Bilawal

کشمیر میں روایت ہے کہ کون سی جماعت اقتدار حاصل کرتی ہے:بلاول بھٹوزرداری

EjazNews

وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری حکمت عملی اب تک کامیاب ثابت ہوئی ہے، جس میں پی پی پی کا سیاسی فیصلہ تھا کہ ضمنی انتخابات میں جانا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا ہے تو ان سارے انتخابات میں پی پی پی اور اپوزیشن جیتی اور عمران خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس سوچ کو رد کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ جب گلگت میں انتخابات ہوں تو وہاں مداخلت نہ کریں اور کشمیر میں روایت ہے کہ کون سی جماعت اقتدار حاصل کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود میں گلگت، اسکردو اور کشمیر میں گیا اور پی پی پی کے جیالے پہاڑوں میں جدوجہد کر رہے ہیں اور نظرئیے کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جس طرح کھلے عام اور جس تشدد سے دھاندلی ہو رہی تھی، سب نے دیکھا، پاکستان کا ایک وزیر وہاں پیسے بانٹ رہا تھا اور فائرنگ کر رہا تھا اور اُمیدواروں پر قاتلانہ حملے ہوئے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اس کے باوجود پیپلز پارٹی اپوزیشن کی بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، ہم کشمیر میں ان کو مشکلات سے دوچار کر رہے ہیں اور یہاں کراچی میں بھی ان کو شکست دی ہے۔

کارکنوں کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ جس طرح آپ نے کراچی میں بلوچ صاحب کے انتخاب میں پی ٹی آئی کو عبرت ناک شکست دی تھی اور قادر مندوخیل کے الیکشن میں بھی پی ٹی آئی اور دیگر کو عبرت ناک شکست دی تھی اسی طرح اب اس جدوجہد کو ہمارے ساتھ آگے لے کر چلنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جو وعدہ میں نے 2018کے انتخابات میں کیا تھا وہی آج 2020 میں بھی ہے:بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے مقامی حکومتوں کے انتخابات ہیں، کسی بھی وقت عام انتخابات ہوسکتے ہیں، اس کے لیے پی پی پی کو اب سے تیاری شروع کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کراچی میں محنت سے حکومت کرنی ہے، وسائل کم ہیں، نہ این ایف سی دیا جاتا ہے اور نہ آپ کا حق دیا جاتا ہے، اوپر سے آپ جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں تو ایم کیو ایم والے سامنے آجاتے ہیں لیکن آپ نے وفاق کا بھی مقابلہ کیا اور ان بدمعاشوں کا بھی مقابلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب کراچی کے عوام جان چکے ہیں کہ اگر ہم نے کراچی کو بچانا ہے تو پی ٹی آئی کو بھگانا ہے اور ان دہشت گردوں کو بھگانا ہے، کراچی کو بچانے کے لیے ایک ہی جواب ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ہمارے پاس وقت کم ہے، آپس کے اختلافات بھلانے پڑیں گے، 6 سے 8 مہینوں کے لیے ذاتی پسند نا پسند اور آپس کے اختلافات ختم کریں، ہمیں بڑی بڑی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا ہے تو میں آپس کے اختلافات ایک طرف کرنے پڑیں گے اور مل کر ایک ہو کر جس طرح ضمنی انتخابات میں کیا ویسے ہی آگے بڑھنا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں انتظامی اور ترقیاتی کام ہیں، ان میں بہتری آئی ہے لیکن اس میں سیاسی اونر شپ، سیاسی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس شاید نہیں ہے، وزیراعلیٰ کا خصوصی ٹاسک دیا ہے کہ خاص کر کراچی کے لیے ایسا حل نکالیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پٹرولیم لیوی کی شرح کیا رکھی گئی ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کے مسائل حل کریں اور ہر ضلعے میں ایک ایسے سیاسی نمائندے کو چنا جائے جو وہاں کے عوام کے مسائل کو جان سکے، وہاں کی بیوروکریسی اور انتظامیہ پر ایک چیک رکھ سکے، اس کا تعلق عوام سے ہو اور اس کی رسائی وزیراعلیٰ سندھ اور وزرا تک ہو اور عوام کے مسائل حل کروا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تین بڑے مسئلے ہیں، ان میں پہلے نمبر پر پانی کا مسئلہ ہے، وفاقی وزرا نے بھی تسلیم کیا کہ اس صوبے کے پانی کا حصہ کم مل رہا ہے لیکن عمران خان نے اب تک اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ تنظیم کے ذریعے کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کریں، کراچی میں اگر پانی کی چوری روکنا ہے تو پھر پی پی پی کے جیالوں کو اس حکومت کی آنکھ، کان اور ناک بننا پڑے گا تاکہ مل کر محنت کرکے کراچی کے عوام تک پانی پہنچا سکیں گے۔

کراچی کے مسائل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسرا کچرا کا مسئلہ ہے، اس میں بہتری آئی ہے، جو اضلاع ایم کیو ایم کے پاس ہوتی تھیں وہ اب ان کے پاس نہیں ہیں اور وہاں سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن جماعتوں نے بھارت کو ناراض نہ کرنے کیلئے گلگت بلتستان کو اس کے حقوق نہیں دئیے:وزیر برائے امور کشمیر

انہوں نے کہا کہ وہاں بھی کامیاب ہونے کے لیے آپ کی سیاسی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے تاکہ اس مسئلے میں بہتری آسکے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ٹرانسپورٹ کے بڑے منصوبے شروع کرنے سے پہلے ہم کراچی کی سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کے لیے بسیں پہنچانا شروع کریں اور میرے خیال میں اس سال کے آخر تک یہ سلسلہ شروع ہوجائے گا اور ہر مہینے اور دو مہینے بعد اس میں اضافہ ہوتا جائےگا۔

انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان تین مسائل پر آپ نے محنت کرنی ہے اور حکومت سندھ نے بھی محنت کرنی ہے اور جہاں تک بڑے مسائل کی بات ہے تو حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری اور پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کی وجہ سے عوام غربت میں جس طریقے سے ڈوب رہے ہیں اس پر مجبور کرنا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، اگر پی پی پی کی حکومت ہونی ہے تو اس حکومت کو کھڑا کرنے، منتخب کرنے کے لیے کراچی کی نشستوں کی ضرورت ہے اور کراچی کی اونرشپ کی ضرورت ہے اور اس کے لیے یہ اہم وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے پاس اچھا موقع ہے کہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کا راج ختم ہوچکا لیکن پی ٹی آئی کی شکل میں ایک نئی ایم کیو ایم سامنے آئی ہے، پی پی پی نے جیسے ان کا مقابلہ کیا تھا ویسے اس سلیکٹڈ حکومت کا مقابلہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں