durdana_ansari

برطانیہ کی نیوی میں کام کرنے والی پہلی پاکستانی نژاد خاتون کون ہیں؟

EjazNews

دردانہ 1960 میں پنجاب کے ضلع بہاولپور میں پیدا ہوئیں اور میڈیا کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد برطانیہ کے سب سے بڑے ٹی وی چینل بی بی سی میں بطور نیوزاینکر کام کیا۔

دردانہ انصاری نے بی بی سی ورلڈ نیوزسروس کے لئے نامور شخصیات کے انٹرویوز ، ہدایت کاری اور پروڈکیشن میں 22 سال گزارے ہیں۔ سال 2012 میں دردانہ انصاری کو آرڈر آف دی برٹش ایمپائر ایواڈ اور 2018 میں آنریری کمانڈر رائل نیوی ایواڈ سے نوازا گیا۔

دردانہ انصاری کے چار بچے ہیں اور ان کی بڑی بیٹی آمنہ انصاری ایک آرٹسٹ ہیں جن کی بنائی گئی تصاویر برطانوی شاہی خاندان کی ونڈسر کیسل میں لٹکی ہوئی ہیں۔ دردانہ برطانوی مسلم خواتین کے لیے بہت سے فلائی کام بھی کر رہی ہیں۔

دردانہ کو بی اے ایم کمیونٹیز کے تجربات کی انسٹیکٹر کے عہدے پر بھی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پرل ایجوکیشن فاﺅ نڈیشن کا ادارہ بھی بنایا جس میں پڑھنے، لکھنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مسلم خواتین کو تربیت دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس :پاک ایران سرحد وقتی طور پر بند

دردانہ نے وزیراعظم عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) ، اسلامک ریلیف اور ہیلپنگ ہینڈز میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

دردانہ انصاری برطانوی نیوی میں مشیر کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کا کام 18 سے 35 سال کی عمر کے افراد کے لیے پروگرامز کا انعقاد کرنا ہے جن میں رائل نیوی کی ملازمت کے متعلق اگائی فراہم کی جاتی ہے۔

دردانہ انصاری مشہور گلوکار عاصم اظہر کی خالہ ہیں۔ عاصم اظہر نے ٹویٹ پر پوسٹ شیئر کرتے کہا کہ آج کا دن نہ صرف میرے اور میرے اہل خانہ بلکہ پوری قوم کے لئے قابل فخر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں