islam

خیر خواہی

EjazNews

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا فرمایا ہے، وہ سراسر ’’نصیحت‘‘ہے۔حضرت ابو رقیہ تمیم بن اوس الداریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی کہ دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے۔ اس پر ہم(صحابہ کرام ؓ)نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ!کس کے ساتھ خیرخواہی کرنادین ہے؟آپ ﷺنے فرمایا:اللہ، اس کی کتاب(قرآن کریم)،اس کے رسول(حضرت محمد ﷺ)، مسلم حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کرنا دین ہے۔ (صحیح مسلم، : 82)حدیث مبارک جامعیت و معنویت کے اعتبار سے بہت اہم ہے اور محدثین کرام رحمہم اللہ نے اس کا شمار ان احادیث میں کیا ہے جن پر فقہ اسلامی کا مدار ہے۔

:1اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیرخواہی:
حدیث مبارک میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ساتھ خیرخواہی کا ذکر ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ بنیادی عقائد رکھے جائیں کہ٭… وہ ذات بغیر ابتداء کے ہمیشہ سے موجود اور بغیر انتہاء کے ہمیشہ فنا سے محفوظ ہے۔٭…وہ اپنی ذات اور صفات خاصہ میں اکیلی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ٭…وہ ذات صمد ہے ،یعنی جس کا ہرکام مخلوق کے بغیر ہوجائے اور مخلوق کا کوئی کام اس کے بغیر نہ ہو۔٭…وہ ذات ایسی ہے کہ جو نہ خود کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے۔٭…وہ ذات ہر چیز پر قدرت اور مکمل اختیارات رکھنے والی ہے۔٭…وہ ذات عالم الغیب والشہادۃ ہے۔(غیب سے مراد وہ باتیں ہیں جو مخلوق کو بغیر اطلاع کے معلوم نہ ہوں اور شہادۃ سے مراد وہ باتیں جو مخلوق کو اطلاع کے ساتھ معلوم ہوجائیں )٭…وہ ذات ہر جگہ حاضروناظر ہے۔٭…وہ ذات تمام مخلوقات کی خالق اور مالک ہے۔٭…وہ ذات جسم اور جسمانی اعضاء سے پاک ہے۔ ٭…وہ ذات ہی ہماری عبادت کے لائق ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں ۔٭…وہ ذات چاہے تو اولاد دے دے اور چاہے تو نہ دے۔٭…وہ ذات زندگی، موت، عزت، ذلت،خوشی، غمی،سکھ اور دکھ دینے والی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمے جتنے احکام لگائے ہیں انہیں اخلاص کے ساتھ ادا کیا جائے اور جن کاموں سے روکاہے، ان سے رکنا چاہیے،اسی میں ہماری بھلائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی آداب

خیرخواہی کا عرفی معنیٰ مراد نہیں:
ہمارے عرف میں خیرخواہی کا معنیٰ ہوتا ہے، دوسرے کا بھلا چاہنا اور اسے نقصان سے بچانے کے لیے مخلصانہ کوشش کرنا۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لی جائے کہ یہاں ’’خیرخواہی‘‘ کا لفظ اپنے اس عرفی معنی میں نہیں ہے کیونکہ اس اعتبار سے خالق کے ساتھ خیرخواہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہاں البتہ خالق کے اوامر(احکام)اور منہیات(جن باتوں سے روکا گیا ہے) پر عمل کرنے سے خود مخلوق کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات مخلوق کی طرف سے تمام خیر و شر اور ان کے فوائد و نقصانات ملنے سے پاک ہے۔

خالق سے خیرخواہی کب ہوگی؟
یہ بات اچھی طرح یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ سے خیرخواہی(اوامر و نواہی پر عمل کرنا)اس وقت ہوگی جب انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت رچ بس جائے اور ہر وقت محض اللہ تعالیٰ کی رضا اس کے پیش نظر ہو۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر چلاتی اور منہیات سے بچاتی ہے۔

دو غلاموں کی مثال:
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سےروایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے صحابۂ کرام ؓ سے فرمایا: اگر آپ میں سے کسی کے پاس دو غلام ہوں، ان میں سے ایک تو اپنے مالک کی بات ماننے والا ہو، اس کی امانت میں خیانت نہ کرتا ہو اور اپنے مالک کی غیر موجودگی میں اس کے لیے خیرخواہی کرتا ہو ،جب کہ دوسرا غلام اپنے مالک کی بات نہ مانتا ہو، اس کی امانت میں خیانت کرتا ہو اور اپنے مالک کی عدم موجودگی میں اس کا بدخواہ ہو۔ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ دونوں(اپنے مالک کی نظر میں)برابر ہو سکتے ہیں؟ صحابۂ کرامؓ نے عرض کی: بالکل نہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا : یہی معاملہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ بھی ہے۔ (جامع العلوم والحکم لابن رجب، الحدیث السابع)

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹنا ہے

:2قرآن کریم سے خیرخواہی:
حدیث مبارک میں دوسرے نمبر پر اللہ کی کتاب یعنی قرآن کریم کے ساتھ خیرخواہی کا ذکر ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم کے حقوق ادا کیے جائیں۔صحابی رسول حضرت عبیدہ مُلیکی ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے قرآن کو ماننے والو!قرآن پر سہارا کر کے بیٹھ نہ جاؤ(کہ ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم قرآن والے ہیں)بلکہ٭…دن رات اس کی تلاوت کیا کرو جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے۔ ٭…اسے پھیلاؤ۔٭…اسے مزے لے لے کر پڑھو۔٭…اس میں غور و فکر کرو۔٭…کامیابی کے لیے پُرامید رہو۔٭…اوراس کی تلاوت میں جلدی نہ مچاؤ،اس کا عظیم ثواب ملنے والا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: 1852)

مزید چند حقوق:
٭…قرآن پاک کو اللہ احکم الحاکمین کا برحق کلام مانے۔٭…تحریف اور تبدیلی سے پاک مانے۔٭…ذریعہ ہدایت اور باعث نجات مانے ۔٭…اللہ کی آخری کتاب مانے۔٭…اس کی تعظیم اور قدر ومنزلت کو پہچانے اور مانے۔٭…اسےمستند قراء اور علماء سے سیکھے اور دوسروں کو بھی سکھائے۔٭…اس میں ذکر کیے گئے آدابِ زندگی اور اخلاقِ حسنہ کو اپنائے۔٭…اس کے قصص اور واقعات سے عبرت حاصل کرے۔٭…جن آیات میں عذاب کا تذکرہ ہے، ان سے پناہ مانگے اور جن میں ثواب کا تذکرہ ہے، ان کے حصول کی دعا کرے۔٭…کفار کی طرف سے اس پر ہونے والے تمام شکوک و شبہات کا مدلل جواب دے اور اس کی صحیح تعبیر و تفسیر امت کے سامنے پیش کرے۔
حدیث مبارک کے اس حصے میں خیرخواہی کا عرفی معنی مراد نہیں ،قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو مخلوق کی طرف سے خیر و شر سے پاک ہے۔

:3رسول اللہ ﷺسے خیرخواہی:
حدیث مبارک میں تیسرے نمبر پر اللہ کے رسول حضور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺکے ساتھ خیرخواہی کا ذکر ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ٭…آپ ﷺکو اللہ کا برحق رسول اور نبی مانے۔ ٭…آپ ﷺکو آخری نبی اور رسول مانے۔ ٭…آپ ﷺکوہر قسم کے گناہ سے معصوم مانے۔٭…آپ ﷺکو تمام انبیاء ورسل علیہم السلام سے افضل مانے۔٭…آپ ﷺپرکثرت کے ساتھ تحفہ درود و سلام بھیجے۔٭…آپ ﷺکی شریعت کو کامل ومکمل مانے۔ ٭…آپ ﷺکی کامل اطاعت کرے۔٭…آپ ﷺکی مبارک سنتوں پر عمل کرے ،بلکہ آج کے دور میں تو سنتوں کو زندہ کرے۔ ٭…آپ ﷺکے دوستوں سے محبت اور دشمنوں سے دشمنی رکھے ۔٭…علوم نبوت کو حاصل کرے اور انہیں پھیلانے کی کوشش کرے۔٭…روزِ محشر آپ ﷺکی شفاعت کی امید رکھے اور وہ اعمال کرےجن سے آپ کی شفاعت نصیب ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اورزمین میں

حدیث مبارک کے اس حصے میں خیرخواہی کے عرفی معنی مراد نہیں،کیونکہ اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺہماری خیرخواہی کے محتاج نہیں، بلکہ ہمیں آپ ﷺکی خیرخواہی کی ضرورت ہے۔

:4مسلم حکمرانوں کے ساتھ خیرخواہی:
حدیث مبارک میں چوتھے نمبر پر مسلم حکمرانوں کے ساتھ خیرخواہی کا ذکر ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ٭…دائرۂ شریعت میں رہتے ہوئے عدل و انصاف، بلکہ تمام انتظامی امور میں مسلم حکمرانوں کا ساتھ دے۔٭…حکمت ومصلحت کے ساتھ غیر شرعی کاموں سے دور رکھنے کی کوشش کرے۔٭…ان کے غلط فیصلوں پر متنبہ کرنے کے لیے وقت کے تقاضے کے مطابق

ناسب وقت اور نرم لہجے کا انتخاب کرے۔
حدیث مبارک کے اس حصے میں خیرخواہی کا عرفی معنی مراد ہے کیونکہ مسلم حکمران ہماری اور ہم ان کی خیرخواہی کے محتاج ہیں۔

:5عام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی:
حدیث مبارک میں پانچویں نمبر پر عام مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کا ذکر ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے٭…دینی ودنیاوی فوائد کی جانب صحیح رہنمائی کرے۔٭…دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرے۔٭…عیوب اور نقائص کو چھپائے۔٭…ان کے لیے دعائیں کرے۔٭…ان سے حسن سلوک کرے۔٭…انہیں لوگوں کے سامنے شرمندہ اور ذلیل نہ کرے۔٭…ان سے دھوکا، فراڈ ، کینہ حسد اور بغض نہ رکھے۔ ٭…ان کے بارے میں غیبت،چغلی،تہمت اور بہتان نہ لگائے۔٭…زبان اور دیگر اعضاء سے تکلیف نہ پہنچائے۔٭…انہیں نیکی کی باتوں کی ترغیب اور حکم جبکہ برائی کی باتوں سے روکے۔

حدیث مبارک کے اس حصے میں خیرخواہی کا عرفی معنی مراد ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پرعمل کی توفیق دیں۔( آمین )

مولانا محمد الیاس

اپنا تبصرہ بھیجیں