی امداد حاصل نہیں ہو سکی لیکن اس کے ساتھ ہی یہاں محمد بن قاسم کو دمشق کے خلیفہ سلیمان کا بلاوا آ گیا۔ اس طرح سے کشمیر پر عربوں کی یلغار کے منڈلاتے ہوئے بادل وقتی طور پر ٹل گئے۔ خلیفہ ہشام(724ءتا743ء) کے دور میں سندھ کے عربوں نے اپنے حریص گورنر جنید کی سربراہی میں کشمیر کو ایک بار پھر للکارا۔ لیکن راجہ للتادتیہ نے(724ءتا 760ء) جو اس وقت فرمان روائے کشمیر تھا جنید کو شکست فاش دی اور اس کی سلطنت کو بھی مغلوب کر کے اس کے کئی حصوں پر اپنی بالا دستی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ جب خلیفہ منصور(754ءتا775ئ) کے عہد حکومت کے دوران ہشام بن امرات تغلیبی کو سندھ کا گورنر تعینات کیا گیا تو اس نے بھی وادی کشمیر پر ایک اور حملے کی کوشش کی اور وہ ہمالیہ کے جنوبی ڈھلوانوں تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوا۔ لیکن وادی میں داخل ہونے کے سلسلے میں اسے بھی ناکامی کا منہ دےکھنا پڑا۔”یہ عربوں کی طرف سے کشمیر کو تسخیر کرنے کی آخری کوشش تھی۔“(1)

محمود غزنوی نے بھی جب1015ءمیں کشمیر کو زیر کرنے کا ارادہ کر لیا تو اس نے جہلم کی طرف کوچ کیا جو دریائے جہلم کے مغربی کنارے پر لاہور سے کوئی ایک سو میل شمال مغرب میں واقع ہے غزنوی توسہ میدان کے درے سے کشمیر کی وادی میں داخل ہونے کے لیے پر تولنے لگا مگر اس کی پیش قدمی کو اس درے کے پاس پونچھ کی حدوں میں واقع لوہار کوٹ کے سنگین قلعے کی وجہ سے رکاوٹ پیش آ گئی۔ محمود نے اس قلعے کو ایک ماہ تک اپنے قبضہ میں رکھا لیکن اس سے وہ کوئی عسکری فائدہ حاصل نہیں کر سکا۔ اسی دوران زبردست برف باری اور موسم کی خرابی نے اسے اپنا محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کر لیا۔ واپس لوٹتے وقت غزنوی اپنا ہی راستہ بھول گیا اور اس ناگہانی آفت کے جال میں پھنس کر اس کے کئی فوجی اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ خود محمود غزنوی مشکل اپنی جان بچا سکا۔ بامزئی لکھتے ہیں کہ اس موقع پر کشمیریوں نے بھی اس کے خلاف اپنی طرف سے زبردست مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔(2)

کشمیر کو فتح کرنے کی خواہش محمود کے دل میں اب بھی موجیں مار رہی تھی۔ وہ دوسری بار ستمبر اکتوبر1021ءمیں غزنوی سے روانہ ہو کر اس ملک پر حملہ آور ہوا اور اپنا پرانا راستہ اختیار کر کے پھر لوہار کوٹ پہنچا۔ اسے پہلی ہی جیسی ناموافق اور جان لیوا صورت حال اور موسم کا سامنا کرنا پڑا۔ محمود ناچار واپس بھاگنے پر مجبور ہوا اور ان ناکام کوششوں کے بعد اس نے پھر کبھی کشمیر کو اپنے تسلط میں لانے کی جرات نہیں کی ۔(3)

عرب حملہ آوروں کے ناکام حملوں کی زد سے اپنے آپ کو قطعی طور پر محفوظ پا کر اہل کشمیر نے پھر ایک بار اپنے حسین و جمیل ملک کی اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی زندگی کو رنگ روغن بخشنے کی کارروائیاں شروع کیں۔ اس طرح سے کم و بیش چار سو سال کے عرصے پر پھیلے ہوئے ایک خود مختار کشمیر میں امن اور آسودہ حالی کا بول بالا رہا۔یہ اہل کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ اس دوران انھیں چند ایسے حکمران نصیب ہوئے جو اپنی رعایا کے ہر دکھ سکھ میں شریک ہونے کے ساتھ عام انسانوں کی فکری پرداخت اور ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی خاطر ان تھک کوشش کرتے رہے۔

پندرھویں صدی عیسوی کے آس پاس کشمیر میں سنی اور شیعہ فرقوں میں چند فروعی مسائل پر اختلافات نے ایک تشویشناک شکل اختیار کر لی۔ اس وجہ سے ملک میں سارا انتظامیہ کم و بیش مفلوج ہو کر رہ گیا اور دونوں فرقوں کے حکام۔ علماءاور اکابرین ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو گئے۔ ان سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں کشمیر سے باہر کی قوتوں کویہاں کے مقامی امور میں مداخلت یا فوجی یا سےاسی حمایت کی جو دعوتیں بار بار دی جاتی رہیں ان کا نتیجہ بالآخریہ نکلا کہ کشمیر اپنی آزادی اور خود مختاری سے محروم ہو گیا۔

اکبر اعظم نے 20دسمبر1585ءکو راجہ بھگوان داس کی کمان میں پانچ ہزار گھوڑ سواروں پر مشتمل فوج کو اٹک سے ہوتے ہوئے وادی جہلم کے راستے کشمیر پر یلغارکرنے کے احکامات صادر کیے۔ ادھر شہزادہ یعقوب اور دیگر درباریوں نے سلطان یوسف شاہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ سختی کے ساتھ مقابلہ کرے لیکن یوسف شاہ غالباً اپنی کم ہمتی کے سبب اس معرکے کے منفی انجام سے خوف زدہ تھا۔ شہزادہ یعقوب نے اپنے والد کے ساتھ اختلاف کرتے ہوئے مغل حملہ آوروں کا بے جگری سے مقابلہ کیا جب وہ کشمیر کی وادی کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ یعقوب شاہ نے اپنی حب الوطنی سے سرشار جذبات کو اپنی جوان مردی کی آنچ دے کر مغل فوج کا ایسا مقابلہ کیا کہ راجہ بھگوان داس کو اپنی ہزیمت سامنے نظر آئی اور اس نے یوسف شاہ اور اس کے محب وطن فرزند سے مصالحت کی پیش کش کی۔ اس صلح نامہ کی رو سے مغل اپنی ساری فوج واپس لینے پر آمادہ ہوئے۔ یوسف شاہ کو بدستور تاج و تخت کا والی تسلیم کیا گیا لیکن مغلوں کویہ مراعت دینا قرار پایا کہ سکوں پر اور خطبات میں شہنشاہ اکبر کے نام کا استعمال کیا جائے گا۔

بھگوان داس نے یوسف شاہ کو ترغیب دی کہ وہ اس کے ساتھ شہنشاہ سے ملاقات کی غرض سے اٹک جائے جہاں اکبر نہ صرف اس کی تعظیم و تکریم کرے گا بلکہ اس عہد نامہ مالحت کی توثیق بھی کرے گا۔ یعقوب شاہ نے اپنے والد کو اس سفر کے خلاف مشورہ دیتے ہوئے اس کے تشویش ناک انجام سے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ بہرحال یوسف شاہ کو 28مارچ1586ءکو اٹک میں اکبر کے سامنے پیش کیا گیا لیکن مغل بادشاہ نے نہ صرف یہ کہ عہد نامہ پر مہر تصدیق ثبت کرنے سے انکار کر دیا بلکہ اس نے سلطان یوسف شاہ کو بھی قید خانے میں ڈال دیا۔

ایک غیرت مند راجپوت ہونے کے ناطے راجہ بھگوان داس نے اکبر کی اس فریب کاری کو اپنے لیے زبردست توہین تصور کر کے خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ جب اکبر لاہور پہنچا تو اس نے یوسف شاہ کو توڈدرمل کی تحویل میں دے دیا۔

ڈھائی سال حراست میں رہنے کے بعد راجہ مان سنگھ کی مداخلت سے یوسف شاہ کو رہائی نصیب ہوئی۔ مان سنگھ یوسف شاہ کو اپنے ساتھ بہار کے صوبے میں لے گیا جہاں کشمیر کے اس آخری سلطان نے اپنی محبوبہ حبہ خاتون کی یاد اور جدائی کا کرب سہتے سہتے ایک عالم بے بسی میں14 ذی الحج1000ھ مطابق22ستمبر1592ءکو وفات پائی اور اسے پٹنہ ضلع میں بسوک نامی ایک ویران گاوں میں سپرد خاک کیا گیا۔


پروفیسر حسن عسکری بسوک اور یوسف شاہ اور یعقوب شاہ کی خستہ حال قبروں کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں بسوک کی جگہ پٹنہ ضلع کے اسلام پور سے شمال مشرق میں تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس گاوں کے نزدیک ایک ٹیلا ہے جس کے بارے میں کوئی تاریخی شہادت موجود نہیں ہے کہ وہاں اصل میں کیا تھا۔ اس جگہ کان کنوں کو اکثر سونے اور تانبے کے سکے ملے ہیں جن میں شاہجہانی عہد کے سونے کے سکے بھی شامل ہیں۔یہاں پر دو قبریں ہیں جو مبینہ طور پر شاہ یعقوب اور یوسف شاہ کی بتائی جاتی ہیں۔ گاوں کے لوگ ان دو شخصیتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے البتہ بسوک سے تھوڑے سے فاصلے پر ایک اور گاوں کشمیری چک کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جواب محض کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔(4)

کشمیر پر مغلوں کی پر فریب گرفت اور یوسف شاہ کی پسپائی کے بارے میں مورخ ڈیو جارک لکھتا ہے کہ لوگ کہتے ہیںیہ سلطنت(کشمیر) اس خطے میں سب سے زیادہ ناقابل تسخیر تھی اوریہ کہ مغل اعظم کسی بھی صورت میں اسے مغلوب نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن کشمیر کے باشندوں کے درمیان جو گروہی اختلافات موجود تھے وہی اس غلبے کا باعث بنے۔(5)

مغل بادشاہ اپنے جاہ و جلال کے خمار میں سرمست ہو کر وہ کشمیر کو بھی اپنی ایک سیر گاہ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ اس طرح سے اگرچہ مقامی آبادی پر ان کے ظلم و ستم کی کوئی کہانی تخلیق نہیں ہوئی لیکن انھوں نے کشمیری زبان اور یہاں کی مقامی تہذیب اور ثقافت کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر براہ راست فارسی زبان اور اس کے فن اور تمدن کو فروغ دیا۔

سلطنت مغلیہ کا سورج مغلوں کے دبدبہ شاہی اور تفنن طبع کی روشنی کو عام کرنے کے لیے کشمیر پر ڈیڑھ سو سال تک چمکتا رہا اور پھر ڈوب بھی گیا۔

کشمیر پر افغان1752ءسے 1819ءتک یعنی 67سال قابض رہے۔یہی وہ دور ابتلا ہے جب اہل کشمیر پر نکہت و افلاس۔ غلامی اور استحصال کے سارے جہنم کھول دیے گئے۔ اس موقع پر ایک شاعر نے جاہل، بے رحم اور وحشی افغانوں کے ہاتھوں سر زمین کشمیر کے لٹنے کا یوں نقشہ کھےنچا ہے:

پرسیدم از خرابی گلشن زباغبان
افغاں کشید و گفت کہ افغاں خراب کرد

ترجمہ: ”میں نے باغباں سے باغ کی تباہی و بربادی کا سبب دریافت کیا تو اس نے ایک آہ کھےنچ کر کہا کہ اسے افغان نے تہہ و تاراج کر لیا ہے۔“

افغان یعنی پٹھان حکمران کشمیر میں عام طور پر اپنے ظلم اور بے رحمی کی وجہ سے یاد کیے جائیں گے۔ ان کے بارے میں یہ حکایت بھی زبان زد خاص و عام رہی ہے کہ:

سر بریدن پیش ایں سنگین دلان گل چیدن است

یعنی ان سنگدلوں کے نزدیک کسی کا سر کاٹنا بھی ایک پھول توڑنے کے مترادف تھا۔(6)

افغان حاکم عبداللہ خان اشک اقاسی نے کشمیر کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی یہاں دہشت و بربریت کا بازار گرم کیا۔ اس کے لٹیرے سپاہی کشمیریوں کو لوٹتے اور قتل کرتے رہے اور انھوں نے ہر جائز اور ناجائز طریقے سے روپیہ پیسہ بٹورنا اپنا فرض منصبی تصور کیا۔

اس سلسلے میں کہا جاتاہے کہ ایک موقع پر کشمیر کے ہر فرقہ سے تعلق رکھنے والے آسودہ حال اور معزز بیوپاریوں اور تاجروں کو شاہی محل میں بلوا کر ان سے کہا گیا کہ وہ اپنا سارا مال و متاع سرکار کے حوالے کر دیں ورنہ انھیں موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنےوالے تاجروں کے سر قلم کیے گئے اور ان کے قرابت داروں کو بھی تہہ تیغ کیا گیا۔ ایک متمول شہری جلیل کا جسم لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا۔ ایک اور ذی عزت شہری قاضی خان سے پانچ لاکھ روپے جبراً وصول کیے گئے۔ حکام کو جب یہ شک ہوا کہ قاضی نے اپنی ساری دولت سرکار کے حوالے نہیں کی ہے تو اس کے بیٹے کو اس حد تک جسمانی اذیتیں دی گئیں کہ وہ بے چارہ دریا میں ڈوب کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ جب ظالم و جابر اشک اقاسی کویہ پتہ چلا کہ اب اسے دینے کے لیے لوگوں کے پاس کچھ نہیں بچا تو وہ کشمیر پر پانچ ماہ تک تانا شاہی چلا کے وادی سے واپس چلا گیا اور ایک کروڑ روپے کی مالیت سے زیادہ کی دولت اور قیمتی اشیاءاپنے ساتھ لے گیا۔

کشمیر پر سکھوں کی حکومت1819ءسے 1846ءتک یعنی27سال کے عرصے پر حاوی رہی۔

1819ءسے 1846ءتک جب انگریزوں نے ریاست کشمیر کو گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کیا۔ سکھوں کے دور حکومت میں کشمیر پر دس گورنر راج کرتے رہے جنہوں نے اہل کشمیر پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا اور بقلینگ ہسبنڈوہ کشمیریوں پر سخت گیر اور زبردست حاکموں کی طرح حکومت کرتے رہے۔(7)

دیوان موتی رام نامی ایک گورنر نے کشمیری مسلمانوں کو جذباتی طور پر پریشان کرنے کی ایک ناکام کوشش میں سب سے پہلے سری نگر کی جامع مسجد پر تالا چڑھایا اور اہل اسلام کے لیے وہاں نماز پڑھنے پر پابند عائد کی گئی۔ موتی رام کویہ خدشہ تھا کہ مسجد میں نمازوں کے ساتھ ساتھ سےاسی اجتماعات میں سکھ راج کی مخالفت ہوتی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو اذان دینے سے باز رکھنے کی بھی حکومتی طور پر ہدایت کی گئی۔(8)

ایک اور حاکم پھولا سنگھ شہر سری نگر میں خانقاہ معلی کے مقابل دریائے جہلم کے دوسرے کنارے پر اپنی توپیں لےکر آیا اور اس نے نخوت کے عالم میں اعلان کیا کہ وہ اس زیارت گاہ کو بارود سے اڑا دے گا۔ کیونکہ اس کے بقول مسلمانوں کی یہ خانقاہ ایک ہندو مندر کے اوپر تعمیر کی گئی تھی۔ اس نازک صورتحال کو ابتر ہونے سے بچانے کی خاطر شہر کی ایک معزز شخصیت پنڈت بیر بل دھر نے مداخلت کی اور اس تاریخی عمارت کو مسمار ہونے سے بچا لیا۔ ڈاکٹر غلام محی الدین صوفی کے قبولؒیہ سہرا بیر بل دھر کے سر ہے کہ جب مسلمانوں کا ایک وفد سید حسین شاہ قادری خانیاری کی قیادت میں ان سے ملاقی ہوا اور ان سے التجا کی کہ وہ سکھوں کو خانقاہ معلی کی تباہی کے اقدام سے روکیں تو انھوں نے اپنے اثر و رسوخ کو کام میں لا کر اس عمارت کو منہدم ہونے سے بچا لیا ۔(9)

اس سکھ حکمران نے البتہ کئی اور مساجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی اور سری نگر کے وسط میں واقع شاہی مسجد یا پتھر مسجد کو سرکاری ملکیت میں شامل کر لیا۔ مسلمانوں کے لیے گائے کے ذبیحہ پر بھی پابندی عائد کی گئی اور اس کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی۔ چنانچہ اس سلسلے میں کئی مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے کی پاداش میں سر عام پھانسی پر لٹکایا گیا۔(10)

سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ 1839 میں مر گیا اور اس کے ساتھ ہی کشمیر پر اس دور استبداد کی گرفت خود بخود ڈھیلی پڑتی گئی کےونکہ رنجیت سنگھ کی پنجاب کی اپنی سلطنت بھی افراتفری اور خانہ جنگی کا شکار ہو رہی تھی۔

رنجیت سنگھ کے ایک ملازم گلاب سنگھ ڈوگرہ نے اپنے بہادرانہ کارناموں سے مہاراجہ کا دل جیت لیا تھا اور جب مہاراجہ نے دم توڑ دیا تو گلاب سنگھ اس وقت تک سارے جموں کا فرمان روا بن چکا تھا۔

16مارچ1846ءکو پنجاب کے شہر امرتسر میں انگریز اور مہاراجہ گلاب سنگھ کے مابین بیع نامہ امرتسر طے پایا۔ اس معاہدہ کی رو سے انگریزوں نے گلاب سنگھ کو دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغرب کے تمام علاقے جن میں ریاست جموں و کشمیر کے انسان اور حیوان اور چرند و پرند بھی شامل تھے بیچ ڈالے۔یہ سودا محض پچھتر لاکھ روپے کے عوض طے ہوا جو آج کے پچاس لاکھ روپے کے برابر ہوتے ہیں۔ گلاب سنگھ کے پاس اس وقت چونکہ ساری رقم موجود نہیں تھی لہٰذا اس نے بقیہ پچیس لاکھ اس سال اکتوبر کی پہلی تاریخ تک ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ اس طرح سے انگریزوں نے چند روپے فی کشمیر کے حساب سے ایک پوری قوم کو ڈوگرہ راج کے چنگل میں دے دیا۔

گلاب سنگھ نے اس سودا بازی میں اپنے اور اپنی اوّلاد نرینہ کے حق میں عمر بھر کے لیے ریاست کو خرید کر لیا تھا جس کے مطابقیہ بھی طے پایا کہ وہ ہر سال تنومند اسپ تازی۔ چھ پشم دار بکرے اور چھ بکریاں اور تین جوڑے کشمیری جامہ دار شالوں کا تحفہ خراج کے طور پر انگریز حاکموں کو ادا کرتا رہے گا۔

اس بہیمانہ اور غیر انسانی فعل کے شرم ناک پہلووں پر مقبول عام شاعر حفیظ جالندھری نےیہ طنز کیا:

وادیاں کہسار جنگل پھول پھل اور سب اناج
ڈھور ڈھنگر آدمی ان سب کی محنت کام کاج
یہ مویشی ہوں کہ آدم زاد ہیں سب زر خرید
ان کے بچے بچیاں اوّلاد ہیں سب زر خرید

یہی وہ رسوائے زمانہ عہد نامہ ہے جسے مہاتما گاندھی نے ” بکری پتر“ کا نام دیا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اسے ریاستی عوام کی غلامی کی دستاویز کہا۔ کشمیر کی تحریک حریت کے ایک سر کردہ سپاہی سردار بدھ سنگھ نے اس معاہدے کو دو ڈاکووں کے درمیان خرید و فروخت کا نام دیا۔ مولانا محمد سعید مسعودی نے اسے ” نیلامی کے مال کا سند نامہ“ کہا اور مولانا غلام رسول مہر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ” 1846ءمیں انگریزوں نے کشمیر کو اس طرح فروخت کیا کہ امریکی آباد کاری کے ابتدائی دور میں حبشی غلام بھی شاید اس طرح بکے ہوں۔“(11)

اس طرح سے وادی کشمیر اور گلگت میں رہنے والے میں بیس لاکھ انسان بھیڑ بکریوں کی طرح ایک غیر مہم جو کو فروخت کیے گئے اوریہ ساری سودا بازی ان کی علمیت کے بغیر طے پائی گئی۔(12)

5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا جس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مقیم کشمیری غلامی سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

گلاب سنگھ کی طرف سے نادار کشمیری مسلمانوں پر بےگار کی ایک اور زحمت نازل کی گئی۔ ایک عام آدمی کو بغیر کسی اجرت کے پہاڑی دروں اوردشوار گزار راستوں سے بوجھ اٹھا کر کڑوں میل پےدل طے کرنا پڑتے تھے اور اس دوران سرکاری اہل کار اس کی ننگی پیٹھ پر کوڑے برسایا کرتے تھے۔ اس طرح سے ان مظلوموں کے زندہ واپس لوٹنے کی امید بہت کم باقی رہ جاتی تھی۔ گلاب سنگھ کے حکم کے تحت مسلمانوں کے پاس کسی ہتھیار کا موجود ہونا تو در کنار ان سے معمولی قسم کے چاقو اور گھریلو استعمال کی چھریاں تک چھین لی گئیں۔ ایک مغربی سیاح بیرن سچون برگ(Baron Schonberg) جو1845ءمیں کشمیر آیا لکھتا ہے ” میں نے بہت سے ممالک کا سفر کیا ہے لیکن میں نے کشمیر میں جو ایک انسان کی حالت زار دیکھی اس سے زیادہ ابتری کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے مصریوں کے دور حکومت میں اسرائیلیوں کی تاریخ کے ابواب یاد آ گئے جب انھیں بھی اسی طرح محنت مشقت کے دوران اپنے آقاوں کے ہاتھوں روزانہ کوڑے کھانا پڑتے تھے۔“(13)

یہ بھی پڑھیں:  ہندوستان کامیڈیا اور کشمیر

گلاب سنگھ کے وحشی ذہن اور بہیمانہ طریق کار کے بارے میں عطا الحق سہروردی اپنی تصنیف The Tragedy of Kashmir(المیہ کشمیر) میں لکھتے ہیں”یہ ڈوگرہ مہاراجہ آزادی کے متوالوں کی کھال اتارنے کا ذاتی حکم دیتا تھا اور پھر اس کا مشاہدہ بھی کرتا تھا۔“
گلاب سنگھ اپنے جلادوں کو حکم دیتا تھا کہ شمع آزادی کے پروانوں کی زندہ کھال اتاری جائے اور کھال سر سے پاوں کی طرف نہیں بلکہ پاوں سے سر کی طرف اتاری جائے کیونکہ سر سے پاوں کی طرف کھال اتارنے سے فوری موت ہو جاتی ہے اور اس سے اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی لیکن ا گر کھال پاوں سے سر کی طرف اتاری جائے تو مقتول ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔یہ کارروائی اتنی ظالمانہ تھی کہ جلاد بھی اس سے ہچکچاتے تھے لیکن گلاب سنگھ کھال اتارنے کے احکام ذاتی طور پر جاری کرتا تھا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد اس کا حکم تھا کہ کھال میں گھانس پھونس بھر کر کسی درخت کی اونچی شاخ پر اس کی نمائش کی جائے تاکہ دوسروں کو سبق ملے۔(14)

پونچھ پر قبضہ کرنے کے بعد گلاب سنگھ نے وہاں کے عوام کا قتل عام کروایا۔ ان کے لیڈروں سردار سبز علی خان اور ملی خان کی زندہ کھالیں اتروائیں۔ سردار شمس خان کا سر قلم کرایا اور ہزاروں خواتین اور بچوں کو اغواءکر کے جموں پہنچا دیا ۔(15)

گلاب سنگھ 1846ءسے1857ءتک کشمیر کا حکمران رہا۔

بیع نامہ امرتسر جسے معاہدہ کی رو سے بنی نوع انسان کی خرید و فروخت کے واقعہ نے اگرچہ اہل کشمیر کو اسی وقت جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا لیکن گلاب سنگھ کی انسان کش کارروائیوں اور خوفناک انتقامی اقدامات نے کشمیری مسلمانوں کو اس ظلم و ستم کے خلاف بغاوت کرنے سے وقتی طور پر باز رکھا۔ لیکن گلاب سنگھ کی موت کے بعد ہی یہ جذبات موجزن ہوئے اور1865ءمیں کشمیر میں پہلی ابر استبداد اور مطلق العنانیت کے خلاف جہاد کی بنیاد ڈالی گئی جب کشمیری شال بافوں پر ٹیکس لگا کر داغ شال کی بدعت کا آغاز کیا گیا۔ صاحب زادہ حسن شاہ نے اس واقعہ کی تصویر کشی نہایت ہی اثر انگیز پیرائے میں کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں ” کشمیر کی تاریخ کے دور قدیم۔ زمانہ وسطیٰ اور زمانہ جدید میں جا بجا محنت کشوں۔ فاقہ کشوں اور مجبور انسانوں کے ظلم و استبداد کے خلاف نبرد آزمائیوں کی داستان مسلسل ملتی ہے۔ ان میں قدیم کشمیری قبائل اور آریاوں کی آویزش۔ عہد قدیم میں چند راجاوں اور سرداروں کی کش مکش اور رعایا کے احتجاج ۔ سلاطین کے عہد میں ترکستانی، ایرانی اور کشمیری دھڑوں کی خونریزیاں۔ سلطان نازک شاہ کے عہد میں مرزا حیدر کے خلاف عوامی بغاوت۔ مغلیہ شہنشاہی سے کشمیریوں کی معرکہ آرائیاں اور معصومی خان کی تحریک آزادی سب میں عوامی تحریک حریت کے جانباز پروانوں کی خونی داستانیں پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہیں او رمورخ کے قلم کی پردہ داریوں سے جھانک جھانک کر دےکھتی ہیں۔

شال بافی کی صنعت کا کشمیر میں زمانہ قدیم سے رواج تھا۔ چنانچہ مہا بھارت کے زمانہ میں اس بات کی تاریخی شہادتیں مل جاتی ہیں۔ لیکن اکبر اعظم کے عہد سے اس صنعت کا عروج شروع ہوا۔ اور افغانوں کے عہد میں اس پر سوزن کاری اور کانی کاری کا کام شروع ہونے کی شہادت ملتی ہے۔

اس دور میں پنڈت دلارام قلی کے مشورہ پر حاجی کریم داد خان ناظم کشمیر نے اس صنعت کو حکومت کی آمدنی بڑھانے کا آلہ کار بناتے ہوئے شال بافوں پر ایک ٹیکس لگایا۔ جسے عام اصطلاح میں داغ شال کہا جاتا ہے۔ سکھوں کے دور میں اس ٹیکس میں مزید اضافہ کیا گیا او ران صنعتی مزدوروں پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا۔ ان کے لیے اس پےشہ کو چھوڑنا بھی ممنوع قرار دیا گیا اور ایک عجیب قسم کی صنعتی غلامی کو رواج دیا گیا۔ جس کی مثال کسی ملک کی تارےخ میں مشکل سے ملتی ہے۔

مہاراجہ گلاب سنگھ نے اس استحصال میں ڈھیل دینا گوارا نہ کیا۔ گو وہ ان صنعتی مزدوروں کی جتھہ بندی سے بہت مشوش تھا اور ایک بار تو ان کی جرات و شدت مطالبہ سے بوکھلا اٹھا لےکنیہ تحریک کوئی اجتماعی صور ت اختیار نہ کر سکی۔

مہاراجہ رنبیر سنگھ نے حکومت سنبھالتے ہی کشمیر کی صنعت شال بافی کو اپنے اجارہ میں لینے کی کوشش شروع کی اور داغ شال کے محکمہ کی از سر نو تنظیم کر کے کشمیر کے بیربل دھر کے فرزند پنڈت راجہ کاک دھر فرخ کو داروغہ مقرر کر کے شہر سری نگر کے وسط میں صراف کدل کے علاقے کے قریب اس کی کچہری قائم کر دی۔ اس محکمہ کی رشوت ستانی اور جبر و استحصال سے تنگ آ کر صنعتی مزدوروں نے اپنی جتھہ بندی کر کے اجتماعی طور پر جدوجہد کا فیصلہ کر لیا۔


اس عہد کے مورخ ملا خلیل مرجان پوری نے جو پنڈت راجہ کاک دھر کا وظیفہ خوار اور حانشین تھا،ا س صنعتی مزدور تحریک کا نہایت معاندانہ طریقے سے ذکر کیا ہے۔

بہر کیف اس جتھہ بندی سے ایوان حکومت میں ایک رعشہ ہو گیا۔ ادھر اس تحریک کے رہنماوں نے ٹنکی کدل محلے کے رسول شیخ۔ قدہ لالہ۔ عبلی پال، اور سونہ شاہ پر مشتمل ایک وفد دیوان کرپا رام وزیراعظم کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ دیوان مذکوران دنوں پانپور کے دورہ پر تھا۔ چنانچہ بڑی مشکل سے انھیں باریابی حاصل ہوئی اور انھوں نے اپنی دکھ بھری داستان اور محکمہ داغ شال کی رشوت ستانیوں کو بے نقاب کیا۔ ادھر راجہ کاک دھر کو جب اپنا سنگھاسن ڈولتا نظر آیا تو اس نے دیوان کے کان بھرنے شروع کر دیے کہ سب مزدور دراصل میں ڈوگرہ شاہی کا تختہ الٹنے کے درپے ہیں اور انھوں نے دیوان کرپارام اور خود راجہ کاک دھر کو بھی قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ چنانچہ دیوان نے اپنی پوری قوت سے اس انقلابی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی اور راجہ کاک دھر کا تیر عین نشانے پر بیٹھا۔

آخر29اپریل 1865ءکی صبح خونی لبادہ پہن کر جلوہ گر ہوئی اور آزادی کے پروانے حریت کی شمع پر قربان ہونے کے لیے سر بکف ہو کر میدان میں کود پڑے۔ اہک جذبہ و شوق تھا جو انھیں تاج شہادت پہننے کے لیے بے قرار کیے ہوئے تھا۔ ان کے آہنی ارادہ اور عزم و پامردی میں ایک عجیب بانکپن تھا۔ انھوں نے استعار پرستی اور استحصال کی لعنت سے چھٹکارا پانے کی قسمیں اٹھائیں اور ایک طوفانی دریا کی طرح ساحل کو کاٹ کر امڈ آئے اور صنعتی مزدوروں کا ایک جسم غفیر میدان زال ڈگر میں جمع ہو گیا۔
دیوان کرپارام کو پل پل کی خبریں پہنچ رہی تھیں۔ عوام کے اس عزم و اتحاد کی کیفیت سن سن کر وہ کانپ رہا تھا۔ آخر کرنل بجے سنگھ کی ڈوگرہ پلٹن کو آگے بڑھنے کا حکم ہوا۔ اس فوج نے ہجوم کو چاروں طرف سے گھیر کر حاجی راتھر کے پل کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔ اور پھر ایک شورش کر کے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا۔ کئی اور آدمیوں کو اٹھا اٹھا کر دریا میں غرق کر دیا۔

28 شہیدوں کی لاشیں دست برد سے بچ سکیں۔ تحریک آزادی کےیہ پہلے گمنام شہدا اپنے خون سے ڈوگرہ شاہی کی قسمت پر ایسی لکیر پھیر گئے جس سے تا ابد اس دور استبداد کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ لگا رہے گا۔

مزدور بپھرے ہوئے شیروں کی طرح پھر اکٹھے ہوئے اور ان شہیدوں کی لاشوں کا جلوس نکال کر رام باغ تک پہنچے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ وہ ان لاشوں کا جلوس شوپیان اور راجوری کے راستے لے کر جموں میں مہاراجہ کے دربار میں پیش کریں گے اور اس سفاکی کی داد رسی چاہیں گے۔

راجہ کاک دھر نےیہ سنا تو اسے عوامی انتقام کے خیال سے اس قدر وحشت ہوئی کہ اس پر فالج کا دورہ پڑ گیا اور پورے ایک ماہ تک ایڑیاں رگڑ رگڑ کر وہ عدم کو روانہ ہوا۔

دیوان کرپا رام نے اس نئی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک طرف تسلی، دلاسہ اور رشوت کا سہارا لیا اور دوسری طرف طاقت کا بے باک مظاہرہ کر کے جلوس کو منتشر کر دیا۔ اس کام میں وزیر پنوں۔ دیوان بدری ناتھ داروغہ عدالت اور کرنل بجے سنگھ اس کے شرےک کار تھے۔

خطرہ ٹلتے ہی دیوان کرپا رام کی طفل تسلیاں رنگ لائیں اسی شام اس تحریک کے روح رواں رسول شیخ ٹنکی کدلی، قدہ لالہ، عبلی پال اور سونہ شیخ کو گرفتار کر کے قلعہ شیر گڈھی میں نظر بند کر دیا گیا۔ سب سے پہلے تازیانوں سے ان کی کھالیں اتار دی گئیں اور جب وہ ادھ موئے ہو گئے تو ان کو بیڑیاں پہنا کر اور گلے میں لوہے کے گولے لٹکا کر ساتھ ہی بہنے والے دریائے جہلم میں پھینک دیا گیا۔ رسول شیخ اور عبلی پال اس تشدد کی تاب نہ لا سکے اور اسی کیفیت میں جام شہادت نوش کر کے ملک و قوم کی خدمت سے سرخرو ہوئے۔

اس کے بعد کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اور دو تین سو کارکن سبک کے قید خانے میں ڈال دیے گئے۔ اس طرح تحریک آزادی کے یہ درخشندہ شعاع سفاکی و استبداد اور جبر و ستم کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چھپ گئی۔ لیکن ایک ایسی یاد چھوڑ گئی جو آئندہ محبان وطن کے دلوں کو گرماتی رہی۔(16)

مہاراجہ رنبیر سنگھ نے 1857ءمیں کشمیر کی فرمان روائی کا تاج پہن لیا۔یہ وہ تاریخی سال ہے جب انگریزوں کے خلاف ہندوستان میں جنگ آزادی کا بگل بج اٹھا تھا۔ رنبیر سنگھ نے اس غرض سے کہ اسے انگریزوں کی خوشنودی حاصل رہے دو ہزار سے زیادہ پا پیادہ اور گھوڑ سوار فوجی اور چھ توپیں دہلی روانہ کر دیں تاکہ یہ انگریزوں کی عسکری طاقت کا ایک حصہ بن سکیں۔(17)

1876ءمیں جب ایڈورڈ ہفتم جموں آیا تو استقبالیہ تقریبات پر خرچہ کا بوجھ بھی خستہ حال اور مفلس کسانوں اور مزدوروں کو اٹھانا پڑا جن کے گھروں پر شب خون مار کریہ روپیہ ان سے زبردستی چھین لیا گیا۔ شاہ برطانیہ کے سامنے مہاراجہ رنبیر سنگھ نے ایک تقریب میں انگریزوں کے تئےں اپنی وفاداری کا اپھر اعادہ کیا۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ 1885ءمیں تخت نشین ہوا اور1925ءمیں اس کی چالیس سالہ حکومت کا اختتام ہوا۔ پرتاپ سنگھ کے بارے میں تاریخ کے صفحات ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں جن سے اس کی مسلم دشمنی اور کٹر قسم کے ہندو پن کا ثبوت ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر صبح اٹھ کر وہ کسی مسلمان کا منہ دیکھتا تویہ بات ناقابل حد تک اسے ناگوار گزرتی تھی۔ اگر اس کے قالین کو جس پر وہ بیٹھتا تھا کسی مسلمان یا عیسائی کا ہاتھ یا پاوں چھو لیتا تو وہ نہ صرف قالین بدل دیتا بلکہ اپنا حقہ بھی توڑ ڈالتا جو وہ وقفہ وقفہ کے بعد پیتا تھا(18) وہ ساری عمر پنڈتوں کے مشورے کے بغیر کوئی کام کرنے پر کبھی راضی نہیں ہوا۔

جب23ستمبر1925ءکو اس کا انتقال ہوا تو دم توڑتے وقت ہندو رسم کے مطابق اسے محل کے بالائی کمرے سے جلدی جلدی اتار کر نیچے لایا گیا تاکہ وہ دھرتی ماتا کی چھاتی پر جان دیدے۔ وہاں ایک گائے اس کی منتظر تھی۔ مرتے ہوئے مہاراجہ اور گائے کے درمیان ایک دھاگا باندھا گیا کیونکہ مہاراجہ کو اس وقت اتنا ہوش ہی نہ تھا کہ وہ گائے کی دم پکڑ سکے۔ دھاگا باندھنے سےیہ امر یقینی ہو گیا کہ اس کی روح دوسری دنیا میں صحیح سلامت پہنچ جائے گی۔

اس موقعے پر ریاست جموں و کشمیر کے باہر سے ایک برہمن بھی لایا گیا اس کے سر سے پیر تک بال مونڈے گئے اور ان تمام چیزوں کی علامتیں جو مہاراجہ کے استعمال میں رہتی تھیں، اسے پیش کی گئیں مثلاً بستر کی چادریں، کھانے کے برتن، ایک موٹر، گھوڑا، سونا، چاندی، روپیہ وغیرہ۔ جب مہاراجہ کا انتقال ہوا تو اس برہمن کو پولیس نے ریاست سے نکال باہر کیا اور واپس آنے کی بالکل ممانعت کر دی کیونکہ وہ اپنے ساتھ مرے ہوئے مہاراجہ کے تمام گناہ لے گیا تھا۔(19)

ہری سنگھ اپنے چچا پرتاپ سنگھ کی موت کے بعد1925ءمیں کشمیر کا راجہ بن گیا۔ ہری سنگھ کا باپ امر سنگھ1909ءمیں انتقال کر چکا تھا اور پرتاپ سنگھ کے کوئی نرینہ اوّلاد نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کی حکمرانی کا تاج ہری سنگھ کے سر کی زینت بن گیا۔
اس آخری ڈوگرہ مہاراجہ کی کابینہ میں خارجی اور سیاسی امور کے وزیر سر ایلمین بنر جی نے 1929ءکے موسم بہار میں ایک آتش بار بیان دیا جو اخبارات میں شائع ہو کر بحث و تمحیص کا موضوع بن گیا۔یہ بیان انھوں نے 15مارچ کو لاہور میں اےسوی ایٹڈ پریس کے نمائندے کو دیا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ” ریاست جموں و کشمیر میں راجہ اور پرجا کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ ریاستی عوام کے ساتھ بھیڑ بکریوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔“ بنر جی نے مسلمانوں کے حال زار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” ریاست کے اندر مسلمانوں کی آبادی اسی فیصد ہے لیکن انھیں اچھوتوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ تعلیمی میدان میں انھیں سب سے پیچھے رکھا جاتا ہے۔ حکومت کے سارے اداروں پر ہندووں کا قبضہ ہے۔ازادءرائے کا کہیں نام و نشاں تک نہیں ہے اور سبھی مسلمان حاکم طبقہ کے رحم و کرم پر جی رہے ہیں۔“ بنر جی دو سال تک مہاراجہ کے ساتھ کام کرنے کے بعد مستعفی ہو گئے تھے۔

ڈوگرہ راج کے دوران کشمیر کی جو حالت رہی اس کا عکس بیرن سچون برگ نے بھی اس سے قبل ہیکھےنچا تھا جب انھوں نے لکھا تھا کہ زراعتی زمین کا مالک زمیندار بھارسی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ دستکار اور جولا ہے بھی پریشان حالی میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک شال باف کی روزانہ مزدوری صرف چار آنے ہے جس میں سے نصف رقم حکومت ٹیکس کی شکل میں وصول کرتی ہے۔ باقی دو آنے اسے سرکاری راشن ڈپو سے سنگھاڑوں یا چاوّل کی شکل میں دیے جاتے ہیں جس کی قیمت بھی عام قیمت سے زیادہ وصول کی جاتی ہے۔

یہی وہ دن ہیں جب فانی بدایونی نے جنت ارضی کا نقشہ اس درد ناک لہجہ میں کھینچا:
اس باغ میں جو کلی نظر آتی ہے
تصویر فسردگی نظر آتی ہے
کشمیر میں ہر حسین صورت فانی
مٹی میں ملی ہوئی نظر آتی ہے

پھولوں کی نظر نواز رنگت دےکھی
مخلوق کی دلگداز حالت دےکھی
قدرت کا کرشمہ نظر آیا کشمیر
دوزخ میں سموئی ہوئی جنت دےکھی

کشمیر کے عوام اگرچہ اپنی جغرافیائی حد بندیوں۔ خدا پرستی اور انسان نوازی اور دادی کے مخصوص ماحول کے صوفےانہ اور روحانی پس منظر میں جنگ جویانہ طرز عمل اختیار کرنے کے کبھی خوگر نہیں رہے ہیں۔ لےکن ان کے ذہنوں میں ہمیشہ بیرونی اور غیر ملکی جارح کے خلاف نفرت اور بغاوت کے شعلے دیکھتے رہے ہیں۔

1947ءمیں جب برصغیر ہندوستان کو آزادی نصیب ہوئی اوریہ ملک دو آزاد مملکتوں بھارت اور پاکستان کے نئے پےکر میں ڈھل گیا تو کشمیر اور کشمیری عوام کی تقدیر کی کشتی پھر ہچکولے کھانے لگی وجہ رفتار زمانہ کی ناموافق لہروں کے تھپیڑے کھاتی ہوئی بالآخر طوفانوں کی گہرائیوں میں وقتی طور پر ڈوبنے پر مجبور ہو گئی۔ کشمیر کا تشخص اور اہل کشمیر کی آبرو ایسے ہی مخاصمانہ طوفانوں میں تحلیل کیے جانے کی غرض سے مختلف طاقتیں اس مجبوری اور عوام کی بے بسی کا سہارا وقتاً فوقتاً لیتی رہیں۔
کشمیر کے دار الحکومت سری نگر کے جنوب میں ریشم سازی کا ایک قدیم کارخانہ ہے جسے ریشم خانہ کہتے ہیں۔

اس کارخانے میں ہندو حاکموں کی طرف سے مسلمان کاریگروں اور مزدوروں کو برابر تنگ کرنے کا سلسلہ جاری تھا کہ وادی کشمیر کے مسلم نمائندوں کی طرف سے حکومت وقت کو ان زیادتیوں کے خلاف شکایات موصول ہوئیں۔ سرکار نے برائے نام ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کر لیا۔ لیکن اس کی رپورٹ کو پوشیدہ رکھا گیا۔ البتہ ایک ہندو افسر کو ہٹا کر دوسرے ہندو کو وہاں تعینات کیا گیا۔ اس پر کاریگروں نے ہڑتال کر دی۔

21جولائی1924ءکو پولیس نے اکیس مزدور لیڈروں کو حراست میں لے لیا اور اس کے اگلے دن پولیس کی ایک بہت بھاری تعداد نے رسالہ فوج کی مدد سے تقریباً ایک ہزار مزدوروں پر حملہ کیا۔ بیشتر لوگ زخمی ہو گئے۔

اس تشدد سے اہل کشمیر کی خفتگی ختم ہوئی اور وہ بغاوت کا جھنڈا اٹھائے شخصی حکومت کے خلاف بر سر پےکار ہوئے۔ ہم عصر تحریک حریت کشمیر پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ریشم خانہ کایہ واقعہ بھی بہت حد تک کشمیری مسلمانوں کی بیداری کا سبب بنا۔ ان کی مظلومیت کی آواز باہر تک پہنچی اور لاہور اور امرتسر میں کل ہند مسلم کشمیری کانفرنس نے ان کی حمایت میں عام جلسے کیے۔(20) سولہویں صدی میں مغلوں کی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے سلاطین کی رہنمائی میں کشمیریوں نے جس جگر داری کا مظارہ کیا تھا تین سو سال بعدیہ بغاوت اسی جذبہ آزادی کے تسلسل میں ایک نئی صورت اختیار کر کے سامنے آئی تھی۔
ریشم خانہ کے بارے میں منشی محمد دین فوق نے ڈوگرہ حکومت کی بربریت پر ” بڈشاہ کی روح سے سوال و جواب“ کے عنوان سے ایک درد ناک نظم کہی جو ان کے مجموعہ کلام میں درج ہے۔

1924ءکی اس عوامی تحریک کو اگرچہ ڈوگرہ مہاراجہ نے طاقت اور تشدد کے بل بوتے پر وقتی طور پر دبا ہی لیا۔ لیکن یہ لاواہر کشمیری کے دل و دماغ میں اندر ہی اندر پکتا رہا اور سات سال بعد پھر ایک بار جدوجہد آزادی کے ایک نئے طوفان کی شکل میں ابل پڑا۔
1931ءکے آغاز میں صوبہ جموں کی تحصیل اودھم پور کا ایک ہندو زمیندار مسلمان ہو گیا۔ تحصیلدار نے کاغذات مال سے اس کا نام خارج کر دیا۔ اس کی جائیداد پر اس کا بھائی قابض ہو گیا۔ زمیندار نے عدالتی چارہ جوئی کی تو جج نے قانونی کارروائی کے دوران زمیندار سے کہا کہ ”شدھ“ ہو جائے تو جائیداد واپس مل جائے گی۔ زمیندار نے مرتد ہونے سے انکار کیا تو اس کا دعویٰ خارج کیا گیا۔(21)
اسی سال جموں میں کھیم چند نامی ایک انتہا پسند ہندو کے ہاتھوں قرآن شریف کی توہین ہوئی اور اس کے ساتھ ہی 29اپریل کو عید کے روز ایک امام کو مسجد میں خطبہ پڑھنے سے روکا کیا۔ ان واقعات سے مشتعل ہو کر جموں کی ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن نے کچھ احتجاجی پوسٹر چھپوا کر سری نگر بھیجے۔یہ وہ زمانہ تھا جب حکومت کے خلاف منہ سے کوئی لفظ تک نکالنا بھی بغاوت تصور کیا جاتا تھا چہ جائے کہ پوسٹر لگائے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم سماج اور عمرانی مسائل

یہ پوسٹر سری نگر میں در و دیوار پر لگانے کی پاداش میں ڈوگرہ سپاہی کئی لوگوں کو گرفتار کر کے لیے گئے جس کے رد عمل میں8مئی 1931ءکو جمعہ کے دن سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ ہوا جس میں میر واعظ کشمیر مولانا محمد یوسف شاہ کی ایما پر غلام نبی گلکار نے اوّلین تقریر کی۔ اس اجتماع کا لازمی طور پریہ نتیجہ ہوا کہ اس وقت کے کشمیر کے گورنر راے زادہ ترےلوک چند کول نے جو جامع مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کا خود ساختہ صدر بھی تھا، مسجد میں تقریروں اور جلسوں پر پابندی عائد کر دی۔

جموں میں وقوع پذیر توہین قرآن اور دیگر نا خوشگوار واقعات کے سلسلے میں سارے حقائق کو مہاراجہ ہری سنگھ کے روبرو پیش کرنے کی غرض سے کشمیر اور جموں میں مسلمانوں کے چیدہ چیدہ نمائندوں کے ایک وفد کو تشکیل دی گئی جس میں وادی کشمیر سے میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ، میر واعظ احمد اللہ ہمدانی، سعد الدین شال، آغا سید شاہ جلالی، غلام احمد عشائی، منشی شہاب الدین اور شیخ محمد عبداللہ کو شامل کیا گیا اور جموں سے اس وفد میں شمولیت کی غرض سے چودھری غلام عباس خان، سردار گوہر رحمان، شیخ عبدالحمید اور مستری یعقوب علی کو دعوت دی گئی۔ وفد کے نمائندوں کی توثیق21جون1931ءکو سرینگر کی خانقاہ معلی کی زیارت گاہ میں منعقدہ اس عظیم الشان اجلاس میں کی گئی جس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تھی۔ اسی جلسے کے انعقاد کو تحریک آزادی کشمیر کا سنگ میل کہا جا سکتا ہے۔ میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ نے اس کی صدارت کی۔

تاریخ کشمیر میں اپنی نوعیت کایہ جلسہ عام اختتام پذیر ہوا ہی چاہتا تھا کہ عبدالقدیر نامی ایک ہٹا کٹا اور تنومند شخص بغیر کسی دعوت کے دم زدن میں اسٹیج پر موجود ہوا اور تقریر کرنے لگا۔ عبدالقدیر پشاور کا رہنے والا ایک پٹھان تھا جو ایک سیاح ٹی بی بٹ کے نوکر کی حیثیت سے مراد آباد سے کشمیر آیاد تھا اس نے اپنی تقریر میں مہاراجہ کشمیر اور ہندووں کو پانی پی پی کر کوسا۔

قدیر کی تقریر کو خلاف قانون قرار دے کر اسے چار روز بعد نسیم باغ کے مقام پر ایک ہاوس بوٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت 6 جولائی سے شروع ہوئی جو متواتر چار دن تک جاری رہی لےکن حکومت کویہ دقت پیش آئی کہ عدالت کے باہر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے تھے اور عدالتی کارروائی کو جاری رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ چنانچہ حکام نے فیصلہ کر لیا کہ کارروائی سری نگر کے سینٹرل جیل کے بند احاطہ میں انجام دی جائے گی اور اس کے لیے 13جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی۔

13جولائی1931ءکو سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدوم رحمتہ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کا دوسرا دن تھا اور لوگ اس زیارت گاہ پر صبح ہی سے کوہ ماران(ہاری پربت) کے چاروں طرف سے آنا شروع ہوئے تھے۔ چونکہ سینٹرل جیل ہاری پربت کے دامن میں آستانہ مخدوم کی مشرقی سمت میں واقع ہے لہٰذا زائرین کی اکثر تعداد جیل کے بیرونی احاطے میں بھی جمع ہو گئی۔

سپاہیوں اور جیل کے پہرہ داروں کی طرف بڑھتے ہوئے ہجوم کو تتر بتر کرنے کے مسلسل عمل نے صورت حال میں مزید تناو پیدا کر لیا۔ کچھ دیر بعد کسی منچلے نےیہ اڑائی کہ قدیر کو پانچ سال قید کی سزا ہو گئی۔یہ سننے کی دیر تھی کہ لوگ جوق در جوق جیل کے دروازے کھول کر زبردستی اندر داخل ہو گئے۔ سپاہی جب مغلوب ہونے لگے تو انھوں نے گولیاں چلانی شروع کیں لاشوں پر لاشیں گرنے لگیں اوریہ خبر جنگل کی آگ کی طرح سارے شہر میں آناً فاناً پھیل گئی۔

یہی وہ عہد آفریں دن تھا جب اہل کشمیر نے تاریخ حریت کے ایک نئے باب کی تمہید اپنے خون سے رقم کر لی۔
حفیظ جالندھری نے اپنی نظم” خون کے چراغ“ میں ان شہدا کی پکار اہل کشمیر کو اس طرح سنائی ہے:

اے رفیو سر فروشو سنتے جاو ایک بات
ہم بھی زندہ تھے کبھی ہم کو بھی پیاری تھی حیات
تھا پر پرواز بھی اپنا کبھی افلاک پر
آج ہم قبروں میں ہیں سوئے ہیں فرش خاک پر
معرکہ آراو ہاں آگے بڑھو بڑھتے چلو
غاصبوں پر تند شیروں کی طرح چڑھتے چلو
اب تمھارے ہاتھ اس آغاز کا انجام ہے
ہم یہاں کام آ گئے آگے تمھارا کام ہے
لالہ رویہ تربتیں یہ سےنہ ہائے داغ داغ
ہم نے اپنے خون سے روشن کیے ہیںیہ چراغ
سر فروشو! ان چراغوں سے ضیا لیتے ہوئے
آگے اور آگے بڑھو نام خدا لیتے ہوئے

مسلمانان کشمیر کے سیاسی اور اقتصادی مسائل کو ایک پرچم تلے مل بےٹھ کر حل کرنے کی غرض سے اکتوبر1932ءمیں کشمیر میں پہلی بار ایک باقاعدہ سیاسی تنظیم جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ شیخ محمد عبداللہ اس کے اوّلین صدر مقرر کیے گئے۔ تاریخ کشمیر کے ایک ہم عصر مورخ پر تھوی ناتھ گول بامزئی کے بقول ” اگرچہ کانفرنس اپنے نام کی مناسبت سے ایک ہی فرقے کی نمائندگی کی ترجمان تھی لیکن مسلم کانفرنس ابتدائے آفرینش ہی سے اپنی پالیسی کے حوالے سے ایک قومی کردار کی حامل رہی۔“(22)۔ البتہ بامزئی کے خیال میں فرقہ پرستی کے سہارے جموں میں مسلمانوں کا ایک گروہ پیدا ہوا۔ اگرچہ وادی کشمیر میں اس کا اثر بہت کم رہا۔ اس موقع پر بامزئی کایہ الزام محض ایک متعصبانہ ذہن کا غماز ہے کہ ” کشمیر کمےٹی کا سربراہ بنے جانے کے بعد علامہ اقبال کی طرف سے کشمیر میں فرقہ واریت پرمبنی ایجی ٹیشن کو زندہ رکھنے کی کوشش ناکام ثابت ہوئی(23) اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اقبال کشمیری مسلمانوں کو دیگر تمام فرقوں کے ساتھ رواداری اور رفاقت کی برابر تلقین کرتے رہے۔“
1936ءکی ابتدا میں مہاراجہ ہری سنگھ نے گوپالا سوامی آئےنگر کو ریاست کا وزیراعظم مقرر کر لیا۔ آئےنگر ایک انتہا پسند ہندو تھا اور اس کی نظروں میں مسلمانوں کی سیاسی قوت کو پارہ پارہ کرنے کا عمل ایک مقدم فریضہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں کی بہتری اور برتری کے علمبردار میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ اور ان کے نام نہاد سیکیولر حریف شیخ عبداللہ کے درمیان اختلافات کی خلیج کو وسیع کرنے کے لیے سازشوں کا جال پھیلایا۔یہ اختلافات پہلے ہی منظر عام پر آ چکے تھے کیونکہ عبداللہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر فرقوں کی رہنمائی کرنے کے بھرم میں مسلم کانفرنس کی ہیت کو تبدیل کر کے اسے بھارت کی انڈین نیشنل کانگریس کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے۔ اپنے اس جذبہ کا اظہار عبداللہ نے 26مارچ1938ءکو مسلم کانفرنس کے چھٹے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یوں کیا” جب ہم اپنے سیاسی مسائل کو زیر بحث لائیں تو ہمیں مسلم اور غیر مسلم کی اصطلاحوں میں سوچنے کا سلسلہ ترک کر کے فرقہ پرستی کو ختم کر دینا چاہئے اور ہمیں اپنے دروازے ان تمام ہندووں اور سکھوں کے لیے کھول دینے چاہئیں جو ہماری ایک غیر ذمہ دار حکومت کے شکنجے سے اپنے ملک کی آزادی میں یقین رکھتے ہیں۔“(24)
28جون1938ءکو مسلم کانفرنس کی مجلس عاملہ کا ایک طویل اجلاس ہوا جس میں باون گھنٹوں تک گرما گرم بحث ہوتی رہی اور بعد میں ایک قرار داد کے ذریعہ یہ طے پایا کہ کانفرنس میں تمام لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت شامل ہو سکتے ہیں۔

اس طرح جون1939ءمیں مسلم کانفرنس کی جگہ باضابطہ طور پر نیشنل کانفرنس کا وجود عمل میں لایا گیا اور غلام محمد صادق کو اس کا پہلا سربراہ بنایا گیا لیکن ریاست کی کئی شخصیتوں نے اس تبدیلی سے اختلاف کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کا دامن تھامے رکھا اور وہ اواخر عمر تک اسی تنظیم کے پرچم تلے اپنی سےاسی کارکردگی انجام د یتے رہے۔ خاص طور پر جب 1944ءمیں قائداعظم محمد علی جناح کشمیر کے دورہ پر آئے اور انھوں نے مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلا س کی صدارت کی تو اس سے اس تنظیم میں ایک نئی روح پھونکی گئی۔ جوزف کور بیل کا کہنا ہے کہ ” حالات بہت جلد نیشنل کانفرنس کے خلاف ہو گئے۔ چونکہ برطانوی ہند میں مسلمان ایک خود مختار پاکستان کی تحریک کے حامی بنتے گئے۔ جموں و کشمیر میں بھی مسلمان چودھری غلام عباس کی زیر قیادت مسلم کانفرنس میں واپس آنے لگے اور اس طرح سے انھوں نے شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کی صفوں کو خیر باد کہہ دیا۔“(25)

1945کے موسم گرما میں سری نگر سے 30میل شمال مغرب میں سوپور کے سیبوں کے قصبے میں نےشنل کانفرنس کا ایک تاریخی اجلاس ہوا جس میں کل ہند سٹیٹش پےوپلز کانفرنس کی مجلس قائمہ کے کئی اراکین نے جواہر لال نہرو کی قیادت میں شرکت کی ان میں ممتاز کانگریسی رہنما مولانا ابو الکلام آزاد اور خان عبدالغفار خان بھی شامل تھے۔

اس اجلاس کی کارروائی کے دوران ہندوستانی سیاست دانوں نے اپنی تقریروں میں اس حد تک سیکیولرزم اور فرقہ وارانہ یک جہتی کی ضرورت پر زور دیا کہ عبداللہ کو اپنا آپ ان کی طرف کھینچتا ہوا محسوس ہوا اس کے بعد تاریخ گواہ ہے کہ شیخ عبداللہ اسی وقت سے کشمیر اور ہندوستان کے رشتہ کو قائم کرنے کی سیاست گری میں مصروف کار ہوئے۔

مئی1946ءمیں شیح عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے مہاراجہ کشمیر کے خلافیہ دو نعرے لگا کر کویٹ کشمیر(Quit Kashmir) کی تحریک شروع کی کہ ” بیع نامہ امرتسر کو توڑ دو۔ کشمیر کو چھوڑ دو۔“ تاکہ اقتدار علی کشمیری عوام کے ہاتھوں میں منتقل کیا جا سکے۔

اس تحریک کو بھی نئی دہلی کے کانگرےسی سیاست دانوں کی پس پردہ حمایت حاصل تھی کےونکہ کشمیر چھوڑ دو کا نعرہ لگا کر جب عبداللہ گرفتار کر لیے گئے تو جواہر لال نہرو ان کے ساتھ اپنی یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی غرض سے دوڑے دوڑے کشمیر کی طرف روانہ ہوئے لیکن ہری سنگھ نے انھیں بھی مظفر آباد کے نزدیک دو میل کے مقام پر گرفتار کروایا۔ کیونکہ مہاراجہ کی طرف سے کشمیر میں نہرو کے داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد کی گئی تھی۔

کشمیر چھوڑ دو تحریک کے آغاز پر عبداللہ کے خلاف وادی کشمیر میں ان الزامات کی بوچھاڑ ہوئی کہ یہ اےجی ٹیشن دراصل انھوں نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بحال کرنے کی غرض سے چلائی ہے۔ کیونکہ ہند نواز پالیسیوں کی وجہ سے وہ اہل کشمیر میں اپنی مقبولیت کھو چکے تھے۔جیسا کہ ان کے ایک دیرینہ ساتھی پریم ناتھ بزاز نے بھی اپنے اخبار” ہمدرد“ میں عبداللہ پر موقعہ پرستی کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ” انھیں مسلمانوں یا ہندووں کا نمائندہ کہلانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا کیونکہ ایک طرف مسلمان عام طور پر مسلم کانفرنس کے پیروکار ہیں اور دوسری جانب ہندووں کی اپنی جماعتیں موجود ہیں۔“(26)

شیخ عبداللہ کویہ تحریک چلانے کی پاداش میں نو سال کی قید ہوئی لیکن اس کے صرف سولہ مہینے بعدہی انھیں ستمبر1947ءمیں رہا کر دیا گیا۔ جوز کوربیل کے خیال میں عبداللہ کی یہ غیر متوقع رہائی نئی دہلی میں وزیراعظم جواہر لال نہرو کی مداخلت سے ہی ممکن ہو سکی کیونکہ مسلم کانفرنس کے جن رہنماوں کو جموں میں اےسی ہی اےجی ٹیشن چلانے کے لیے اگرچہ کم مدت کی سزائیں ہوئی تھیں لیکن انھیں بدستور جیلوں میں ہی بند رکھا گیا۔(27)

مقامی سطح پر شخ عبداللہ اور ان کی جماعت نیشنل کانفرنس اب بھارت کے کانگرےسی رہنماوں خاص کر جواہر لال نہرو کے اس ” دام الفت“ میں پھنس چکے تھے جس کے ذریعہ نرو اپنی ” سحر آفرین خوبصورتی کی حامل عورت کی طرح حسین و جمیل وادی کشمیر“ کو ہمیشہ کے لیے بھارت کا ایک حصہ بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ شیخ عبداللہ نے محض اقتدار کی خاطر اور غالباً محمد علی جناح کے تئیں اپنے رویہ سے خوف زدہ ہو کر نہرو کایہ خواب خود ہی پورا کر لیا۔ حالانکہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی قائداعظم عبداللہ کو قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہے تھے۔

عبداللہ کی عاقبت نا اندیشی اک پوری کشمیر قوم کو کھا گئی اور ایک چھوٹی سی وادی میں رہنے والے اس قوم کے لاکھوں لوگ جن مصائب اور طرح طرح کی پریشانیوں سے دو چار ہوئے اور ہوتے رہے ہیں، شیخ عبداللہ اگر ایک جہان دیدہ سیاست دان ہوتے تو غالباً ان کا فہم انھیں چند لمحوں پر حاوی وہ اقدام کرنے سے اسی وقت باز رکھتا جس کی سزا صدیوں پر پھیلے ہوئے ایک عرصہ دراز کے لیے بے گناہوں اور بے قصوروں کا مقدر بن سکتی ہے۔

1947ءمیں جب ہندوستان آزاد ہوا تو ایک آزاد اسلامی مملکت پاکستان کا وجود بھی عمل میں آیا۔ متحدہ ہندوستان میں موجود پانچ سو چوراسی نیم خود مختار ریاستوں سے کہا گیا کہ وہ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی اپنے عوام کی خواہشات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ ملحق ہو جائیں۔

ریاست جموں کشمیر میں اس وقت پانچ اہم علاقے شامل تھے جن میں وادی کشمیر جموں، لداخ اور گلگت اور بلتستان شامل ہیں، کل ملا کر ریاست میں مسلمانوں کی آبادی77 فیصد کی بھاری اکثریت میں تھی۔ اس کا منطقی نتیجہ یہی تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ پاکستان کے ساتھ ریاست کے الحاق کا اعلان کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں کے حالانکہ اس سے قبل 19جولائی1947ءکو کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ سےاسی تنظیم مسلم کانفرنس نے سری نگر میں ایک قرار داد کے ذرےعہ ریاست کے پاکستان کے ساتھ ملحق ہونے کی تائید کی تھی۔

کشمیر کے ساتھ ساتھ ہند کی دو اور ریاستوں حیدر آباد اور جونا گڑھ نے بھی الحاق کے معاملہ میں اپنی مرضی کو ترجیحی طور پر روبہ عمل لانے کی سعی کی جو بہر حال ناکام بنا دی گئی۔

حیدر آباد کا حکمران ایک مسلمان میر عثمان علی خان نظام دکن تھا جو خود مختار رہنے کا خواہش مند تھا لجکن بھارت سرکار نے اس عندیہ کی بنا پر کہ ریاست میں اکثریت ہندووں کی ہے اور انھیں ایک مسلمان حکمران کی ماضی کے تابع نہیں رکھا جا سکتا، 13ستمبر1948ءکو فوج کشی کر کے حیدر آباد پر دھاوا بول دیا اور اسے بھارت کے ساتھ ملحق کر دیا-

اسی طرح مغربی ہند میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست جونا گڑھ کے مسلمان حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا ارادہ کیا چونکہ اس سیاست میں بھی آبادی کی اکثریت ہندووں پر مشتمل تھی لہٰذا بھارتی فوج جونا گڑھ میں بھی داخل ہو گئی اورایک استصواب رائے کے ذریعہ یہ معلوم کیا گیا کہ جوناگڑھ کی ریاست کے لوگ بھارت کے ساتھ الحاق کے حق میں ہیں۔یہ ریاست اب بھارتی صوبہ گجرات کا ایک حصہ ہے۔

15اگست1947ءاور26اکتوبر1947ءکے چھوٹے سے عرصے کے دوران کشمیر کے حوالے سے برصغیر میں صورتحال میں زبردست تغیرات ظاہر ہوئے اور مہاراجہ ہری سنگھ کی افواج کے ظلم و ستم کے خلاف پونچھ ضلع میں مقامی بغاوت بعد میں ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر گئی۔ کوئی ایک سو سال قبل گلاب سنگھ ڈوگرہ نےیہیں پر مسلمانوں کا قتل عام کرایا تھا جس کی خون آشام یادیں اب تک پونچھ کے لوگوں کو چر کے لگا رہی تھیں۔ بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا کہ اس نے مہاراجہ ہری سنگھ کی خود مختار ریاست پر قبائلیوں کے ذریعہ حملہ کروایا اور 26اکتوبر کو کشمیر بھارت الحاق کے بعد نئی دہلی پریہ شرط عائد ہو گئی کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کا علاقائی تحفظ کرے جواب اس کے بقول ” بھارت ہی کا ایک حصہ بن چکی تھی۔“

فی الحقیقت مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے بھارت سرکار کو فوجی امداد کے لیے درخواست دینا اور پھر راتوں رات بھارتی مسلح افواج کا سری نگر پہنچ جانا ایک ایسی سازش کا پردہ چاک کرتا ہے جس کے تانے بانے اس سے قبل ہی نئی دہلی اور سری نگر کے درمیان بنے گئے تھے اس سلسلے میں شیخ محمد عبداللہ نے اپنے سیاسی مربی اور دوست، وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی علی الاعلان حمایت کے بل بوتے پر مہاراجہ ہری سنگھ کو ریاست بدر کرنے اور بعد میں ریاست کو بھارت کا حصہ بنانے کا منصوبہ بہت پہلے مرتب کر لیا تھا۔ 1932ءمیں قائم شدہ مسلم کانفرنس کو بعد میں1939ءمیں نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنے کی تحریک بھی عبداللہ کو نہرو ہی سے ملی تھی جس میں عبداللہ کو شیشے میں اتارنے والے چند غیر مسلموں پریم ناتھ بزاز۔ سردار بدھ سنگھ اور کےشپ بندھو نے ایک موثر رول ادا کیا تھا تاکہ اہل کشمیر کی بھاری اکثریت کے منشاءکے خلاف کشمیر کو بھارت کے ساتھ ملحق کیا جائے۔

السٹائر لیمب نے بالخصوص کشمیر بھارت الحاق کے سلسلے میں اپنی تحقیقاتی تصانیف میں بھارت کے اس دعویٰ کی نفی کی ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے واقعی دستاویز ہند کشمیر الحاق پر اپنے دستخط ثبت کر لیے ہیں۔ لیمب نے تاریخی واقعات کے تسلسل کی روشنی میں کہا ہے کہ مہاراجہ اس دستاویز پر دستخط کرنے سے ہر وقت کتراتے ہی رہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر حکومت ہند نے دستاویز الحاق کے اصل مسودہ کو آج تک ایک سرکاری دستاویز کی حیثیت میں یا بین الاقوامی اخبارات میں کبھی پیش نہیں کیا۔ ایک بھارتی صحافی ایم جے اکبر نے بھی جو خود کانگریس جماعت کے ممبر پارلےمنٹ رہ چکے ہیں، ہند کشمیر الحاق کو” پاکستان کو کشمیر سے محروم رکھنے والی نہر و ماونٹ بیٹن سازش“ کا نام دیا ہے۔(28)

22اکتوبر1947ءکو شروع ہونے والی ” قبائلی مداخلت“ سے لے کر 27اکتوبر تک کے تمام حالات و واقعات اور مہاراجہ ہری سنگھ، شیخ عبداللہ۔ مہر چند مہاجن اوروی پی مینن کی حرکات و سکنات کا تاریخ وار مشاہدہ کرنے کے بعد پروفیسر لےمبیہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ” اصل دستاویز الحاق در حقیقت ایک طبع شدہ فارم سے زیادہ کچھ نہیں تھی جیسے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے چھپی ہوئی درخواستیں فوری طور پر دستیاب ہوتی ہیں۔ لہٰذا اسی لیے اس میں ریاست کے نام مہاراجہ کے دستخط اور تاریخ کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اسی دستاویز کے ساتھ ایک اور طبع شدہ قبولیت نامہ بھی منسلک تھا۔ جس پر گورنر جنرل کی حیثیت میں لارڈ ماونٹ بیٹن کے دستخط ثبت کرنا اور تارےخ درج کرنا مقصود تھا۔“

یہ بھی پڑھیں:  ڈاکٹر محمود حسین خان، ایک عہد ساز شخصیت

کشمیر کے وزیراعظم مہر چند مہاجن کے لیےیہ کوئی دشوار عمل نہیں تھا کہ وہ 27اکتوبر کو اپنے ساتھ ایسا ہی ایک فارم لے کر پھر جموں گئے جس پر ایک روز قبل یعنی 26اکتوبر کی تاریخ درج تھی۔ اس پر گورنر جنرل کی منظوری کے دستخط پہلے ہی کروائے گئے تھے مگر ان پر27اکتوبر کی تاریخ درج تھی تاکہ مہاراجہ آرام سے اس پر دستخط کر سکیں۔(29)

حقائق کی روشنی میں بھی یہ بات ثابت نہیں ہو سکتی کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 26اکتوبر ہی کو جموں میں دستاویز الحاق پر اپنے دستخط ثبت کر لیے ہوں کیونکہ ان کے اپنے ہی صاحبزادے ڈاکٹر کرن سنگھ کے بقول وہ اس روز سفر میں تھے۔ کرن سنگھ اس دن کا چشم دید حال یوں بیان کرتے ہیں:

” اس روز یعنی25اکتوبر کو دسہرہ کی تقریب پر مجھے پیلس میں اکیلا چھوڑ دیا گیا جب کہ میرے والد اور ان کے مصاحب شہر کے محل میں ایک خوب صورت ہال میں دربار لگائے بےٹھے تھے۔“

 ساری روشنیاں گل ہو گئیں۔ حملہ آوروں نے دو میل کے مقام سے سری نگر جانے والی اس شاہراہ پر کشمیر کے واحد مہورا کے بجلی گھر کو تباہ کر دیا تھا جس سے وہ وادی کشمیر کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔

پھر یک بیک ایسا نظر آنے لگا کہ پیلس میں سرگرمیاں تیز تر ہوئی ہیں۔ نوکر چاکر پریشان حالی میں ادھر سے ادھر دوڑ رہے تھے تاکہ پٹرومیکس کی روشنیوں سے تارےکیوں کو دور کیا جا سکے۔

میرے والد دربار سے فوری طور پر لوٹ آئے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ اور مرجھایا ہوا تھا۔ اسی دوران وی پی مینن جہاز میں سری نگر آئے اور انھوں نے میرے والد کو جموں جانے کی تلقین کی جسے پہلے مہاراجہ نے فلور نہیں کیا لیکن بعد میں وہ راضی ہوئے۔

اس کے بعد شب خون کا مارا ہوا27اکتوبر کو رات گئے سری نگر سے ہجرت کا طویل سفر شروع ہوا۔ ہم ساری رات سفر میں رہے اگرچہ ہم اس وادی کو خیر باد کہنے کی ہر گز خواہش نہیں رکھتے تھے جس پر ہمارے آباو اجداد نے نسل در نسل حکمرانی کی تھی۔ ہمارا قافلہ 28اکتوبر کو پو پھٹتے وقت نو ہزار فٹ کی بلندی پر درہ بانہال کے پاس رینگ رہا تھا۔

میرے والد اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے اور ان کی بغل میں ان کا ایک دوست اور فرانسیسی جوہری وکٹر روزن تھال بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے پیچھے دو اسٹاف آفیسر بھری ہوئی پستولوں سمیت گاڑی میں سوار تھے۔ وکٹر نے مجھے بعد میں بتایا کہ مہاراجہ اس سفر کے دوران ایک لفظ بھی نہیں بولے جب وہ دوسری شام کو جموں پہنچے تو انھوں نے صرف یہ ایک بات کہی کہ ” کشمیر ہم سے چھن چکا ہے۔“(30)

کشمیر کی سرحدوں پر قبائلیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں بھارت سرکار کا یہ دعویٰ کہ وہ اس سلسلے میں قطعاً بے خبر تھی اور اسے صرف اس خط سے ہی تازہ صورت حال کا علم ہوا جوہری سنگھ نے لارڈ ماونٹ بےٹن کو26اکتوبر کو لکھا۔ واقعاتی طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے۔

ابھی ستمبر ہی کا مہینہ تھا کہ اس ماہ کی 27تاریخ کو پنڈت جواہر لال نہرو نے بھارت کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ایک گیارہ نکاتی خط لکھا۔ اس میں ایک ممکنہ ”پاکستانی مداخلت“ کا تذکرہ کرتے ہوئے نہرو نے خبردار کیا کہ” مجھے شک ہے کہ آیا مہاراجہ اور اس کی ریاستی فوجیں اس صورت حال کا مقابلہ کر سکتی ہیں جب تک کہ انھیں ایک عام حمایت حاصل نہ ہو۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ کشمیر میں جو سب سے بڑی عوامی جماعت ہے اور جو ان کا ساتھ دے سکتی ہے وہ شیخ عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس ہے۔ اگر اتفاق سےیہ جماعت مہاراجہ کی مخالف یا بالکل الگ تھلگ ہی رہی تو مہاراجہ اور اس کی سرکار بھی الگ تھلگ ہو کے رہ جائے گی اور پھر پاکستانیوں کو نسبتاً ایک کھلا میدان ہاتھ آ جائے گا۔“

لہٰذا مجھے اس کے سوا اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ مہاراجہ سب سے پہلے شیخ عبداللہ اور نیشنل کانفرنسیوں کو جیلوں سے رہا کرے۔ ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے ان کی حمایت حاصل کرے۔ انھیں اس بات کا احساس دلائے کہ مہاراجہ اس معاملے میں نیک نیت ہے اور پھر وہ بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کرے۔

ایک بار جب کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا پھر پاکستان کے لیے ریاست پر سرکاری طور پر یا غیر سرکاری طور پر بھارت سے پنجہ لڑائے بغیر حملہ کرنا بے حد مشکل بن جائے گا۔

میں اس بات کو بے حد اہمیت کا حامل سمجھتا ہوں کہ ریاست جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ ملحق ہونے میں کوئی دیر نہیں ہونی چاہئے۔ شیخ عبداللہ پاکستان سے دور رہنے کے لیے بے چین ہیں اور وہ ہم پر ہر قسم کے مشورہ کے لیے اعتبار کرتے ہیں۔(31)

پروفیسر لیمب کے خیال میں یہ مراسلہ اس بات کی شہادت پیش کرنے کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت پاک تصادم کی شکل اختیار کر سکتا تھا جس کے نتیجے میں براہ راست بھارتی عسکری مداخلت عمل میں آ سکتی تھی۔ اس سے صاف طور پر بھارت کییہ دلیل بھی رد ہو جاتی ہے کہ بھارت کو22اکتوبر1947ءکے واقعہ سے زبردست حیرانی ہوئی تھی۔(32)

ستمبر1947ءمیں جیل سے عبداللہ کی رہائی کے ساتھ ہی بھارت کے ساتھ ان کے سیاسی رشتے کا ارادہ پھر ایک بار بے نقاب ہو چکا تھا۔ کل ہند سٹیٹس پیوپلز کانفرنس کے سےکرٹری دوار کا ناتھ کاچرو نے نہرو کو اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں یہ اطلاع دی کہ ” شیخ عبداللہ اور ان کے قریبی ساتھیوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ شامل ہون گے لیکن یہ فیصلہ ابھی تک مشتہر نہیں کیا گیا ہے اور تاثریہ دیا جا رہا ہے کہ گویا نیشنل کانفرنس نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔“(33)

شیخ محمد عبداللہ کے بھارت سے منسلک ہونے کے فیصلے کے بارے میں مہر چند مہاجن نے بھی ایک اےسے تاریخی واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں عبداللہ کی بروقت خاموشی غالباً کشمیر کو بھارت کا ایک حصہ بنانے سے بچا سکتی تھی۔

کشمیر کی سنگین صورت حال کے فوراً بعد جب مہر چند مہاجن بھارت کی فوجی امداد کے حصول کے لیے دہلی گئے اور جواہر لال نہرو نے فوری طور پریہ امداد دینے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو ان کے بقول ” پھر میں نے وزیراعظم ہند جواہر لال نہرو کو بتایا کہ مجھے(مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے)یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر ہمیں فوری طور پر فوجی امداد نہیں دی گئی تو میں پاکستان چلا جاوں ۔یہ سن کر نہرو پریشان ہو گئے اور ناراضگی میں مجھ سے بولے“ مہاجن دفع ہو جاو۔

” میں کحڑا ہو کر کمرے سے نکلنے والا ہی تھا کہ سردار پٹیل نے میرے کان میں یہ کہہ کر مجھے روکے رکھا کہ مہاجن تم پاکستان نہیں جاو گے۔“

” اسی وقت وزیراعظم کو کاغذ کا ایک پردہ دیا گیا۔ انھوں نے وہ پڑھا اور بہ آواز بلند کہا“ اچھا شیخ صاحب کا بھی یہی خیال ہے شیخ عبداللہ اس ڈرائنگ روم کے ساتھ ملحق ایک شبستان میں بیٹھ کریہ ساری گفتگو سن رہے تھے جہاں ہم بات کر رہے تھے۔ نہرو کا لہجہ اسی وقت بدل گیا۔(34)

نام نہاد بھارت کشمیر الحاق کی رو سے بھارتی افواج کو ظاہری طور پر 27اکتوبر کو سری نگر روانہ کیا گیا لیکن اس سے قبل ہی ریاست جموں کشمیر میں پٹیالہ کی مسلح افواج داخل ہو چکی تھیں حالانکہ ریاست پٹیالہ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی بھارت کا ایک جزو لاینفک بن چکی تھی اور اس کی اپنی ریاستی افواج کا خود مختار کردار ختم ہو کے رہ گیا تھا اور وہ بھارت سرکار کی فوج کا ایک باضابطہ حصہ بن چکی تھیں۔

پٹیالہ کے سکھ مہاراجہ نے اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں ہی مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس اپنی پیادہ فوج کی ایک بٹالین اور توپ خانہ بھیجا تھا۔ غالباًیہ امر اسی وقت طے پایا تھا جب مہاراجہ پٹیالہ جولائی 1947ءمیں کشمیر کے دورے پر آیا تھا۔

27اکتوبر کو جب بھارتی فوجی دستے علی الصباح سری نگر کے ہوائی اڈہ پر اترے تو انھیںیہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پٹیالہ کے بندوقچی پہلے ہی سے اس ہوائی اڈہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے جہاں انھیں کم از کم 17اکتوبر سے تعینات کیا گیا تھا۔یہ بندوقچی کس طرح سری نگر لائے گئے اس کا آج تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں ان گاڑیوں میں بھر بھر کر کشمیر پہنچا یا گیا جو رسد اور دیگر اشیاء لے کر جموں سے سری نگر آئی تھیں۔یہ رسد بھارت سرکار کی طرف سے مہاراجہ کی اس التجا کے بعد روانہ کی گئی تھی کہ پاکستان نے ریاست کو اشیاءکی فراہمی بند کر دی ہے۔ بھارتی فوج کی مداخلت کے فوراً بعد پٹیالہ کا مہاراجہ یدھور ندر سنگھ بہ نفس نفیس اپنے فوجیوں کی کمانڈ کرنے کی غرض سے جموں آ گیا۔(35) السٹائر لےمب کی رائے میں پٹیالوی دستوں کی آمد خفیہ طور پر عمل میں لائی تھی اور اس کا علم سردار پٹیل اور وزیر دفداع بلدیو سنگھ کو تھا لےکن وزیر اعظم نہرو کو اس اقدام سے بے خبر ہی رکھا گیا۔

ایک پاکستانی تاریخ دان کی رائے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعطل کے شکار سب سے زیادہ کشمیر کے لوگ ہوئے ہیں جنہیں اس تنازعہ کے حل نہ ہونے کی وجہ سے سےاسی اقتصادی اور ثقافتی طور پر بے حساب نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 1947ءمیں سیکیولر قوم پرستوں اور مسلمان قوم پرستوں کی تقسیم نے کشمیر کے بحران کو پیدا کرنے کی سمت میں راستہ ہموار کیا۔ شیخ عبداللہ نے خود اپنے سوانح حیات میں تسلیم کر لیا ہے کہ تقسیم کے دنوں میں کشمیر کے عام آدمی کا رحجان پاکستان کی طرف تھا۔ا س طرح سے عبداللہ نے خود اپنے سیاسی مفادات کی قربان گاہ پر کشمیری عوام کے سکھ چین کی بلی چڑھا دی۔(36)

یکم جنوری1948ءکو بھارت انجمن اقوام متحدہ کے پاس اپنایہ مقدمہ لے کر گیا کہ ” پاکستان نے اس کی سرزمین پر حملہ کیا ہے جو قانونی طور پر اس کا ایک حصہ ہے۔“

اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں بھارت اور پاکستان کے دلائل سنے اور بالآخریہ فیصلہ دیا گیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں ایک غیر جانب دار رائے شماری کروا کے کشمیر کے لوگوں کی خواہش معلوم کی جائے۔ بھارت کے اس موقف کی بنا پر کہ ریاست اس کا ایک ” اٹوٹ انگ“ ہے اس فیصلہ سے متعلق قرار دادیں آج تک روبہ عمل نہیں لائی جا سکی ہیں۔ 1947ءکے بعد بھارت اور کشمیر کے رشتے کی جو کہانی ہے وہ کلاسےکی یونانی ادب کے کسی المیہ سے زیادہ افسوس ناک اور غم ناک ہے۔

جواہر لال نہرو نے ایک بار کہا تھا کہ ” شیخ عبداللہ کشمیر ہے اور کشمیر شیخ عبداللہ“ لیکن1953ءمیں اسی شیخ عبداللہ کو جو ریاست کے وزیراعظم کے عہدہ جلیل پر تھے، اپنے منصب سے ہٹا کر قید خانے کی سلاخوں کے پےچھے دھکیل دیا گیا۔ پہلے ان کے خلاف اس الزام کی تشہیر کی گئی کہ وہ امریکہ کے ساتھ ساز باز کر کے ایک خود مختار کشمیر کے لیے سر گرم عمل تھے۔ لیکن جب یہ حربہ کارگر ثابت نہ ہوا تو 1958میں ان کے خلاف کشمیر سازش کیس دائر کیا گیا جس کی رو سے عبداللہ پاکستان کے ساتھ اس سازش میں ملوث تھے جس کا مقصد ریاست کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

اصل میں1947ءہی سے نئی دہلی کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر میں جمہوری اداروں کو تہس نہس کر کے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی۔یہی وجہ ہے کہ ریاست میں نہ تو کسی حکومت کو اپنی آئینی مدت پورا کرنے کا موقعہ دیا گیا۔ نہ ہی انتخابات آزادانہ طور پر عمل میں لائے گئے۔ اور نہ ہی انتظامیہ اور عدلیہ کی آزادی کا احترام کیا گیا۔

1953ءمیں بھارت کے سب سے بڑے وفادار اور کشمیر بھارت الحاق کے علمبردار شیخ عبداللہ کو پس زنداں کر کے ان کے نائب بخشی غلام محمد کو وزیراعظم کی گدی پر بٹھایا گیا۔ اس موقعہ پر لارڈ برٹرینڈرسل نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ” بھارتی حکومت کی بین الاقوامی معاملات میں جس بلند نظری کا پرچار کرتی ہے جب یہ نظر آئے کہ اپنی اس بلند نظری کو بھارت ہی نے کشمیر کے سلسلے میں خاک میں ملا دیا ہے تو دل پر ایک احساس نامرادی چھا جاتا ہے۔“(37)

1963ءمیں بخشی کو بھی کامراج پلان کی بھینٹ چڑھا کر اپنے عہدہ سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ 1963ءمیں شمس الدین ریاست کے تیسرے وزیراعظم بنائے گئے۔ اسی سال دسمبر میں سری نگر کی حضرت بل کی زیارت گاہ سے آنحضور کے موئے مقدسﷺ کو چرایا گیا تو شمس الدین کو بھی نا معلوم وجوہات کی بنا پر چلتا کیا گیا۔

اپریل1964ءمیں غلام محمد صادق وزیر اعلیٰ مقرر ہوئے تو چند سال گذرنے کے بعد ان کے خلاف بھی کانگریس کے صدر سید میر قاسم اور ایک اور بھارت نواز سیاست دان محمد شفیع قریشی کو صف آراءہونے کی ہدایت کی گئی۔ دسمبر1971ءمیں خدا نے صادق کی لاج رکھ لی اور وہ انتقال کر گئے۔ 1971ءمیں میر قاسم کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا اور چار سال بعد جب بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی چوکھٹ پر شیخ عبداللہ اپنی سابقہ غلطیوں کی ندامت کا اظہار کر کے پھر ایک بار ” بھارت نواز“ بننے کی قسم کھا کر سجدہ ریز ہوئے تو میر قاسم کو ہٹا کر عبداللہ کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا۔

1982ءمیں عبداللہ نے وفات پائی۔ اگر وہ کچھ برس اور زندہ رہتے تو شاید ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو بعد میں ان کے صاحبزادے فاروق عبداللہ کا ہوا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد ستمبر1982ءمیں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو بر سر اقتدار لایا گیا لیکن صرف دو سال سے بھی کم عرصے میں اندرا گاندھی نے انھی کے بہنوئی غلام محمد شاہ کو حرص و ہوا کے جال میں پھنسا کر جولائی 1984ءمیں ایک ایسی کٹھ پتلی حکومت کا سربراہ مقرر کر لیا جو بعد میں ”کرفیو سرکار“ کے نام سے مشہور ہوئی۔ کیونکہ شاہ کے مختصر دور حکومت میں کوئی مہینہ ایسا نہیں جاتا تھا جب شاہ سرکار عوامی غیض و غضب کو دبانے کی خاطر کرفیو پر کرفیو نافذ نہ کرتی۔ فروری1986ءمیں جب مفتی سعید کی کشمیر کانگریس کے آوارہ گردوں نے جنوبی کشمیر کے اسلام آباد ضلع کے چند دےہاتوں میں کشمیری پنڈتوں(ہندووں) کی جائیدادوں کو نقصان پہنچایا تو ریاستی گورنر جگ موہن نے نئی دہلی کی ہدایت پر شاہ کو معطل کر کے ریاست پر گورنر راج لاگو کر دیا۔ اکتوبر1984ءمیں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ان کا فرزند راجیو گاندھی بھارت کا وزیراعظم بن گیا تھا جس نے نومبر1986ءمیں پھر فاروق عبداللہ کو ریاست جموں کشمیر کا وزیر اعلیٰ نامزد کر لیا۔

مارچ1987ءمیں راجیو گاندھی اور فاروق عبداللہ کی ملی بھگت سے کشمیر میں حسب معمول اور پھر ایک بار فریب دہی اور دھوکہ بازی پر مبنی دھاندلیوں سے پر جو انتخابات کرائے گئے تاکہ مسلم متحدہ محاذ نامی حزب اختلاف کو عوامی حمایت حاصل ہونے کے باوجود ناکامی سے دو چار کیا جائے، وہ ان ساری غیر آئینی اور غیر قانونی کارروائیوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے کیونکہ انھی انتخابات کے بعد کشمیری نوجوانوں نے 1947ءکے بعد پہلی بار بندوق ہاتھ میں اٹھا کر بھارت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔”یہ جنگ آج بھی جاری ہے۔“

پچھلی نصف صدی کے دوران بالعموم اور 1990ءکے بعد بالخصوص اہل کشمیر نے آزادی کی منزل پانے کی جستجو میں جو بھی مرحلے طے کیے ان میں گام گام پر ہزاروں کشمیریوں کا خون بکھرا پڑا۔ زعفران زاروں اور چناروں کے دیس میں پلنے والے مجبور اور مقہور لوگوں کایہ خون کبھی نہ کبھی رنگ لائے گا اور کل کی سر سبز اور لہلہاتی وادی کشمیر جو آج لہولہان ہو چکی ہے زندگی اور آزادی کی فضاوں میں شگفتہ اور شاداب ہو کر پھر جھوم اٹھے گی۔

٭٭٭
حواشی
1- محب الحسن: ”کشمیر انڈردی سلطانز“، علی محمد اینڈ سنز سری نگر، 1974، ص28۔
2- پرتھوی ناتھ کول بامزئی: ”اے ہسٹری آف کشمیر“، میٹرو پالٹن بک کمپنی نئی دہلی، 1973ءص308۔
3- ایم ناظم: ”دی لایف اینڈ ٹائمز آف سلطان محمود آف غزنہ“، کےمبرج پریس لندن، 1931، ص105-104۔
4- ”کشمیر انڈر دی سلطانز“، ص180-181۔
5- ڈیو جارک، ترجمہ سی ایچ پاینے: ”اکبر اینڈ دی جیسیوٹس“، براڈوے سیریز لندن، 1926، ص76۔
6- سر والٹر آر لارنس: ”دی ویلی آف کشمیر“، کیسر پبلشرز سری نگر، 1967، ص197۔
7- اے اینڈ سی بلیک: ”کشمیر، سر فرانسس ینگ ہسبنڈ“، لندن 1917ئ، ص142۔
8- بامزئی: A History of Kashmir، ص611۔
9- ڈاکٹر جی ایم ڈی صوفی: ”کشمیر“، جلد دوم، پنجاب یونیورسٹی پریس لاہور، 1949ءص726۔
10- بامزئی: A History of Kashmir، ص611۔
11- ہفت روزہ نصرت لاہور، کشمیر نمبر28فروری1960ئ، ص237۔
12- پریم ناتھ بزاز: ”سڑگل فار فریڈم ان کشمیر“، کشمیر پبلشنگ کمپنی نئی دہلی، 1954ءص123۔
13- بامزئی: A History of Kashmir، ص656۔
14- غلام نبی خیال: ”صدائے کشمیر“، کشمیری رائیٹرس کانفرنس سری نگر، 1994، ص13-14۔
15- امان اللہ خان: ”جہد مسلسل“، ایس ایس کمبائنڈ، راوّلپنڈی، 1992 ص333۔
16- ہفت روزہ اقبال، سری نگر، 24مئی 1971۔
17- عنصر صابری: ”تاریخ کشمیر، زمانہ ما قبل تاریخ تا اقوام متحدہ“، پروگریسو بکس لاہور، 1991، ص137۔
18- ایضاً، ص140۔
19- ہفت روزہ نصرت کشمیر نمبر لاہور، ص76۔
20- ڈاکٹر صابر آفاقی: ”اقبال اور کشمیر“، اقبال اکادمی پاکستان لاہور، 1977، ص66-67۔
21- محمد حمزہ فاروقی: ”اقبال کا سےاسی سفر“، بزم اقبال لاہور، 1992ئ، ص364۔
22- ایضاً، ص719۔
23- ایضاً، ص722۔
24- ایضاً، ص722۔
25- جوزف کوربیل: ”ڈینجران کشمیر“، پرنسٹن یونیورسٹی پریس، نیو جرسی، 1966ء، ص22۔
26- ایضاً، ص22-23۔
27- ایضاً ، ص70۔
28- کشمیر ، ”بی ہاینڈ دی ویل“ ، واےکنگ نئی دہلی، 1991، ص99۔
29- السٹایر لیمب: کشمیر، ”اے ڈسپیوٹڈ لیگیسی“، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی، 1993، ص143۔
30- کرن سنگھ: ”ہیرا پرنٹ“، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، بمبئی، 1983، ص57-59۔
31- ”سردار پٹیل سرکار سپانڈنس، جلد اوّل، 1945-50ءنیو لایٹ آن کشمیر“، نو جیون پبلشنگ ہاوس، احمد آباد، 1971، ص49-50۔
32- : ”کشمیر اے ڈسپیوٹڈ لیگیسی“، ص142۔
33- ”سردار پٹیلس کار سپانڈنس“، ص54۔
34- مہر چند مہاجن: ”لکنگ بیک“، ایشیا پبلشنگ ہاوس بمبئی، 1963، ص152۔
35- محمد یوسف صراف: ”کشمیر، اے ڈسپیوٹڈ لیگیسی“، ص131اور کشمیریز فایٹ فار فریڈم، فیروز سنز لاہور، 1979، ص909۔
36- طاہر امین: ”ماس ریزسٹنس ان کشمیر“، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد، 1995ئ، ص29۔
37- برٹرینڈرسل: ”نیو ہوپس فار اے چینجنگ ورلڈ“، لندن 1955، ص145-146۔

اپنا تبصرہ بھیجیں