japan Olympic

رنگا رنگ تقریب سے اولمپکس کا آغاز ہوگیا

EjazNews

غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی کھیلوں کی افتتاحی تقریب کا آغاز رنگا رنگ تقریب سے کیا گیا جو اصل شیڈول سے 364 روز کی تاخیر کے بعد ہوا۔

اولمپک اسٹیڈیم بڑے پیمانے پر خالی ہے اور اس کے داخلی دروازوں پر ٹوکیو 2020 کی یادداشت کا سٹور بھی بند ہے۔

ان کھیلوں کے ٹریک اور فیلڈ ایونٹ اسٹیڈیم میں ہوں گے۔

سٹیڈیم کے ٹریک پر ہونے والی افتتاحی تقریب میں رنگا رنگ گرافکس دکھائے گئے جبکہ چند معززین اور مدعو کیے گئے مہمان سٹیڈیم کی نشستوں پر موجود رہے جن میں امریکی خاتون اول جل بائڈن بھی شامل تھیں۔

بہت سی باقی نشستیں پلے کارڈز کے ذریعے بھری گئی ہیں۔

ٹوکیو اولمپکس کے منتظمین نے 25 نئے کووڈ 19 کے کیسز رپورٹ کیے ہیں جن میں سے 3 کھلاڑی شامل ہیں۔

یکم جولائی سے جاپان میں اولمپکس کا حصہ اب تک 110 افراد نے میں وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں 13 کھلاڑی شامل ہیں۔اس کے علاوہ بیرون ملک سے جاپان آنے والے تین میڈیا ورکرز بھی وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی سازشیں ناکام ہو گئیں،کشمیر پریمیئر لیگ امیدوں پر پورا اترنے لگی

100 امریکی کھلاڑیوں کو ویکسین نہیں لگی

میڈیکل ڈائریکٹر جوناتھن فننوف کا کہنا ہے کہ سفر کے لیے تیاری کرتے ہوئے 567 امریکی ایتھلیٹس نے اپنی صحت کی ہسٹری کو پر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 83 فیصد نے جواب دیا کہ انہیں ویکسین لگائے گئے تھے، 83 فیصد کافی تعداد ہے اور کمیٹی اس سے کافی خوش ہے۔

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کا اندازہ ہے کہ اولمپک کے رہائشیوں میں سے تقریبا 85 فیصد نے ویکسین لگائی ہوئی ہے۔

اولمپکس شروع ہونے سے پہلے ہی پولینڈ کے 6 تیراک وطن واپس لوٹ گئے، پولینڈ نے غلطی سے زیادہ کھلاڑیوں کو ٹوکیو بھیجنے کے سبب ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں