سندھ میں لاک ڈاﺅن میں مزید سختیاں

EjazNews

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا وائرس ٹاسک فورس اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاک ڈاون کے دوران برآمدی صنعتیں کھلی رہیں گی جبکہ آئندہ ہفتے سے سرکاری دفاتر بھی بند کردئیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے خبردار کیا کہ جو ملازمین کورونا سے بچاو کی ویکسین نہیں لگوائیں گے انہیں 31 اگست کے بعد تنخواہیں نہیں دی جائیں گی۔

کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد ہوگی جبکہ تمام مارکیٹس بھی بند رہیں گی۔

اجلاس میں ہوئے فیصلوں کے مطابق فارمیسیز کھلی رہیں گی اور جو شہری بھی سڑک پر آئے گا انتظامیہ کی جانب سے اس کا ویکسینیشن کارڈ چیک کیا جائے گا۔

کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں صوبائی وزرا، اپوزیشن کے اراکین صوبائی اسمبلی، ڈاکٹرز، تاجر رہنماوں کے علاوہ سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کے فیصلوں کو اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی، کاروباری حضرات اور ڈاکٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور کے علاقے جوہر ٹائون میں دھماکہ، کم از کم 7افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کورونا صورتحال پر میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہتا ہوں، اس لیے اجلاس میں اراکین اپوزیشن، کاروباری شخصیات کو مدعو کیا گیا، یہ ایک وبا ہے اور میں چاہتا ہوں ہم سب کی ایک آواز جانی چاہیئے۔

کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں صوبائی سیکرٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے بھر میں کورونا کی تشخیصی شرح 13.7 فیصد ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز صوبے میں 45 مریضوں کا انتقال ہوا اس وقت فعال کیسز کی تعداد 39 ہزار 958 ہے جن میں سے ایک ہزار 410 ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس وقت صوبے میں 102 مریض وینٹی لیٹرز پر زیر علاج ہیں جبکہ ایک ہزار 192 کی حالت تشویشناک ہے۔

انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ کراچی میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 23 فیصد، حیدرآباد میں 14.52 فیصد جبکہ سکھر میں 2.9 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور میں مکمل ہڑتال،مذاکرات شروع ہو گئے ہیں:وفاقی وزیر شیخ ر شید

کراچی میں کیسز مثبت آنے کی سب سے بلند شرح ضلع شرقی میں 33 فیصد، کورنگی میں 21 فیصد، ضلعی وسطی میں 20 فیصد، ضلع غربی میں 19 فیصد جبکہ ضلع جنوبی اور ملیر میں تشخیصی شرح 17 فیصد ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ کے فیصلوں کو اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی، کاروباری حضرات اور ڈاکٹرز کی حمایت حاصل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں