dinasour

ڈائنوسارز کو ناپید کرنے والا شہابیہ خلا کے تاریک حصے سے آیا تھا:ماہرین

EjazNews

ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 6؍ کروڑ 60؍ لاکھ سال قبل زمین سے ٹکرانے والا 10؍ کلومیٹر قطر کا شہابیہ، جس کے نتیجے میں کرۂ ارض کی 76؍ فیصد مخلوق بشمول ڈائنوسارز ختم ہوگئے تھے، شہابیوں کے مرکزی بیلٹ کی بجائے کہیں باہر سے اور دور دراز کے خلائی حصے سے آیا تھا۔

شہابیہ زمین سے ٹکرانے کی نتیجے میں 200؍ کلومیٹر چوڑا گڑھا پڑ گیا اور کھربوں ٹن مٹی اور دھول فضا میں پھیل گئی جس سے زمین کا درجہ حرارت نمایاں حد تک کم ہوگیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مخلوق کا صفایا ہوگیا۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں سائوتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کے مطابق، جس جگہ یہ گڑھا پڑا اس مقام سے حاصل کیے گئے نمونوں اور کمپیوٹر ماڈلنگ سے تحقیق کی گئی ہے کہ ٹکرانے والا شہابیہ کہاں سے آیا تھا۔

ماہرین ارضیات (جیولوجسٹس) نے بتایا ہے کہ آنے والا شہابیہ نظام شمسی کی تخلیق کے وقت بچ جانے والی چیزوں پر مشتمل بیلٹ سے آیا تھا، ماہرین اس علاقے کو خلا کے ’’تاریک حصے‘‘ (ڈارک کارنرز) کا نام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانوی دفتر خارجہ سے بلے کی ریٹائرمنٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں