سنگھاڑا

سنگھاڑا :سپر فوڈ

EjazNews

سنگھاڑے کو عام زبان میں ’’پانی پھل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جب کہ انگریزی میں”Water chestnut” کہتے ہیں۔عام طور پر اس پودے کی افزایش دلدلی زمین، کھڑے پانی اور جھیل میں ہوتی ہے۔ اس کا تکون نما بیج توانائی سے بَھرپور سُپر فوڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

سنگھاڑے کا استعمال خون کی کمی دُور کرتا ہے،جب کہ قوّتِ مدافعت بھی بڑھاتا ہے۔ واضح رہے، مضبوط قوّتِ مدافعت کورونا وائرس سمیت کئی موذی امراض کے خلاف ڈھال کا کام انجام دیتی ہے۔ علاوہ ازیں، یہ جسم میں کئی ایسے اینٹی آکسی ڈینٹ مادّے بھی پیدا کرتا ہے، جو قدرتی طور پر مضر وائرسز اور بیکٹیریا کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ سنگھاڑا امراضِ قلب میں مبتلا مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے کہ یہ گلوٹن اور کولیسٹرول سے پاک ہے۔ اس کا استعمال جسم سے زہریلے مادّے خارج کرتا ہے،تو سرطان کے خطرات بھی کم کردیتا ہے۔

اِسی طرح قے، متلی، اندرونی اور بیرونی سوزش کے خاتمے کے لیے بھی اکسیر ہے۔سنگھاڑے کا استعمال یادداشت تیزکرتاہے،تو دماغ کے لیے بھی مفید ہے۔ طبِ یونانی میں سنگھاڑا متعدّد امراض کے علاج کے لیے بطور دوا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً دَمے، ایڑیاں پھٹنے، پیچش، معدے اور انتڑیوںکے السر، یرقان، بار بار حمل ضایع ہونےاور مثانے کے امراض وغیرہ کے لیے۔چوں کہ اس کے پھل میں نشاستہ، پروٹینز، وٹامنز اور منرلز وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، لہٰذاماہرِ اغذیہ کے مشورے سے اسے اپنے غذائی شیڈول میں شامل کرکے جسمانی اور دماغی صحت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے جسمانی مدافعتی نظام کی محافظ غذائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں