fawad

حکومت کی جانب سے اخبارات اور ٹی وی کو جو اشتہارات دئیے جاتے ہیں، اس کی ادائیگیاں فوراً ہوتی ہیں:وفاقی وزیر اطلاعات

EjazNews

اسلام آباد میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے جو اخراجات ہیں وہ 446 ملین ہیں، دلچسپ بات ہے کہ ہمارے سابق سول اور پولیس کے اہلکار یا سرکاری ملازمین، یا سابق وزرائے اعظم، صدور ہیں، ان کے اخراجات تقریباً 300 ملین روپے ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایک رواج بن گیا ہے کہ جو سیکریٹریز اور آئی جیز ریٹائر ہوتے ہیں وہ اپنے ساتھ بہت سارے اہلکار لے کر چلے جاتے ہیں، اسی طرح اہم سرکاری شخصیات کی سکیورٹی پر مجموعی طور پر 109.7 ملین روپے اور مجموعی 1098.08 ملین روپے وفاقی حکومت کا سالانہ بنیاد پر سکیورٹی کا خرچہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے سالانہ سکیورٹی اخراجات 2529 ملین روپے، کے پی پولیس 993 ملین روپے خرچ کر رہی ہے۔

Cabinat_meeting
کیبنٹ میٹنگ کی جاری کی گئی ایک تصویر

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم نے سکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا نظام وضع کرنے کا حکم دیا ہے اور وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک تھریٹ کمیٹیاں بنائی جائیں گی، وفاق، پنجاب، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور اب کشمیر میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں کمیٹیاں بنائی جائیں گے جو انفرادی خطرات کا جائزہ لیں گی اور اس کے مطابق سکیورٹی کا بندوبست کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں کروڑوں روپے کی بچت ہوگی اور اٹارنی جنرل اور وزیر قانون اس ضمن میں عدلیہ سے بات بھی کریں گے اور ان کے مطابق بھی آگے بڑھا جائے گا کیونکہ ججوں کی سکیورٹی بھی ہمارے لیے اہم ہے اس لیے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے وہ بھی اہم جزو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بلاول بھٹو زرداری میاںنواز شریف کی عیادت کریں گے

الیکٹرونک ووٹنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بابراعوان نے کابینہ کو بریفنگ دی اور اپوزیشن کے ساتھ معاملات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے ہیں، سپیکر صاحب ملک سے باہر آذربائیجان گئے ہوئے ہیں، جب واپس آئیں گے تو کمیٹیوں کے ذریعے بات ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کو کاروباری افراد، کمپنیاں اور خصوصاً نیا کاروبار شروع کرنے والے افراد کی آسانی کے لیے فرسودہ قوانین کو ختم کرکے نئے قوانین کے اجرا کے عمل کا آغاز کرنے کا اختیار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے جمہوریہ چیک کے ساتھ دوہری شہریت کی اجازت دی ہے، جمہوریہ چیک نے ہمارے لیے قانون میں ترمیم کی تھی اور اب پاکستان نے بھی اجازت دی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کابینہ نے ملک کی پہلی قومی سائبر سکیورٹی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، دنیا بہت تیزی سے سائبر وار کی طرف جارہی ہے، آج ہم اپنی ساری بینکنگ ٹرانزیکشنز اے ٹی ایمز پر کر رہے ہیں بلکہ موبائل فون پر کر رہے ہیں تو اگر ریکارڈ ہیک ہوجائے تو مسائل کھڑے ہوسکتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں سائبر سکیورٹی رجیم بن رہی ہیں اور وزارت آئی ٹی نے ہماری پہلی پالیسی دی ہے جو ہمارے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے حکومتی اشتہارات کی پالیسی 2021 کی منظوری دی ہے، اس میں پہلی بار پچھلے 3 مہینوں میں ایسا ہوا ہے کہ ہماری طرف ادائیگیاں صفر ہیں، حکومت کی جانب سے اخبارات اور ٹی وی کو جو اشتہارات دئیے جاتے ہیں، اس کی ادائیگیاں فوراً ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے سارے پیسے دے دئیے ہیں لیکن اب بھی چند ادارے تنخواہیں نہیں دے رہے ہیں، اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ بھی دور کرتے ہیں، کیونکہ ٹیکنیکل کام کرنے والوں کی تنخواہیں بالکل بھی نہیں روکنی چاہیے، اس کے لیے قانون سازی پر کام کر رہے ہیں لیکن اداروں کو خود بھی خیال رکھنا چاہیے اور اپنے کارکنوں کو تنخواہیں دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اہم پالیسی بنائی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل میڈیا کو حکومت کے اشتہارات میسر ہوں گے، اس وقت ڈیجیٹل اشتہارات 25 ارب ہوگئی ہے، ایف بی آر نے اس پر کوئی پالیسی نہیں بنائی لیکن ہم اس کو جدید بنیادوں پر لے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم ہاؤس میں پریس کانفرنس ہورہی تھی اور وزیراعظم رو رو کر کہہ رہے تھے کہ اب میں ہار گیا ہوں تو الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کی اپنی حکومت، آپ کا اپنا لگایا ہوا الیکشن کمیشن اور اس کے بعد آپ الیکشن ہار جائیں تو پھر آپ کہیں کہ دھاندلی ہوئی تو اس کا کیا حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے وزیراعظم ٹیکنالوجی کی طرف بڑھنے کی بات کرتے ہیں، جب سارا عملہ آپ کا لگایا ہوا ہو پھر بھی آپ کو یقین نہیں ہے اور آپ کہہ رہے ہوں دھاندلی ہورہی ہے تو پھر واحد حل یہی ہے کہ ٹیکنالوجی کی طرف بڑھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک لبیک کے سربراہ سعدی رضوی کو رہا کر دیا گیا

کابینہ اجلاس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کابینہ نے وزیراعظم کو آزاد کشمیر میں کامیابی پر مبارک باد دی، وفاقی کابینہ اور وزیراعظم نے علی امین گنڈا پور، مراد سعید، علی محمد اور شہریار آفریدی سمیت دیگر لوگ جنہوں نے اس مہم میں حصہ لیا اس کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ سمجھتی ہے کہ کشمیر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کامیابی ہے وہ وزیراعظم کی پالیسیوں پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فراہم کی جانے والی سکیورٹی پر بات کی تھی اور اس حوالے سے کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ سکیورٹی کے سب سے کم اخراجات وفاقی کابینہ پر ہو رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عدلیہ پر سکیورٹی کی مد میں سب سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت پولیس کی جانب سے صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وزرائے مملکت، مشیران اور معاونین خصوصی کی سکیورٹی پر 762 پولیس اہلکار، 14 رینجرز اور ایف سی اہلکار تعینات ہیں اور ان پر 70 کروڑ روپے کا خرچ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جج صاحبان کی سکیورٹی کے لیے 377 پولیس اہلکار تعینات ہیں اور ان پر خرچہ 28 کروڑ 70 لاکھ ہو رہا ہے، لاہور میں 11 کروڑ 43 لاکھ خرچ ہو رہا ہے، مجموعی طور پر عدلیہ کی سیکیورٹی پر تقریباً 1400 ملین روپے خرچہ ہورہا ہے، جس میں خیبرپختونخوا(کے پی)، سندھ اور بلوچستان شامل نہیں ہے تو ججوں کی سکیورٹی کا معاملہ شاید 1700،1600 ملین روپے سے بھی اوپر چلا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں