abdul_Qayyum_Niazi

آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں؟

EjazNews

آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے تحریک انصاف کے رہنما سردار عبدالقیوم خان نیازی کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا ہے۔

سردار عبدالقیوم نیازی 33 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ حزب اختلاف کے امیدوار پی پی پی کے لطیف اکبر نے 15 ووٹ لیے۔ اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد 53 ہے جس میں ووٹنگ کے وقت 48 ارکان موجود تھے۔

سردار عبدالقیوم نیازی آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں واقع علاقے عباس پور کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ درہ شیر خان نامی گاؤں میں 1969میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان 1947 میں انڈین زیر انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے لائن آف کنٹرول کے اس جانب آیا تھا۔ ان کا گاؤں درہ شیر خان لائن آف کنٹرول کے ساتھ متصل ہے اور اکثر کراس بارڈر فائرنگ کی زد میں رہتا ہے۔

عبدالقیوم نیازی نے الیکشن2021 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر حلقہ ایل اے 18 عباس پور سے 24 ہزار841 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس الیکشن میں ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے چوہدری یاسین گلشن نے 16ہزار 64 ووٹ حاصل کیے۔ انہیں اپنے سیاسی حریف پر مجموعی طور پر آٹھ ہزار سات سو 77 ووٹوں کی برتری حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  15ستمبر سے مرحلہ وار سکول کھلیں گے:وفاقی وزیرشفقت محمود

عبدالقیوم خان نیازی اس سے قبل ریاستی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا حصہ تھے۔ وہ 2016 کے الیکشن کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نےآزاد کشمیر کے 2006 الیکشن میں کامیابی حاصل کی تھی اور ان کے پاس2011 تک کابینہ میں مختلف وزارتوں کے قلمدان رہے۔

ان کے بڑے بھائی سردار مصطفیٰ خان بھی 1987 اور 1991 میں رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ عبدالقیوم نیازی طویل عرصے سے سیاسی میدان میں موجود ہیں۔ 80 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں انہیں سب سے کم عمر ڈسٹرکٹ کونسلر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

اب ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا سردار عبد القیوم نیازی کے ساتھ جو لفظ ’’نیازی‘‘ ہے ۔ اس کا تعلق اسی خاندان سے ہے جوو زیراعظم کا ہے۔ تو اس کا جواب مقامی میڈیا کے مطابق یہ ہے کہ عبدالقیوم نیازی صاحب کے سوا ان کے خاندان کا کوئی بھی اور فرد یا قبیلے کا کوئی اور فرد اپنے نازمی کے ساتھ ’’نیازی‘‘ نہیں لکھتا ۔ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ نیازی کا اضافہ کیوں کیا اس سوال کا جواب ابھی فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے۔ کیونکہ نئے وزیراعظم کا تعلق مغل قبیلے کی دلی شاخ سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب حکومت کا بلدیاتی آرڈیننس سپریم کورٹ پر حملہ ہے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اپنا تبصرہ بھیجیں