Arshad_nadeem

ٹوکیو اولمپکس: میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم فائنل راﺅنڈ میں پہنچ گئے

EjazNews

میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم اولمپکس کی تاریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کسی انویٹیشن کوٹے یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔
ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے قریب واقع گاوں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔

ارشد ندیم نے 2019 میں نیپال کے شہر کٹھمنڈو میں ہونے والے ساوتھ ایشین گیمز میں 86.29 میٹرز دور نیزہ پھینک کر نہ صرف ساوتھ ایشین گیمز کا نیا ریکارڈ قائم کیا تھا بلکہ اس کارکردگی کے بل پر وہ براہ راست ٹوکیو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے تھے۔

ریخ میں پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں جنھوں نے کسی انویٹیشن کوٹے یا وائلڈ کارڈ کے بجائے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔

ارشد ندیم دوسرے راونڈ میں 85.16 میٹر کے فاصلے تک جیولین پھینکنے میں کامیاب ہوگئے۔ ارشد ندیم جیولین تھرو کے گروپ بی میں پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہیں۔

واپڈا سے تعلق رکھنے والے ارشد ندیم نے جیولن تھرو کے فائنل راﺅنڈ تک پہنچنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ ہیں۔ جیولین تھرو کا فائنل راونڈ 7 اگست کو کھیلا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد یونائیٹڈ کی شاندار کارکردگی ، لاہور قلندرز کو شکست دے دی

ارشد ندیم کے کیرئیر میں دو کوچز رشید احمد ساقی اور فیاض حسین بخاری کا اہم کردار رہا ہے۔رشید احمد ساقی ڈسٹرکٹ خانیوال ایتھلیٹکس ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے علاوہ خود ایتھلیٹ رہے ہیں۔ وہ اپنے علاقے میں باصلاحیت ایتھلیٹس کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں