sheikh_rasheed

ظاہر جعفر کیس میں کوئی باقی نہیں بچا، فیصلہ عدالت کو کرنا ہے، شواہد مکمل ہیں:وزیر داخلہ

EjazNews

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اپنی زندگی میں جتنی کوشش کرسکتا تھا وہ کی ہے، تمام شواہد اکٹھا کیے، فرانزیک کروایا، اب میں اس کو پولیس مقابلے میں تو نہیں مرواسکتا کیوں کہ اتنا بڑا سوشل میڈیا اور اسلام آباد میں متحرک سول سوسائٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم ظاہر جعفر کے والد ان کے ڈرائیور کے علاوہ جن لوگوں سے اس کی بات ہوئی انہیں بھی گرفتار کیا ہے کوئی باقی نہیں بچا، فیصلہ عدالت کو کرنا ہے شواہد مکمل ہیں، اُمید ہے کہ اسے سزائے موت ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ن لیگ اور ش لیگ دو جماعتیں ہیں ان میں مفاہمت اور مزاحمت کی لڑائی ہے، یہ دو سوچوں کا نام ہے، ان کی آپس میں اندرونی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان خوش قسمت آدمی ہیں انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت اور مزاحمت دونوں پالیساں ناکام ہوں گی، آزاد کشمیر میں بھی ہوئی اور سیالکوٹ میں بھی ہوئی کیوں کہ ان کی ‘لائن اور لینتھ ایک نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اقتدار کے بھوکوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے جسے کوئی پذیرائی نہیں مل رہی، ان کی مجموعی سیاست ان 40 کیمروں میں ہے اس کے علاوہ ان کی کوئی سیاست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈوڈول کے ذریعے گوگل کا بانو قدسیہ کو خراج تحسین

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو جو نقصان پہنچا ان کی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے پہنچا ہے جو غیر ذمہ دارانہ اور غیر پارلیمانی زبان انہوں نے استعمال کی یہ اپنی انگلیاں کاٹیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف ماضی کو بھلا کر بات چیت کرنا چاہیں تو حکومت کے دروازے کھلے ہیں وہ آئیں اور ابتدا الیکٹرانک ووٹنگ سے کریں۔

شیخ رشید نے اعلان کیا کہ طویل عرصے سے بیرونِ ملک تعینات سرکاری ملازمین اگر 30 اگست تک ملک میں واپس آکر اپنے دفاتر میں رپورٹ نہیں کریں گے تو انہیں ملازمت سے فارغ کردیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں کووِڈ ویکسینیشن کی تصدیق کے لیے سسٹم کا اجرا کیا جارہا ہے اور اسے 64 ممالک سے کنیکٹ کیا جارہا ہے تا کہ باہر سے آنے والوں کی تصدیق ہوسکے کہ وہ ویکسینیٹڈ ہیں یا نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے چیئرمین اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت کی ہے کہ ڈپلومیٹک انکلیو کو محفوظ اور ماڈرن بنایا ائے، گیٹ اور کیمرے نصب کیے جائیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چیئرمین سی ڈی اے کو ریسکیو سروس 1122 کے اجرا کی بھی ہدایت کی گئی ہے، یہ اس ملک کی بد قسمتی ہے کہ دارالحکومت کے سیکٹر ایف-11 میں سیلاب آیا لیکن امدادی ادارہ موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا شوکت خانم فنڈ ریزنگ میں خطاب

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو تمام نالوں پر قائم تجاوزات مسمار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جس کی نگرانی میں خود کروں گا اور یہ کام 30 اگست تک ہوجانا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کے پیشِ نظر این سی او سی کے تعاون سے ہولی فیملی ہسپتال میں جدید اقدامات اور وارڈ کا افتتاح کرنے والے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نادرا اور سائبر کرائم میں افسران کی روٹیشن مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، لوگ 10، 10 سالوں سے ایک ہی دفتر میں بیٹھے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک موجود 64 مشنز میں 5 سے 8 سالوں سے پاسپورٹ کی بنیاد پر جو لوگ بیٹھے ہیں ان سب کو واپس بلالیا گیا ہے اور ان کے متبادل کے طور پر میرٹ پر 64 افراد کو بھیجا جارہا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ بیرونِ ملک نادرا اور پاسپورٹ آفس میں موجود افراد اگر 30 اگست تک واپس آکر اپنے دفاتر میں رپورٹ نہیں کرتے تو انہیں نوکریوں سے فارغ کردیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ کووِڈ کی وجہ سے ایک ماہ کی چھوٹ دے رہا ہوں، متعدد لوگ سرکاری دفاتر سے بیرونِ ملک تعیناتی کے بعد واپس نہیں آنا چاہتے وہاں انہوں نے گرین کارڈ بھی حاصل کرلیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم نے معاون خصوصی اطلاعات کا استعفیٰ نامنظور کر دیا

افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پولیس کو تمام تر تحقیقات، فوٹیجز اور تفتیش میں شامل تمام افراد تک وزارت خارجہ کو رسائی دینے کی کلیئرنس دے دی ہے، اگر افغان ٹیم چاہے تو ان کے انٹرویوز بھی کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن ختم کرنے کے آن لائن ویزا شروع کیے ہیں، پاکستان میں مختلف مقامات پر ہزاروں افراد چھپے ہوئے ہیں، اس خطے کی سیکیورٹی حالات ایسے ہیں کہ انہیں ویزوں میں توسیع کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی جارہی ہے وگرنہ وہ یہ ملک چھوڑ دیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات ہیں، داسو حملے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ 840 غیر قانونی شناختی کارڈز بین کیے جاچکے ہیں اور تمام کارڈز کو دیکھ رہے ہیں، جب بائیومیٹرک نہیں تھا اس وقت یہ کام ہوا اس سلسلے میں 29 ملازمین کراچی، 19 راولپنڈی سے نکالے گئے ہیں اور لاہور سے بھی نکالیں گے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جو کالی بھیڑیں پیسے لے کر جعلی شناختی کارڈز بناتی رہی ہیں وہ نادرا میں نہیں رہیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں