Silisila_khan_with_father

کسی اور کی غلطیاں ہم اپنے سر نہیں لیں گے،پتہ لگا لیا ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کہاں گئی تھی؟

EjazNews

پاکستان کا کہناہے کہ افغانستان میں قربانی کا بکرا بنیں گےنہ کسی اور کی ناکامی خودپر ڈالنے دیں گے ، پتہ لگالیاہے کہ افغان سفیرکی بیٹی کہاں گئی تھی ۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے 16 جولائی کو اسلام آباد میں رونما ہونے والے افسوسناک واقعہ کا ذاتی طور پر نوٹس لیا اور وہ خود تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں،تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے افغان حکومت کا تعاون درکا ہو گا، واقعہ کے حوالے سے کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں رکھیں گے اورانصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے، تمام حقائق دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

افغانستان کی جانب سے بھیجی جانے والی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، بعض قوتیں سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلا کر پاک افغان تعلقات خراب کرنا چاہتی ہیں، امید ہے افغان حکومت سفیر کو واپس بلانے کے معاملے پر نظر ثانی کرے گی، ہم افغانستان کے ساتھ اپنی انگیجمنٹ کو برقرار رکھیں گے،بہت سی باتوں کا جواب دے سکتے ہیں مگر مصلحتاً خاموش ہیں

یہ بھی پڑھیں:  حکومت کی طرف سے کون چیئرمین سینٹ ہوگا؟

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی کا اغواءاور تشدد ثابت نہیں ہوا ، پوراٹریک ٹریس کرلیا ہے جبکہ مشیر قومی سلامتی معیدیوسف نے کہاکہ پاکستان کو ہائبرڈ جنگ کا سامنا ہے،دشمن قوتوں نے ہمارے خلاف مختلف محاذ کھولے ہوئے ہیں‘کچھ ہیش ٹیگز اور فیک اکاؤنٹس سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو وزارت خارجہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ہم بھی بیٹیوں والے ہیں اور ان کی عزت و احترام ہم سب پر لازم ہے۔ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔واقعہ کے بعد ہم نے اسلام آباد میں افغان سفارتخانے اور پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں قونصل خانوں کی سیکورٹی کو بڑھا دیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کل رات ہم نے ایک نوٹ وربل کے ذریعے ان سے کچھ تقاضے کیے ہیں، ہمیں ان سے کچھ تفصیلات درکار ہوں گی۔

ان کا کہناتھاکہ افغانستان میں ہمارا نہ کسی کی طرف جھکاؤ ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی فیورٹ، جو بھی دراندازی کرتا ہے وہ افغانستان اورخطے کا دوست نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا

اس موقع پرمعید یوسف نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے،کسی اور کی غلطیاں ہم اپنے سر نہیں لیں گے،بھارت،افغانستان اور وسطی ایشیاء سے سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کے خلاف غلط اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں۔

بھارتی میڈیا نے افغان سفیر کی بیٹی کی غلط تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی۔فرضی اکاؤنٹس سے پاکستان کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔وہی اکاؤنٹس جو پہلے ہندوستان، افغانستان اور کچھ پاکستان سے جھوٹے پروپیگنڈا کیلئے استعمال کئے جا رہے تھے وہی اس واقعہ میں استعمال ہو رہے ہیں ۔

آئی جی اسلام آباد نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس نے 300 سے زائد کیمروں کی اسکروٹنی کی اور سات گھنٹوں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا ہے، ہم نے 200 سے زائد لوگوں کو شامل تفتیش کیا ہے۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکلتی ہیں اور پھر ٹیکسی کرائے پر لیتی ہیں،ہم نے وہ ٹیکسی تلاش کی اور ڈرائیور کی تفتیش کی۔دوسری ٹیکسی وہ کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی کیلئے کرایہ پر لیتی ہیں،پھر ڈرائیور ٹریس ہوا اس کی تفتیش کی اور اس نے انہیں صدر راولپنڈی چھوڑا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ویڈیو سکینڈل تحریک انصاف کے موقف کی تائید ہے؟

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ پنڈی صدر کے 8 کیمروں سے ریکارڈ لیا گیا، پھر ایک تیسری ٹیکسی کرایہ پر لی گئی، اس کے بعد دامن کوہ کے کیمرے سے ٹیکسی ٹریس ہوئی جس نے سارا روٹ بتایا۔ اس کے بعد ایک چوتھی ٹیکسی کرایہ پر لی گئی وہ ایف سکس گئیں اور پھر ایف 9 جاتی ہیں اور وہاں ایمبیسی اسٹاف کو فون کرتی ہیں جو انہیں گھر لے گیا۔

آئی جی نے کہا کہ ہم نے سارا روٹ ایکسپلور کیا ہے اس میں کچھ سیف سٹی کے کیمرے اور کچھ پرائیویٹ کیمروں کا ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے جبکہ ہمیں مدعیہ سے کچھ مزید معلومات درکار ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں