zaheid_hafeez

ترجمان دفتر خارجہ کاامر اللہ صالح کے بیان پر رد عمل

EjazNews

ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ اس طرح کے الزامات جنگ زدہ افغانستان میں افغان سربراہی اور افغانوں پر مشتمل حل میں کردار ادا کرنے کی پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو مجروح کررہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کو چمن سرحد سے متصل افغان علاقے میں فضائی آپریشن کرنے کے ارادے کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘پاکستان نے افغان حکومت کے ان کے اپنے علاقے میں کارروائی کے حق پر مثبت ردِ عمل دیا تھا تاہم سرحد کے انتہائی قریب کارروائی کی عموماً عالمی سطح پر تسلیم شدہ اقدار اور قواعد و ضوابط کے تحت اجازت نہیں دی جاتی البتہ پاکستان نے اپنے فوجیوں اور آبادی کے تحفظ کے لیے سرحدی حدود کے اندر ضروری اقدامات کئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان حکومت کے اس کے خودمختار علاقے میں کارروائی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینٹ الیکشن سے متعلق عدالت عظمیٰ کی رائے

بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے یاد دہانی کروائی کہ پاکستان نے حال ہی میں 40 افغان نیشنل ڈیفنس فورسز کے اہلکاروں کو ریسکیو کیا جو ملک میں بھاگ کر آگئے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان اہلکاروں کو ‘عزت و احترام اور درخواست کے مطابق اے این ایس ایف کو تمام لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ایک پیش کش کے ساتھ افغان حکومت کے حوالے کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، ‘افغانستان میں امن کے لیے پر عزم ہے اور رکاوٹوں کے باجود اس مقصد کی جانب کوششیں جاری رکھے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘تاہم یہ ضروری ہے کہ اس اہم موقع پر تمام تر توانائیاں افغانستان میں شراکتی، وسیع بنیاد اور جامع سیاسی حل کے لیے صرف کی جائیں۔

واضح رہے کہ امر اللہ صالح نے ایک ٹوئٹ میں الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاک فضائیہ کچھ علاقوں میں طالبان کو فضائی مدد فراہم کررہی ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ ‘بریکنگ: پاک فضائیہ نے افغان فوج اور فضائیہ کو باضابطہ انتباہ جاری کیا ہے طالبان کو اسپن بولدک کے علاقے سے نکالنے کی کسی بھی کوشش کا سامنا پاک فضائیہ کرے گی اور اسے پسپا کردے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان میں طوفانی بارشیں

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاک فضائیہ کچھ علاقوں میں طالبان کو قریبی فضائی امداد فراہم کررہی ہے۔

ایک علیحدہ ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘اگر کسی کو پاک فضائیہ اور پاک فوج کی جانب سے افغان فوج کو اسپن بولدک دوبارہ حاصل کرنے کے حوالے سے دی گئی وارننگ پر شک ہے تو میں ڈائریکٹ میسج کے ذریعے شواہد فراہم کرنے کو بھی تیار ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں