لبنان کا بحران ختم ہو ہی گیا

EjazNews

لبنان میں 2019 سے معاشی بحران کا سامنا ہے جس کے باعث ملک گیر احتجاج بھی کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں لبنانی وزیراعظم سعد الحریری اکتوبر 2019 میں مستعفی ہوگئے تھے تاہم گزشتہ سال ہی لبنانی صدر نے انہیں دوبارہ وزیراعظم بنایا اور ملکی مفاد کی خاطر ساتھ چلنے کی پیشکش کی تاہم اس بار وہ حکومت بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے گزشتہ روز 24 وزرا پر مبنی کابینہ بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں صدر مائیکل اون کی پارٹی کو وزارت خارجہ اور وزارت دفاع سمیت 8 وزارتیں دی گئی تھیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنی کابینہ بنانے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

لبنان میں وزیراعظم کے انتخاب کو لے کر ملک میں بحران پیدا ہو گیا تھا۔
اب اس بحران کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ مغربی میڈیا کے مطابق ارب پتی بزنس مین نجیب میکاتی کو اراکین پارلیمنٹ نے وزیر اعظم نامزد کرکے حکومت سازی کا ٹاسک دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی :کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟

اس انتخاب کے بعد ملک میں گزشتہ ایک سال سے جاری سیاسی بحران کا خاتمہ یقینی بنانا ہے۔نجیب میکاتی اس عہدے سے کتنا انصاف کر پائیں گے یہ تو آنے والے دن ہی بتائیں گے۔
لبنان میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے ملک کی معیشت کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور وہاں بدترین معاشی بحران کی کیفیت ہے۔

لبنان کے ارب پتی بزنس میں نجیب میکاتی اس سے قبل بھی دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ وہ آخری مرتبہ 2014 میں اس منصب پہ فائز تھے۔
نجیب میکاتی کو وزیر اعظم کی نامزدگی کے لیے 72 ارکان کی واضح اکثریت ملی۔ انہوں نے حکومت سازی کے لیے صدر سے مشاورت بھی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں