farmer

اصلی دولت

EjazNews

شبیر خان کو شکار کھیلنے کا بہت شوق تھا، چونکہ شبیر خان اپنے علاقے کا سردار بھی تھا اور تمام لوگ اس کے غصے کی وجہ سے ڈرتے تھے ۔ شبیر خان ہر دوسرے تیسرے دن شکار کھیلنے کے لیے جاتا تھا۔ شکار کی طرف جانے والے علاقے کے راستے میں ایک کسان کی زمینپڑتی تھی۔ اس زمین میں ب شمار سر کنڈے اگے ہوئے تھے۔ کسان ان سرکنڈوں کو کاٹ کر مختلف چیزیں بنا کر شہر بیچ دیتا تھا جس سے اس کو گھر کا خرچ چلانے کے لیے معقول رقم مل جاتی تھی۔ شبیر خان جب شکار کے لیے اس راستے سے گزرتا تو سرکنڈوں کی وجہ سے اس کو شدید دشواری ہوتی تھی بلکہ اکثر اس کے کپڑے سر کنڈوں میں پھنس کر خراب ہو جاتے یا پھٹ جاتے تھے جس وجہ سے شبیر خان کو کسان پر سخت غصہ آتا تھا۔ ایک دن اس نے ملازم بھیج کر کسان کو اپنی حویلی بلایا۔ جب کسان حویلی میں آیا تو شبیر خان نے شدید غصہ میں پوچھا ’’بابا! تم اپنی زمین مجھے بیچ دو۔ میں تم کو اس کے بدلے میں کافی رقم دے دوں گا۔

سان نے ہاتھ جوڑ کر کہا سردار! میں تو اسی زمین سے اپنے بال بچوں کی خوراک کا بندوبست کرتا ہوں۔ میراروزگار اسی زمین سے وابستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ کون تھی؟

شبیر خان کو کسان کی بات سن کر شدید غصہ آگیا ۔ اس نے اپنے نوکروں کو کہہ کر کسان کی خوب پٹائی کروائی اور اس کی زمین پر اگے ہوئے سرکنڈوں کو آگ لگوا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ کسان روتا ہوا بڑے سردار کے پاس چلا گیاجو کہ بہت رحمدل اور نیک انسان تھا۔

کسان نے ان کو ساری بات بتائی تو انہوں نے فوراً سردار شبیر خان کوبلوا لیا۔ بڑے سردار نے شبیر خان کے آنے پر اس سے پوچھا کہ اس غریب کو کیوں مارا گیا ہے؟ سردار شبیر خان نے کہا کہ جی ہاں ! میں نے اس گستاخ کی پٹائی کرواکر اس کی زمین پر اگے سرکنڈوں کو آگ لگوا دی تھی۔ اس نے میری بات نہیں مانی تھی اس لیے مجھے غصہ آگیا تھا۔

بڑے سردار نے ناراض ہوتے ہوئے کہا سردار شبیر خان ! تم نے اپنی دولت کا غرور کرتے ہوئے اپنے شوق کو پورا کرنے کے لیے ایک غریب کسان کو تکلیف دی ہے۔ شاید تم بھول گئے ہو کہ تمہارے بڑے اس کسان سے بہت غریب ہوتے تھے۔ ہمارے بڑوں کی مہربانی سے تمہارے بڑوں کو زمین دے کر وہاں کا سردار بنا دیا گیا تھا جس دولت پر تم مغرور ہو وہ اس کسان کی مزدوری کے مقابلے میں بہت حقیر ہے کیونکہ یہ بچارا محنت مزدور ی کر کے کماتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  موتی مل گیا

پھر بڑے سردار نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ کسان اور سردار کو دس دن کے لیے سمندر پار جنگل میں چھوڑ آئو۔ نوکروں نے ان دونوں کو کشتی میں سوار کیا اور سمندر کے دوسرے کنارے بہت خطرناک جنگل میں چھوڑ دیا جہاں پر جنگلی لوگ رہتے تھے۔

جنگلیوں نے جب ان کو دیکھا تو ان کو مارنے کے لیے دوڑے۔ لیکن کسان نے ہاتھ کے اشاروں سے ان کی منت سماجت کی کہ ہمیں مت مارو بلکہ ہم تمہاری خدمت کیا کریں گے۔ پھر کسان نے جنگل میں اگے سر کنڈوں سے جنگلی لوگوں کے سردار کو ٹوپی بنا کر دی۔ جنگلی سردار نے ٹوپی سر پر رکھی تو تمام جنگلی لوگ خوشی سے ناچنے لگے۔ سردار کو ٹوپی بہت پسند آئی تھی اب ہر وقت کسان کے پاس جنگلی لوگوں کا ہجوم رہتا تھا جو اس سے ٹوپی بنواتے تھے لیکن سردارشبیر خان کی سخت شامت آئی ہوتی تھی۔

جنگلی روزانہ صبح شام اس کی سخت پٹائی کرتے تھے آخر اگلے دن اس نے کسان کی منت کی کہ کسی طریقے سے ان وحشی جنگلیوں سے اس کی جان چھڑوا دے۔ یہاں سے جا کرو ہ اپنی آدھی جائیداد اور زمین اس کو دے دے گا۔ یہ سن کر کسان نے اس کو بھی ٹوپی بنانے کا طریقہ سکھا دیا اور جنگلیوں کو اشارے سے سمجھایا کہ اس کو کچھ نہ کہیں بلکہ یہ اس کا ساتھی ہے جو ٹوپی بنانے میں مدد کرتا ہے۔ جنگلی اس کی بات سمجھ گئے اور سردار شبیر کی پٹائی سے جان چھوٹ گئی اور وقت پر کھانا ملنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں:  موچی سوداگر بن گیا

دس دن کے بعد سمندر کے کنارے بڑے سردار کے ملازم آگئے اور انہیں لے کر بڑے سردار کے پاس آئے۔ سردار شبیر خان کی حالت شرمندگی سے بہت بری ہو چکی تھی۔

بڑے سردار نے اس کو کہا سردار شبیر! تم نے خود دیکھ لیا کہ دولت پر غرور کرنے والا کتنا احمق اور نالائق ہوتا ہے۔ حالانکہ اصل دولت علم اور ہنر ہوتا ہے۔ جو محنت کرنے سے حاصل ہوتے ہیں ۔ اب تم اپنے وعد ے کو پورا کرواور آدھی جائیداد کسان کو دے دو۔

سردار شبیر خان نے اپنی حویلی میں جا کر آدھی جائیداد کسان کو دے دی اور کسان کو اس کی محنت ، ہنر اور صبر کا صلہ مل گیا۔

اچھے بچو!
اصل دولت ہنر، علم اور محنت ہ۔ اس کو پانے والا اصلی دولت مند بن جاتا ہے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں