sindh_covid

سندھ میں ایک مرتبہ پھر کورونا کی وجہ سے پابندیاں عائد کر دی گئیں

EjazNews

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کورونا وائرس ٹاسک فورس اجلاس کے دوران کیا گیا۔

نئی ہدایات کے مطابق شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کو صبح 6 بجے سے شام 6 بجے کے درمیان کھولنے کی اجازت ہوگی تاہم وقت کی پابندی کا اطلاق اشیائے ضروریہ، بیکریز اور میڈیکل سٹور پر نہیں ہوگا۔

سندھ میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے ہالز کے ساتھ ساتھ انڈور اور آوٹ ڈور ڈائننگ پر بھی مکمل پابندی ہوگی تاہم ریسٹورانٹس کو ٹیک اوے سروس فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔
سندھ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ مزارات کو بھی بند کردیا جائے گا جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو سیف ڈے کے طور پر منایا جائے گا۔

دفاتر اور سرکاری و نجی شعبوں میں 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھلے رہنے کی اجازت ہوگی۔

اجلاس کے دوران سندھ کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی نے شرکا کو بتایا کہ سندھ میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 10.3 فیصد ہوگئی ہے اور صوبائی دارالحکومت کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 21.58 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سڑکوں پرکھڑے سکیورٹی اہلکار

بریفنگ کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ عید الاضحی کے بعد یہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جن لوگوں کو ایک ہی ویکسین کی خوراک دی جاچکی ہے ان کی حالت ویکسین نہ لگوانے والوں کی نسبت بہتر تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ ویکسین لگوانا کتنا ضروری تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 15 فیصد مریض ویکسین لگواچکے ہیں اور باقیوں سے بہتر حالت میں ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں وائرس کے ایک ہزار 425 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے ایک ہزار 2 سندھ سے سامنے آئے جس کے بعد قومی سطح پر اب تک سامنے آنے والے کیسز کی مجموعی تعداد 10 لاکھ 34 ہوگئی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کورونا وائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نجی چینلز پر بھارتی مواد کی تشہیر نہیں ہوگی: سپریم کورٹ

وزیراعلیٰ نے فیصلے کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خط میں مطالبہ کریں گے کہ پی ٹی اے تمام لوگوں کو میسج /پیغام بھیجے کہ وہ ویکسین کروائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ پیغام موصول ہونے کے بعد ایک ہفتے کے دوران ویکسین نہ کروائیں ان کی موبائل سم بلاک کردی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ عہدیدار کو این سی او سی تک سندھ حکومت کا فیصلہ کمیونیکیٹ کرنے کی ہدایت کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگلے مہینے سے ان سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنے کا فیصلہ کیا جائے گا جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی۔

اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے سیکرٹری فنانس کو اے جی سندھ سے رابطہ کرنے کی ہدایت دے دی۔

بعد ازاں سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ کے بیان کی توثیق کرتے ہوئے ایک پیغام میں بتایا کہ سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ویکسین نہ کراونے والوں کی موبائل فون سم بلاک کرانے کی سفارش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کاش بین الاقوامی میڈیا افغانستان سے رخصت ہونے والے بھارتیوں کے چہرے دکھا سکتا:وزیر داخلہ

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے بھر کے تعلیمی بورڈز کے تحت ہونے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں