dam

امید ہے داسو ڈیم کا منصوبہ 2023ء میں مکمل ہو جائے گا

EjazNews

کوہستان میں چینی انجینئرز کی ہلاکت کے واقعے کے بعد چینی گیزوبا گرو پ کمپنی Gezhouba Group Companyنے داسو ڈیم پر کام بند کردیا ہے، تاہم پاکستانی سٹاف کی برطرفی کا 16جولائی کا اعلامیہ منسوخ کردیا گیا۔ پاکستانی ملازمین کو فارغ کرنے کی منظوری متعلقہ اتھارٹی سے نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق کمپنی کے چیئرمین کی ہدایت پر پہلا حکم نامہ منسوخ کیاگیا ہے۔ کمپنی نے خط میں کہا کہ 14جولائی کےافسوسناک واقعے کے باعث مزید کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

واپڈا حکام نے داسو ڈیم پر کام کی بندش کی تصدیق کردی ۔ایک سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ داسو پراجیکٹ میں تقریبا 466 چینی ، 22 غیر ملکی اور 2500 پاکستانی کام کر رہے ہیں غیر ملکی باشندوں کی سکیورٹی کو مزید سخت کردیا گیا ہے ۔

بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اموات ،تحقیقات اور مختلف وفود کے دوروں کے باعث داسو ڈیم کی تعمیر کا کام عارضی طورپر روکا گیا ہے چینی کمپنی کے ساتھ کنٹریکٹ منسوخ نہیں ہوا ۔کمپنی نے ہڑتال کے عادی اور بعض غیرضروری ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ فیصلہ بھی رات گئے واپس لے لیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں:  خبریں نشر ضرور کریں لیکن تصدیق کے ساتھ

چینی کمپنی کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں حکومت نے چینی باشندوں کومکمل سیکورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے داسو منصوبے پر کام کرنے والے پاکستانی ورکرز کی ملازمت کے معاہدوں کی منسوخی کے حوالے سے میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جواب میں چین کی تعمیراتی کمپنی چائنہ گیزوبا گروپ کارپوریشن ( سی جی جی سی) کے حوالے سے بتائی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے متعلقہ حکام منصوبے کی سکیورٹی اور ترقیاتی کام کو جاری رکھنے کے حوالہ سے باہمی مشاورت سے اقدامات کررہے ہیں، منصوبے پر تعمیراتی کام کا جلد دوبارہ آغاز کردیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سمیت چین کے اشتراک سے جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کےلئے پرعزم ہیں۔

قبل ازیں چینی حکومت کی جانب سے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی وفد نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز اور نئے سکیورٹی منصوبے پر نظرِ ثانی کے لیے جائے وقوع کا دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسی روٹی روایت بھی ذائقہ بھی

ذرائع نے کہا کہ چینی تفتیش کاروں نے بارسین کیمپ کے دورے کے موقع پر پاکستانی اور اپنے شہریوں سے پوچھ گچھ کی جبکہ مقامی پولیس چینی تحقیقاتی ٹیم کے نتائج سے لاعلم نظر آئی۔

خیال رہے کہ 14 جولائی کو زیر تعمیر 4 ہزار 300 میگاواٹ کے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے پر تعمیراتی ٹیم کو لے کر جانے والی ایک کوچ بالائی کوہستان میں دھماکے کے بعد دریا میں جا گری تھی جس کے نتیجے میں 9 چینی، 4 مقامی افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے تھے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ کمپنی بہتر انتظام کے لیے ملازمین کو ہائر کرنے کا ٹھیکا تیسری پارٹی کو دینے سمیت مختلف آپشنز پر غور کررہی ہے۔

دوسری جانب ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوہستان کے عمائدین نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ چینی حکومت اس میگا پروجیکٹ پر کام کی بحالی کو یقینی بنائے گی اور مقامی افراد نے ہمیشہ چینی منصوبوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں: چیف جسٹس

انھوں نے امید کا اظہار کیا کہ عید کے بعد سیکورٹی کے حالات بہتر ہوتے ہی چینی کمپنی دوبارہ داسو ڈیم پر کام شروع کردے گی اور تمام ملازمین کو بھی واپس بلالیا جائے گا ۔اپر کوہستا ن میں داسو ڈیم 4320میگا واٹ کا پن بجلی کا بڑا منصوبہ ہے جو 2017میںشروع ہوا جو 2023میں مکمل ہونا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں