Noor_case

نور مقدم کیس:ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت خارج

EjazNews

ملزمان کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ پہلے دن سے میرے موکل نے قتل کی مذمت کی ہے، ہم متاثرہ فریق کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں ہیں۔

درخواست گزار کو یہ علم نہیں تھا کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے، صرف والدین سے بیٹے کی کال پر رابطے ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جبکہ ماں اور بیٹے کا رابطہ ہونا کوئی جرم تو نہیں۔

ملزمان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وقوعے کے روز ملزم کا والدین سے رابطہ ہونا معمول کی بات ہے۔

اسلام آباد کی عدالت نے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کے قتل کیس میں نامزد ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت کو خارج کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے بڑی ریاستی دہشت گردی کی کیا مثال ہوسکتی ہے:ترک صدر طیب اردگان

نور مقدم کیس میں ملزم ظاہر جعفر کے والدین کو پولیس نے جرم میں اعانت کرنے پر گرفتار کر رکھا ہے۔گذشتہ روز عدالت نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج سنایا گیا۔

دوسری جانب گذشتہ روز سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم کی والدین کے ساتھ بات ہو رہی تھی لیکن انہوں نے پولیس کو آگاہ نہیں کیا۔ جب ملازم نے کال کی تو اس وقت وہاں ایکٹ ہورہا تھا انہوں نے پولیس کے بجائے تھراپی ورک والوں کو بھیجا۔

سرکاری وکیل نے عدالت میں بتایا کہ پولیس نے پستول بھی برآمد کیا ہے جو کہ ملزم کے والد ذاکر جعفر کے نام پر ہے، بددیانتی کی بنیاد پر انہوں نے بچے کو بچانے کی کوشش کی اور پولیس کو اطلاع نہیں دی، اس موقع پر ضمانت کی درخواست مسترد کی جائے۔

متاثرہ فریق شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے بھی ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ شوکت مقدم نے پولیس کی موجودگی میں اپنی بیٹی کی نعش کو دیکھا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور کال ریکارڈ ڈیٹا سے ثابت ہو چکا ہے کہ ملزم والدین کے ساتھ رابطے میں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور زلمی اور لاہور قلندرز نے ٹیموں کی مضبوطی کیلئے نئے کھلاڑی شامل کر لیے

وقوعے کے وقت ملزم نے والد اور والدہ دونوں کو کالز کیں، آدھے کلومیٹر پر پولیس سٹیشن ہے، چوکیدار کو پولیس سٹیشن بھیجنے کے بجائے تھراپی سینٹرز سے اہلکاروں کو بھیجا گیا۔ بادی النظر میں ذاکر جعفر اور عصمت کا ایکٹ ملزم کے ساتھ کنیکٹ ہوتا ہے اور یہ کافی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں