train_fater_train

چین میں دنیا کی تیز ترین ٹرین سروس کا آغاز

EjazNews

دنیا میں سب سے بڑا تیز رفتار ریل نیٹ ورک چین میں ہے جو 37 ہزار کلومیٹرز تک پھیلا ہوا ہے اور چین میں 2017 سے اب تک 1036 بلٹ ٹرینز کو چلایا جاچکا ہے۔اس وقت چین میں تیزرفتار ٹرینوں کی اوسط رفتار 217 میل فی گھنٹہ ہے جبکہ طیاروں کی اوسط رفتار 497 سے 559 میل فی گھنٹہ ہے۔

چین میں اس وقت کمرشل استعمال کے لیے واحد مقناطیسی ٹریک شنگھائی میں ہے جو 30 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

اس وقت متعدد ایسے ٹریکس پر کام جاری ہے جن میں سے ایک شنگھائی اور ہینگزو جبکہ دوسرا چنگڈاو اور چونگ چنگ کو ملانے کے لیے تعمیر کیا جارہا ہے۔

چین کے شہر چنگڈاو میں دنیا کی تیز ترین ٹرین سروس کا آغاز ہوگیا ہے جسے چائنا ریلوے رولنگ سٹاک کارپوریشن (سی آر آر سی) نے تیار کیا ہے۔

373 میل فی گھنٹہ کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ یہ بیجنگ سے شنگھائی کے درمیان کا فاصلہ محض ساڑھے 3 گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہوجائے گا جبکہ لاہور سے کراچی جتنا فاصلہ یہ ٹرین 2 گھنٹے سے بھی کم وقت میں طے کرسکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  زیادہ دیر کام کرنا صحت کیلئے خطرناک ہے:ڈبلیو ایچ او

یہ ٹرین مقناطیسی نظام کے تحت سفر کرے گی یعنی ٹرین پٹری کے مقناطیسی میدان پر ہوا میں معلق ہوکر چلتی ہے۔

سی آر آر سی کے ڈپٹی جنرل منیجر اور چیف منیجر لیانگ جیان ینگ نے چائینز میڈیا کو بتایا کہ رفتار کے ساتھ ساتھ یہ ٹرین بہت کم شرح میں آواز کی آلودگی کااخراج کرتی ہے جبکہ دیگر تیزرفتار ٹرینوں کے مقابلے میں اس کی مرمت وغیرہ کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

اس ٹرین کا پروٹوٹائپ ماڈل 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس موقع پر چین نے اعلان کیا تھا کہ وہ بڑے شہروں کے درمیان سفر کو 3 گھنٹے تک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں