Wife_Husband_children

شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی مجبوریاں سمجھیں

EjazNews

حضرت آدمؑ اور بی بی حواؑ کی آمد کے ساتھ ہی کرۂ ارض پر تہذیب انسانی کے ارتقاء کاآغاز ہوا ۔ کچھ مذاہب میں نظریہ ہے کہ حضرت آدم ؑ اوربی بی حواؑ جنّت سے زمین پر الگ الگ اُتارے گئے۔ دونوں ایک دوسرے کی جدائی پر مغموم اور اُداس رہتے تھے۔ روتے اور ایک دوسرے کی طلب اور تلاش میں ربّ سے دُعائیں مانگتے،بالآخران کی دُعائیں قبول ہوئیں اور وہ طویل عرصے کے بعد اکٹھے کردئیے گئے۔ یوں دُنیا کی رونقوں کی ابتدا ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  پسلیوں کے درمیان موجودغصہ کی کہانی

قرآنِ پاک کی تعلیمات کہتی ہیں، دونوں ایک ساتھ ہی اُتارے گئے ، تاکہ اس زمین پر تہذیب اور معاشرت کی بنیاد رکھ سکیں۔
قرآن کہتا ہے، حضرت آدمؑ اور بی بی حواؑ جنّت میں ایک دوسرے کی ہم نشینی میں خوش اور مسرور تھے۔ شیطان نے دونوں کو بہکایا۔ دونوں پر شیطان کا وار چلااور وہ غفلت کے مرتکب ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی پر دونوں کو ندامت ہوئی،تو اپنی غلطی کا اعتراف اور توبہ کی، جو رب نے قبول فرمائی۔حضرت آدمؑ اوربی بی حواؑ کو ایک خاص مقصد کے لیے اس زمین پر بھیجا گیا تھا ،تاکہ ربّ کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں اور وہ جنّت، جسے گنوا آئے، اُسے پانے کے لیے اس زمین پر ایک جنّت بنائیں۔ اور وہ جنّت انسان کا ’’گھر‘‘ ٹھہرا۔ گھر جہاں مختلف انسان مختلف رشتوں میں بندھے ایک ساتھ ایک چھت کے نیچے زندگی گزارتے ہیں، ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں، غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔گھر اس زمین پر اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جس کی بنیاد محبّت، خلوص اور ایثار پر رکھی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مائیکروویو اوون کے فوائد سے زیادہ نقصانات ہیں

زمانے کے سرد و گرم سے بچ کر انسان گھر کے سائے میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ گھر انسان کی مادی ضروریات بھی پوری کرتا ہے اور جذباتی احساسات کی تسکین کا سامان بھی فراہم کرتا ہے۔ بے شک یہ ایک ایسی جائے پناہ، ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے، جس کی طلب میں انسان مارا مارا پِھرتا ہے۔گھر ہی میں تہذیبیں پروان چڑھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو بجٹ کس کس کو شریک مشورہ کریں؟

اللہ تعالیٰ نے نئے گھر کے آغاز اور تمدن کو با وقار بنانے کے لیے نکاح پسند فرمایا اور اسے اپنے حبیبﷺکی سنّت قرار دیا۔ نکاح ایک عہد، ایک وعدہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر کیا جاتا ہے ۔ بعد از موت اس عہد کی بازپرس بھی ہوگی کہ اسے نبھانے اورقائم رکھنے کی کتنی کوششیں کی گئیں۔ نکاح، زندگی کا وہ خُوبصورت موڑ ہے، جہاں نئے رشتے نئے نئےناموں سے زندگی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ نکاح کے نتیجے میں ایک نیا گھر، خاندان وجود میں آتا ہے۔میاں، بیوی کے لیے یہ نئی ذمہ داریوں کی ابتدا ہوتی ہے، مگر یہ دیکھ کر دل کٹ سا جاتا ہے کہ موجود دَور میں ٹوٹے بکھرے گھروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جنسی ہراسانی :ضروری نہیں اگر کوئی اپنے اندر ہمت پیدا کرنے میں وقت لے تو وہ جھوٹی ہی ہو

لوگوں کی ایک دوسرے سے شکایات بڑھتی جارہی ہیں۔ذات اور انا کی اونچی دیواروں نے قریبی رشتوں تک کو ایک دوسرے سے دُور کر دیا ہے اور دُوریاں بھی ایسی، جو معمولی بات پر شروع ہوکر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ حق تلفی ، ناانصافی اور انا پرستی کی مثالیں عام ہیں، لیکن مداوے کی کوئی صُورت نظر نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:  آبروریزی اور جنسی حملہ

کون نہیں جانتا کہ رشتوں کی آب یاری کے لیے حقوق کی ادائی اور انا کی قربانی لازم ہے اور یہ قربانی مَرد و عورت دونوں ہی پر واجب ہے۔ اگر مَرد اپنا شملہ نیچا کر کے کوئی بھی معاملہ رفع دفع کردے یا عورتیں اپنا دِل بڑا کر کے چھوٹے موٹے مسائل سلجھا لیں، آپس میں گفتگو کے ذریعے اختلافات طے کرلیں یا کسی غیر جانب دار اور سمجھ دار شخص پر مصالحت کی ذمّے داری ڈال دیں، تو یقیناً مسائل کا کوئی بہتر حل نکل سکتا ہے اور مفاہمت کی راہ بھی ہم وار ہو سکتی ہے ۔شوہر اور بیوی کے لیے ایک دوسرے کے جذبات اور مزاج کا خیال رکھنا، اس رشتے کو قائم رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ وقت کے ساتھ معاشی مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں اور سماجی رویّوں میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ ان حالات میں مَرد و عورت کی ذمّے داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ تعلقات میں تناؤ کی صورت میں دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسے مل کر دُور کریں اور ایک دوسرے کو ذہنی دباؤ سے نکلنے میں مدد دیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے ہاں عورت مارچ کو لے کر ہلہ گلہ اٹھایا جارہا ہے اور دنیا میں عورتیں سیاروں کی تلاش کر رہی ہیں

شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی مجبوریاں سمجھیں۔ ایسے مطالبات نہ کریں، جنہیں پورا کرنا مشکل ہو۔ ایسی توقعات بھی وابستہ نہ کی جائیں، جن پر پورا اُترنا ممکن نہ ہو۔ زندگی کے کچھ دَور تلخ اور سخت ہوتے ہیں ، اچھے دِنوں کی اُمید میں اس وقت کی کٹھنائیاں سہہ لیں کہ بہرکیف اچھا وقت آتا ضرور ہے۔ ساتھ رہنے اور بہتر انداز میں ساتھ رہنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ گھر کی ان دیواروں کو ٹوٹنے نہ دیں، جن سے ٹیک لگا کر کئی اور بھی لوگ زندہ ہیں۔ یہ بات گِرہ سے باندھ لیں کہ گھر بکھرنے سے آپ سے وابستہ بہت سی زندگیاں بھی بکھر جاتی ہیں۔
صرف دو افراد کی آپس کی چپقلش سے کئی لوگوں کا حال ہی نہیں، مستقبل بھی تباہ ہوجاتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ برداشت کامادّہ بڑھالیں،تھوڑی سی انا اور عزّتِ نفس گھر بچانے کے لیے نچھاور کر دیں کہ گھر بسانا اور گھر بچانا خالقِ کائنات کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ گھر ٹوٹنے سے شیطان خوش ہوتا ہے۔ اس سے تہذیب کی جڑیں ہلتی ہیں، معاشرے کا توازن بگڑتا ہے، انتشار اور فساد پھلتا پھولتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  غرارہ :خوبصورتی کے ساتھ رعب بھی

سو، گھر بنانا، قائم رکھنا اور رشتے ٹوٹنے سے بچانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جس میں کامیاب ہونا بہت مشکل نہیں، بس تھوڑی سی قربانی، محبّت اور سمجھ داری درکار ہے، جو کوئی اتنا بڑا سودا نہیں۔ مَرد و عورت گاڑی کے دوپہیے ہیں اور دونوں ہی کی ذمّے داری ہے کہ گھر قائم رکھنے میں اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں