جذام یا کوڑہ

جذام یا کوڑہ:علاج ممکن ہے

EjazNews

جذام جسے عرفِ عام میں کوڑھ کہاجاتا ہے، ایک قدیم اور متعدی بیماری ہے، جو بھارت سمیت کئی ممالک میں صدیوں سے موجود ہے۔ جذام کو انگریزی میں لیپروسی(leprosy)،جب کہ طبّی اصطلاح میں HD:hansen’s Diseaseکہا جاتا ہے۔ یورپ میں یہ مرض چوتھی صدی میں ظاہر ہوا اور تیرھویں صدی تک مرض کے پھیلاؤ کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا۔ بعد ازاں فرانس سے یہ مرض کینیڈا اور پھر سیاہ فام غلاموں کے ذریعے امریکا تک پھیل گیا۔

اس مرض کا جرثوما Mycobactirum Lepraeہے، جو ساخت کے اعتبار سے ٹی بی کے جرثومے سے ملتا جلتا ہے۔ جب کہ مرض کے پھیلاؤ کا بنیادی سبب مریض کے ناک سے نکلنے والی رطوبت ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ مرض کی بروقت تشخیص نہ ہوسکے، تو پھر دیگر اہلِ خانہ بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ یہ مرض سُست رفتاری سے جسم کے اندر ہی اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتا چلاجاتا ہے۔ عمومی طور پر مرض کی ابتدا سفیدی مائل دھبے سے ہوتی ہے، جو جسم کے کسی بھی حصّے پر مثلاً چہرے، گردن، بازو یا پھر ٹانگ پر اچانک ہی ظاہر ہوتا ہے۔ زیادہ تر مریض ان دھبّوں کی جانب توجّہ نہیں دیتے اور نظرانداز کردیتے ہیں۔ ان دھبوں کو چھونے سے کوئی احساس نہیں ہوتا، لیکن جِلد کی سطح کسی حد تک کھردری ہوجاتی ہے۔ اگر ابتدائی مرحلے میں متاثرہ مریض محتاط ہو، تو نوٹس لے لیتا ہے اور معالج سے رجوع کرنے میں تاخیر نہیں کرتا۔

معالج چند ضروری ٹیسٹں کے بعد حتمی تشخیص ہونے پر مخصوص ادویہ تجویز کرتا ہے، جوکم مدّت میں تن درستی کاباعث بنتی ہیں۔ لیکن اگر بدقسمتی سے ابتدائی مرحلے میں مرض تشخیص نہ ہوسکے، تو پھر نہ صرف یہ دھبّے آہستہ آہستہ پورے جسم پر پھیلتے چلے جاتے ہیں، بلکہ مرض کے جراثیم عصبی نَسوں پربھی اثر انداز ہوجاتے ہیں اور نسیں موٹی ہونے لگتی ہیں۔ خاص طور پر کُہنی اور کان کے پیچھے کی نسیں موٹی ڈوری کی مانند دکھائی دیتی ہیں۔ کلائی اور انگلیوں میں سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے، جب کہ سُن ہونے کی شکایت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ چوں کہ ان ہی نَسوں سے عضلات کی طاقت قائم رہتی ہے، تو مرض کے باعث دورانِ خون میں کمی واقع ہونے کے سبب اس کا اثر عضلات کی کم زوری کی صورت ظاہر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں ہاتھوں، پیروں کی ساخت میں واضح تبدیلی ظاہر ہونے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ جانتے ہیں خوشی میں وقت بہت تیزی سے کیوں گزرتا ہے؟

جِلد پر چوٹ، ٹھنڈا، گرم لگنے کا احساس کم ہونے کے باعث زخم بھی بننے لگتے ہیں۔ نیز، رفتہ رفتہ یہ مرض جِلد کے ساتھ مُنہ کو بھی متاثر کرنا شروع کردیتا ہے اور جسم پر اُبھرے ہوئے چکتے بننے لگتے ہیں، ساتھ ہی ہونٹوں پر گومڑ سے بھی بن جاتے ہیں۔ نیز، تالو میں گٹھلی سی بن کر پھٹ جاتی ہے، جس کی وجہ سےآواز بھی تبدیل ہوجاتی ہے اور مریض کے لیے کھانا پینا تک مشکل ہوجاتا ہے۔ مسوڑھے متوّرم ہوجاتے ہیں اور انفکیشن پھیلنے کے سبب دانت جھڑنے لگتے ہیں۔ پیشانی کی جِلد موٹی اور لکیریں واضح ہونے سے شکل مسخ سی ہوجاتی ہے، ناک کی ساخت بھی بدل جاتی ہے اور چوں کہ جذام سے متاثرہ فرد ہڈیوں کے بُھربُھرے پن کا بھی شکار ہوجاتا ہے، تو ناک کی ہڈی بیٹھ سی جاتی ہے، پاؤں اور ہاتھ کی انگلیوں میں بھی ٹیڑھا پن پیدا ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہاتھوں کی انگلیاں مُڑنے کے سبب کوئی چیز بھی پکڑنا دشوار ہوجاتا ہے، تو پاؤں کی ٹیڑھی انگلیاں چال کی خرابی کا سبب بن جاتی ہیں۔ آنکھوں کی نَسوں میں مرض سرایت کرنے سے اندھا پن ہوجاتا ہے۔ بھنوؤں اور پلکوں کے بال جھڑ جاتے ہیں۔ ناخن نیلے ہوکر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ یعنی دھیرے دھیرے جسم کے تقریباً تمام ہی اعضاء مرض کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ اگر بروقت مرض کی تشخیص نہ ہو، تو مریض سسِک سسِک کردَم توڑ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تندرست رہنے کے آٹھ طریقے

مرض کے علاج کے ضمن میں طویل اور متعدد ریسرچز کے بعد خوش قسمتی سے اب بہترین مؤثر ادویہ موجود ہیں، جن کے بروقت استعمال سے مرض پر قابو پانا سہل ہوگیا ہے، جب کہ فزیو تھراپی بھی اس حوالے سے خاصی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ مرض سے شفایابی کے لیے ضروی ہے کہ معاشرے میں مرض سے متعلق معلومات عام کی جائیں، تاکہ متاثرہ فرد کا جلد از جلد علاج ممکن ہوسکے۔ یاد رہے، مُلک بَھر میں ایسے متعدد مراکز اور کلینکس موجود ہیں، جہاں مرض کی تشخیص اور علاج معالجے کی تمام تر سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ اور چوں کے جذام کے علاج کا دورانیہ طویل ہے، تو عموماً مریض جو تنگ آکر علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں، تو اُن کے لیے سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر ایک بار مرض تشخیص ہوجائے، تو پھر کسی صورت ادویہ میں ناغہ نہ کریں۔ پوری دِل جمعی سے علاج کروائیں۔ نیز، اہلِ خانہ کو بھی چاہیے کہ وہ اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئیں۔ اُن کی ادویہ اور خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ بے شک، جذام ایک جِلدی مرض ہے، لیکن اس کے علاج معالجے کے لیے کسی عام کلینک کی بجائے ہمیشہ خاص مراکز سے رجوع کیا جائے، تاکہ مستند اور مؤثر علاج ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  نو ٹوبیکو ڈئے پر خصوصی تحریر

اہم معلومات

پاکستان میں ہرسال تقریباً4سو سے5سو جذام کے نئے مریض رجسٹر کیے جاتے ہیں۔

سُست رفتاری سے جسم میں سرایت کرنا والا یہ مرض ہرگز موروثی نہیں۔

چھوت کا عارضہ ہے، لیکن علاج شروع ہونے کی صورت میں مریض کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد محفوظ رہتے ہیں۔

عمومی طور پر یہ عارضہ لاحق ہونے کے کم از کم ایک سال بعد تشخیص ہوتا ہے، لہٰذا اگر جِلد پر ہلکے سفید یا سُرخی مائل دھبّے، نشانات ظاہر ہوں، تو اُنہیں ہرگز نظر انداز نہ کریں۔

ابتدائی مرحلے میں مرض تشخیص ہونے کی صورت میں علاج کا دورانیہ چھے ماہ، بصورتِ دیگر کم از کم دوسال کاعرصہ لگتا ہے۔

ماہرین نے لیپروسی کو دو اقسام میں منقسم کیا ہے۔ پہلی قسم متعدی اور زیادہ انفیکشن والی، جب کہ دوسری غیر متعدی اور کم انفیکشن والی ہے۔

یہ مرض مَرد یا عورت کسی کو بھی، عُمر کے کسی بھی حصّے میں اپنا شکار بناسکتا ہے۔ تاہم، خواتین کی نسبت مَرد زیادہ اور جَلد متاثر ہوتے ہیں۔

واحد جِلدی مرض ہے، جس میں جسم کا اعصابی نظام تک لپیٹ میں آجاتا ہے۔

علاج کےضمن میں تیل سے جسم کی مالش فائدہ مند ثابت ہوتی ہے کہ دورانِ خون کی بہتری سے ادویہ بھی زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہیں۔

مریض کے اہلِ خانہ علامات نہ ہونے کے باوجود لازماً اپنا چیک اب بھی کروائیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں