sohail_saheen_1

اشرف غنی مفاہمت نہیں چاہتے ،مگر چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں:طالبان ترجمان سہیل شاہین

EjazNews

امریکی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ جو مذاکرات کرنے والے گروہ کے رکن بھی ہیں، انہوں نے طالبان کے موقف کی نشاندہی کی کہ ملک میں آگے کیا ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھاجب اشرف غنی کی حکومت ختم ہوگی اور دونوں فریقین کی جانب سے قابل قبول مذاکرات کے بعد نئی حکومت کابل میں قائم ہوجائے گی تو وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔وہ مفاہمت نہیں چاہتے مگر چاہتے ہیں کہ ہم ہتھیار ڈال دیں۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اقتدار کی اجارہ داری پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ ماضی میں افغانستان میں اقتدار پر اجارہ داری قائم کرنے والی حکومتیں کامیاب نہیں ہوئیں لہٰذا ہم اسی فارمولے کو دہرانا نہیں چاہتے۔

تاہم انہوں نے اشرف غنی کی مستقل حکمرانی پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور انہیں جنگی راہب قرار دیا اور ان پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے عیدالاضحی کے اسلامی دن کے روز بھی تقریر کے دوران طالبان کے خلاف کارروائی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اشرف غنی کے حکومت کرنے کے حق کو مسترد کرتے ہوئے 2019 کے انتخابات میں سامنے آنے والے بڑے فراڈ کی نشاندہی کی۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں نریندر مودی کی آمد پر یوم سیاہ

سہیل شاہین نے کہا کہ اس نئی حکومت کے تحت خواتین کو کام کرنے، سکول جانے اور سیاست میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں حجاب یا سر پر اسکارف پہننا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو گھر سے نکلنے کے لیے ان کے ساتھ مرد سربراہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور نئے قبضہ ہونے والے اضلاع میں طالبان کمانڈروں کو یہ حکم ہے کہ یونیورسٹیز، سکولوں اور بازاروں میں پہلے کی طرح کام جاری رہے گا جس میں خواتین اور لڑکیوں کی شرکت بھی شامل ہے۔

سہیل شاہین نے کہا کہ چند طالبان کمانڈرز نے جابرانہ اور سخت رویے کے خلاف قیادت کے احکامات کو نظرانداز کیا ہے اور ان میں سے متعدد کو طالبان کے ایک فوجی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور انہیں سزا دی گئی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سہیل شاہین نے کہا کہ کابل پر فوجی دباو ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اب تک طالبان نے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرنے سے خود کو روک لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ بہت سے بجھے ہوئے شعلوں کو ہوا دے سکتی ہے

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ نئے قبضہ کیے گئے اضلاع سے ملنے والے اسلحہ اور سازوسامان کے بعد وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میدان جنگ میں زیادہ تر کامیابی انہیں لڑائی سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اضلاع جو ہمارے پاس آچکے ہیں اور فوجی دستے جو ہمارے ساتھ شامل ہوچکے ہیں، وہ بات چیت کے ذریعے ہی آئے ہیں لڑائی کے ذریعے نہیں، لڑائی سے ہمیں صرف 8 ہفتوں میں 194 اضلاع حاصل کرنے میں بہت مشکل ہوتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں