sindh

سندھ میں لاک ڈائون ، آپ کے رہنما کیا کہہ رہے ہیں

EjazNews

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے صوبے میں ایس او پیز پر عمل نہ ہونا وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کی ناکامی قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ بندش کے فیصلے میں سندھ حکومت نے وفاق کو آن بورڈ نہیں لیا،گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ صوبہ اکیلے فیصلہ نہیں کرسکتا، ہم مکمل کرفیو کی طرح کے لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ ایڈمنسٹریٹر ہیں ، انہیں جیسی مدد چاہیے ہم حاضر ہیں، آپ بلاکر بات کریں ہم پر بھروسہ کریں ہم ساتھ دینے کو تیار ہیں، ہم ایک مہذب قوم ہیں، آپ ایسے کیسے فوری مارکیٹیں بندکرسکتے ہیں؟ ۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈائون کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کی مخالفت کریں گے جس سے عام آدمی متاثر ہو،سندھ حکومت اگر این سی او سی، وفاقی حکومت کی ہدایت کے خلاف صنعتوں کو بند کردے گی تو پاکستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچے گا جن صنعتوں میں 100 فیصد ویکسینیشن ہوگئی ہے اس صنعت کو کھولنا چاہیے، سندھ حکومت عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، ان کا روزگار چھین رہی ہے،سندھ حکومت کو صنعتوں کو کھولنا ہوگا اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی گائیڈ لائنز کے مطابق حکمت عملی بنانی ہوگی، کراچی پاکستان کی معیشت کی شہہ رگ ہے، معیشت جب اوپر جارہی ہے اس وقت مکمل لاک ڈاؤن کی بات کرنا بہت نامناسب ہے، اس صورتحال میں سندھ حکومت کے فیصلے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبان نے خواتین کو میڈیا پر کام کرنے کی اجازت دے دی

ادھر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ کراچی میں کورونا کی صورتحال بھارت جیسی ہوئی تو ذمہ دار وزیر اعظم اور ان کے وزیر ہوں گے، انسانی صحت اور زندگیوں پر سیاست کی جارہی ہے، سندھ حکومت کے اقدامات کو نقصان پہنچایا جارہا ہے یوں لگتا ہے ایک نہیں دو پاکستان ہیں،وفاقی حکومت کورونا وائرس پر سیاست کررہی ہے، وہ سندھ میں نہ خود کام کرتے ہیں نہ ہمیں کام کرنے دے رہے ہیں اور سندھ حکومت جو اقدامات اٹھا رہی ہے وفاقی حکومت اس کو سبوتاژ کررہی ہے،ان کا کہنا تھاکہ بارڈر کھولنے سے ڈیلٹا وائرس پاکستان آیا، وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کا خیال رکھے۔

ہفتہ کو وزیر اعلیٰ ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ویکسی نیشن مراکز تک جانے کی اجازت دے رہے ہیں، ڈبل سواری پر پابندی کو ختم کیا جارہا ہے، ریسٹورنٹ، دودھ اور بیکری کی دکانوں پر6 بجے کی پابندی ختم کررہے ہیں،کل ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیر اسد عمر اور ڈاکٹر فیصل سلطان سے بات بھی کی تھی جس میں طے ہوا تھا کہ این سی او سی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا مگر لاک ڈائون کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے ترجمان نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ سندھ حکومت کو اختیار نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ این سی او سی نے کہیں نہیں کہا کہ لاک ڈائون نہ لگایا جائے، ہم کوشش کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے ساتھ چیزیں طے کریں مگر بدقسمتی سے جب یہ لوگ ٹیلی ویژن پر آتے ہیں تو ان کا موقف کچھ اور ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں ہر سال سیاحت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے:وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت نے جب لاک ڈاون لگایا تو ان کا کوئی اعتراض نہیں آیا اور ہم نے بھی کوئی تنقید نہیں کی کیونکہ ہم کورونا وائرس کی سنگینی کو جانتے ہیں اور لاہور کی صورتحال کو عثمان بزدار صاحب بہتر جانتے ہیں بالکل اسی طرح اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو کراچی کی سنگینی کا علم نہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیںآئندہ 9روز تک آپس کے اختلافات کو ایک طرف رکھنا چاہیے اور ہم ایم کیو ایم پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے حیدرآباد کی ریلی منسوخ کی ۔

محکمہ داخلہ سندھ نے لاک ڈائون سے متعلق تیسری بار ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کردیا، نوٹیفکیشن کے مطابق ‏سندھ حکومت نے ڈبل سواری پر پابندی ختم کر دی ،دودھ کی دکانیں اور بیکری پر 6 بجے کا اطلاق بھی ختم کردیا ہے ،چنگچی، رکشہ اور ٹیکسی کو سڑکوں پر آنے کی اجازت دےدی گئی ہے لیکن ڈرائیور مکمل طور پر ویکسی نیٹڈ ہوگا ، فرٹیلائیزر ، پیسٹی سائیڈ دکانوں ، ویئر ہائوسز اور گوداموں پر لاک دائون نافذ نہیں ہوگا لیکن انکا عملہ مکمل ویکسی نیٹڈ ہوگا ،پرائیوٹ گاڑی میں صرف 2افراد کے بیٹھےکی پابندی بھی اٹھا لی گئی ہے،ویکسین مراکز جانے کیلئے بس، منی بس کو خصوصی پرمٹ جاری ہوگا،بس میں گنجائش سے نصف مسافر کو بٹھانے کی اجازت ہوگی،بس عملے کا کورونا سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں محکمہ صحت نے کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی عائد کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کہتے ہیں تبدیلی کیا ہے؟ ، بڑے بڑے ڈاکوؤں پر ہاتھ ڈالا جائے گا یہ تبدیلی ہے:وزیراعظم

اپنا تبصرہ بھیجیں