sheikh rasheed

بھارتی میڈیا گمراہ کن پراپیگنڈہ کر رہا ہے، کیس 72گھنٹے میں حل کر لیں گے:وزیر داخلہ

EjazNews

اسلام آباد میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی گھر سے پیدل نکل کر مارکیٹ پہنچیں جہاں سے ٹیکسی لے کر وہ خریداری کے لیے کھڈا مارکیٹ اتریں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ معلومات ہمیں سیف سٹی کے کیمروں اور ویڈیوز کے ذریعے ملی ہے، کھڈا مارکیٹ سے خاتون نے ایک اور ٹیکسی لی جو ہماری فوٹیج کے مطابق راولپنڈی جاتے ہوئے دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی میں خاتون کو جس شاپنگ مال کے باہر ٹیکسی نے اتارا اس کی بھی فوٹیج موجود ہے، بعدازاں دامن کوہ سے انہوں نے تیسری ٹیکسی لی اور ہمارے پاس اسی چیز کا گیپ ہے کہ یہ راولپنڈی سے دامنِ کوہ کیسے پہنچیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ دامن کوہ سے تیسری ٹیکسی کے ڈرائیور سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے جس کے فون سے انہوں نے افغان سفارتی اہلکار کو فون کیا تھا۔

وزیر داخلہ کے مطابق خاتون اسلام آباد کے سیکٹر ایف-6 سے پہلے گھر جاسکتی تھیں لیکن انہوں نے ایف-9 جانے کو ترجیح دی۔

انہوں نے بتایا کہ رات 2 بجے ہمیں مقدمے کے اندراج کی تحریری درخواست موصول ہوئی ہے اور اس سلسلے میں ہم دفتر خارجہ سے مکمل رابطے میں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365، 354، 506 اور 34 کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دعا ہے پاکستان میں عوام کی حکمرانی قائم ہو، نواز شریف

وزیر داخلہ نے کہا کہ جیسے جیسے وہ ہم سے تعاون کررہے ہیں اس کیس کی کڑیاں کھل رہی ہیں لیکن ہماری فوٹیج کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی کا کھڈا مارکیٹ سے راولپنڈی جانا اور شاپنگ مال پر اترنا بھی تفتیش میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم یہ تفتیش کررہے ہیں کہ وہ راولپنڈی سے دامن کوہ کیسے آئیں، ہم راولپنڈی کی فوٹیجز کا جائزہ لے رہے ہیں اگر شام تک یہ گتھی بھی سلجھ گئی تو اس کیس کی ساری کڑیاں مل جائیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم بین الاقوامی میڈیا، جسے بھارت نے گمراہ کیا ہوا ہے، اسے حقیقت کے قریب لے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ساری صورتحال دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس خطے میں ہماری اہمیت بہت بڑھ چکی ہے، عمران خان کی حکومت کی خارجہ پالیسی کی مقبولیت ہر جگہ ہے ایسے میں بھارت ہمارے خلاف پروپیگنڈے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا۔

افغان سفیر کی بیٹی کے واقعے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ 16 تاریخ کو پیش آیا لیکن کل ساڑھے 8 بجے انہوں نے اس کی اطلاع دی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کبھی کم نہیں کرے گا، یہ کبھی نہیں ہوگا:وزیراعظم عمران خان

انہوں نے کہا کہ پولیس افغان سفیر کی بیٹی کی تفتیش کررہی ہے ان کی درخواست پر واقعے کا مقدمہ درج کیا جارہا ہے، ہم افغان سفارتخانے کے ساتھ رابطے میں ہیں جو تعاون کررہا ہے۔
’48 سے 72 گھنٹوں میں افغان سفیر کی بیٹی کا کیس پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پولیس، دفتر خارجہ اور ادارے وزیراعظم کی ہدایت پر جلد از جلد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کررہے ہیں، تفتیش کل سے پرسوں تک میں مکمل ہوجانے کے بعد میڈیا کو دوبارہ اعتماد میں لیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت تھی کہ کیس کو 48 گھنٹوں میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے اگر 48 گھنٹوں میں نہ ہوا تو 72 گھنٹوں میں یہ ضرور پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید نے کہا کہ اس وقت 1900 کیمرے موجود ہیں لیکن وزیراعظم سے مزید 1500 کیمرے مہیا کرنے کی درخواست کی گئی ہے جس کے لیے فنڈز سی ڈی اے چیئرمین فراہم کریں گے۔

افغان سفیر کی بیٹی کے اغواء کا معاملہ کیا ہے؟

افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کے بعد تشدد کا معاملہ گزشتہ روز سامنے آیا تھا۔جب افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کو دارالحکومت اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد کئی گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:  خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ

جس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں افغان سفیر کی بیٹی پر اسلام آباد میں تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس پریشان کن واقعے کی اطلاع کے فوری بعد اسلام آباد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ سفیر اور ان کے اہل خانہ کی سکیورٹی کو بہتر بنا دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور گرفتاری کی کوشش کر رہے ہیں۔

بعدازاں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں ہدایت کی ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے انہیں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر حقائق منظر عام پر لانے اور 48 گھنٹوں کے اندر ملزموں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں