Broadsheet

براڈ شیٹ معاملہ کیا ہے؟، کیوں پیسوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟

EjazNews

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے تقریباً 20 سال قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی غیر ملکی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے براڈشیٹ سے معاہدہ کیا تھا۔

دسمبر 2018 میں برطانوی عدالت نے واحد ثالث کے طور پر حکومت پاکستان کو براڈشیٹ کو 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

جولائی 2019 میں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جو ناکام رہی، ثالثی عدالت کے مطابق پاکستان اور نیب نے غلط طور پر براڈشیٹ کے ساتھ اثاثہ برآمدی کا معاہدہ ختم کیا اور کمپنی کو نقصان کا ہرجانہ ادا کیے جانے کا حکم دیا۔

جس کے بعد براڈشیٹ مذکورہ رقم کی ادائیگی کے لیے 6 ماہ تک نیب عہدیداران کے علاوہ اٹارنی جنرل کے ساتھ بات چیت کرتی رہی۔

اکتوبر 2019 میں کاوے موسوی نے 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے لیے شہزاد اکبر سے ملاقات کی جنہوں نے قومی خزانے کا نقصان کم کرنے کے لیے رعایت طلب کی۔

کاوے موسوی نے رعایت کی درخواست مسترد کردی اور ادائیگی پر عملدرآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیا جس پر کمپنی دسمبر 2019 میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جس نے حکومت پاکستان کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بمع سود براڈشیٹ کو ادا کرنے پر مجبور کیا۔

اس وقت سے لے کر اثاثہ برآمدگی کمپنی اپنی خدمات کی ادائیگی محفوظ بنانے کے لیے برطانیہ میں حکومتِ پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد اداروں کو ہدف بنا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کابینہ نے قومی کمیشن برائے اقلیت کی تشکیل نو کی بھی باضابطہ منظوری دی ہے:وزیراطلاعات

براڈشیٹ نے ایون فیلڈ ہاوس کے 4 فلیٹس پر بھی دعویٰ کیا تھا جسے بعد میں عدالت نے خارج کردیا تھا لیکن کمپنی نے حکومتِ پاکستان کو خط لکھ کر نیب کے ذمہ واجب الادا رقم برآمد کروانے کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کروانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

قل ازیں حکومت پاکستان سے اپنے واجبات حاصل کرنے کے لیے براڈشیٹ کے وکلا نے شریف لیگل ٹیم سے بھی رابطہ کیا تھا جس پر عمل نہ ہوسکا۔

رواں برس جنوری میں برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ نے نیب کی جانب سے براڈشیٹ کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاونٹ سے 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر منہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

دونوں فریقین کا موقف سننے کے بعد عدالت نے نیب اور پاکستانی حکومت کو 12 لاکھ 22 ہزار 37 ڈالر اور 110 پاونڈز کے ساتھ ساتھ نیب کے وکیل کو دعویدار کی درخواست کی لاگت کے 26 ہزار 296 پاونڈ ادا کرنے کا حکم دیا۔

لندن ہائیکورٹ نے نیب کو حکم دیا ہے کہ وہ 13 اگست تک براڈشیٹ کو 3مختلف مدات میں مجموعی طورپر 920,000 پونڈ (تقریبا ً 20کروڑ 88لاکھ پاکستانی روپے ) ادا کرے ورنہ یونائیٹڈ نیشنل بینک کو 17 اگست یہ رقم براڈ شیٹ کو اداکرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے براڈ شیٹ کی جانب سے 33,646 پونڈ (76لاکھ 38 ہزار روپے ) سود کی ادائیگی کا دعویٰ مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:  روشن اپنی کار سکیم کیا ہے؟

حکومت پاکستان اور نیب کے خلاف نیب کے دعوے کی سماعت کے بعد ماسٹر ڈویژن نے نیب کو 3 مختلف مدات میں 892,521.50 پونڈ 110 پونڈ اور اضافی اخراجات کی مد میں 26,296.80 پونڈ براڈ شیٹ کو ادا کرنے کاحکم دیا۔ ماسٹر ڈویژن نے حکم دیا کہ نیب یہ فنڈز 10 اگست تک اپنے وکلا ایلن اور اووری کے اکائونٹ منتقل کرے اور پھر 13 اگست تک رقم براڈ شیٹ کو منتقل کردی جائے۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ اس میں سے اگر کوئی بھی رقم مقررہ وقت کے اندر ادا نہیں کی گئی تو پھر عبوری حکم حتمی بن جائے گا اور یونائیٹڈ نیشنل بینک یہ رقم17 اگست کے اندر براڈشیٹ کو منتقل کرنے کا پابند ہوگا۔

براڈشیٹ کے وکلاء نے عدالت سے 33,646.84 سود کی ادائیگی کیلئے بھی رجوع کیا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا، تاہم عدالت نے براڈ شیٹ کو VAT سمیت 26,296.80 پونڈ اضافی اخراجات کے طورپر ادا کرنے کا حکم دیا۔

سماعت کے دوران نیب کے وکلا نے یہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی یہ درخواست قبل از وقت دائر کی گئی ہے لیکن ماسٹر ڈویژن نے اس دلیل کو رد کردیا اور نیب اور اس کے وکلا پر مقدمے کی مناسب طورپر پیروی نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

حکومت پاکستان کے وکلاء نے براڈ شیٹ اور اس کے سی ای او کاوے موسوی کو بتایا تھا کہ وہ 1,222,037.90 ڈالر اور 110 GBP ادا کرنے کو تیار ہیں لیکن سود کی مد میں33,646.84 پونڈ اور اخراجات کی مد میں 35,000 ہزار پونڈ ادا نہیں کریں گے، کئی ماہ کی تاخیر کے بعد حکومت پاکستان کے وکلا نے عدالت میں مقدمے کی سماعت سے قبل گزشتہ ہفتہ بتایا تھا کہ انھیں نیب کی جانب سے 1,222,037.90 ڈالر ادا کرنے کی منظوری مل گئی ہے لیکن بات چیت اور منظوری اور دیگر رقم کے مطالبے پر فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  آج دنیا میں تبدیلی کے اصل محرکات، آبادیات، معیشت اور ٹیکنالوجی ہیں:آرمی چیف

ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر لاگو ہوجائے گا جو کریڈیٹر کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جس کے پاس بھی رقم ہے اس سے لے لے۔

نیب اور براڈشیٹ ایک مرتبہ پھر عدالت میں اس وقت پہنچے جب دونوں قانونی اخراجات اور سود کی ادائیگی پر متفق نہیں ہوسکے تھے۔

نیب کی جانب سے وکلا نے 12 لاکھ 22 ہزار 37 ڈالر اور 110 پاونڈز ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن براڈشیٹ کی جانب سے 33 ہزار پاونڈ سود اور 35 ہزار پاونڈ کے قانونی اخراجات ادا کرنے کی مخالفت کی۔

چنانچہ عدالت نے حکم دیا کہ 12 لاکھ ڈالر اور 110 پاونڈ کی ادائیگی کے ساتھ نیب اور حکومت پاکستان براڈشیٹ کو 26 ہزار 296 پاونڈز بھی ادا کریں گے، یہ رقم براڈشیٹ کے سود اور اخراجات کی مد میں کیے گئے مطالبے سے کم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں