women_in_occopation_kashmir

فیصلوں کے نتائج بھگتنے والی مظلوم کشمیری خواتین

EjazNews

یہ کہانی شروع ہوتی ہے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور سے۔ سابق صدر کے دور میں انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں بڑی بہتری تھی۔ دونوں ممالک کے وفود بھی ایک دوسرے کے ہاں آ جا رہے تھے اور مذاکرات کا ایک طویل سلسلہ جاری تھا۔

انہی مذاکرات میں طے پایا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان بس سروس شروع کی جائے گی جس میں دونوں طرف کے کشمیری میل ملاپ بھی کر سکتے ہیں اور اسے تجارت کیلئے بھی استعمال کرنا شامل تھا۔

انڈیا اور پاکستان کے مذاکرات طے پائے اور دونوں طرف کے کشمیریوں کیلئے بس سروس شروع ہو گئی۔ بچھڑے ہوئے خاندان ایک دوسرے سے ملنا شروع ہوئے اور اسی دوران بہت سے خاندانوں نے آپس میں بچیوں اور بچوں کی شادیاں بھی کیں۔

مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر کھلی جیل میں بند کر دیا گیا

آزاد کشمیر سے بیاہ کر بہت سے خاندان مقبوضہ کشمیر میں بچیوں کو لے گئے ۔ معاملات ٹھیک چل رہے تھے ، لیکن اس باریک بینی کی طرف مذاکرات کے دوران کسی نے بھی غور نہیں کیا یا پھر معاملہ پبلک نہیں ہوا کہ آزاد کشمیر سے جو لڑکیاں بیاہ کر مقبوضہ کشمیر میں جائیں گی اگر ان کا شوہر مر جاتا ہے یا پھر ان کو طلاق دے دیتا ہے اس صورت میں ان کا مستقبل کیا ہوگا کیونکہ ان کے پاس تو انڈین نیشنلٹی نہیں ہوگی ۔ انڈیا دنیا کو دکھانے کیلئے مذاکرات مذاکرات کھیل رہا تھا لیکن اس نے ان خواتین کو کبھی نیشنلٹی نہیںدی۔
انڈیا میں کانگریس کی حکومت ختم ہوئی اور اس کے بعد انڈیا کی متشدد جماعت بی جے پی برسر اقتدار آئی۔ نریندرا مودی نے اقتدار کی کمان سنبھالی اور بات آگے بڑھنے کی بجائے ریورس ہونا شروع ہو گئی۔ اس دوران کچھ ناخوشگوار واقعات بھی ہوئے ۔ جن کو بہانہ بنا کر مقبوضہ کشمیرکے لوگوں کو ایک مرتبہ پھر کھلی جیل میں بند کر دیا گیا۔حالانکہ دوسری جانب چین کے ساتھ امریکہ کی جنگ ہونے والی تھی لیکن اس کے باوجود چین کے ساتھ انہوں نے اپنی تجارت ختم نہیں کی۔ اس کا ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جب بھی الیکشن ہوتا ہے یا پھر انڈیا میں کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو اس کی تحقیقات کے بغیر آسان ترین حربہ یہ ہے کہ یہ پاکستان نے کیا ہے کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اورآسٹریلیا انگلینڈ سے جیت گیا
انسانی ہمدردی کے تحت سوچئے، انسانیت کے تحت سوچئے، کوئی دین ایسا نہیں ہے جو انسانیت کیخلاف ہو، کبھی صرف انسان بھی سوچئے۔

اب آتے ہیں ہم اپنی اصل بات کی جانب۔ آزاد کشمیر سے بیاہ کر جانے والی خواتین جو مقبوضہ کشمیر میں ہیں ان میں سے بہت سوں کے شوہر وفات پا چکے ہیں اور کچھ کو طلاق ہو چکی ہے۔ یہ خواتین اب بے سروسامانی کی حالت میں ہیں۔ نہ تو ان کا کوئی پرسان حال ہے۔ ان کے بھائی بہن ، ماں باپ ، رشتہ دار آزاد کشمیر میں رہتے ہیں اور یہ مقبوضہ کشمیر میں بے سروسامانی میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہی ہیں۔

ان خواتین کیلئے مختلف انٹرنیشنل اور نیشل میڈیا گروپس نے بھی آواز بلند کی کہ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے ان خواتین کا خیال کیا جائے۔

گزشتہ چند روزقبل دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ان خواتین نے اپنے بچوں کے ہمراہ مقبوضہ کشمیر سے ایل او سی کی جانب اوڑی کی طرف مارچ کیا ۔ وہ آزاد کشمیر میںآنا چاہتی تھیں۔ وہ اپنے پیاروں کے درمیان رہنا چاہتی تھیں لیکن انڈین فورسز نے انہیں وہاں سے آگے نہیں جانے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت سمیت دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں:وزیراعظم

اب یہ خواتین عجیب و غریب کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی شہریت انہیں مل نہیں رہی اور آزاد کشمیر میں انہیں جانے دیا نہیں جارہا ۔ یہ اپنے بچوں کے ہمراہ جس اذیت سے گزر رہی ہیں اس کا اندازہ صرف ان کو ہو سکتا ہے جن کی اولاد ہے یا پھر جنہوں نے اپنی بیٹیاں بیاہی ہوئی ہیں۔

یہ خواتین قابل رحم بھی ہیں اور قابل ہمدردی بھی۔ بعض کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ اپنی بینائی کھو چکی ہیں۔ سوچئے دیار غیر میں نہ شوہر رہا نہ اولاد ہے ۔ یہ کیسے زندگی بسر کر رہی ہوں گی۔اور جہاں وہ رہ رہی ہیں یہ ملک بھی انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔

پالیسیاں بنانے والے آج بھی ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر نوکریاں کر رہے ہوں گے اور ان فیصلے پر مہر ثبت کرنے والے اپنے عالیشیان گھروں میں بہترین زندگی گزاررہے ہوں گے۔ لیکن فیصلوں کے نتائج بھگتنے والوں کے بارے میں سوچئے ، انسانی ہمدردی کے تحت سوچئے، انسانیت کے تحت سوچئے، کوئی دین ایسا نہیں ہے جو انسانیت کیخلاف ہو، کبھی صرف انسان بن کر بھی سوچئے۔

یہ بھی پڑھیں:  الیکشن کمیشن کا بڑے افسروں سے متعلق اہم فیصلہ

اپنا تبصرہ بھیجیں