Ring_road_rawalpindi

رنگ روڈسکینڈل میں کتنے صفحات اور گواہوں سے چھان بین کی گئی

EjazNews

اینٹی کرپشن پنجاب نے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی زلفی بخاری اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کو کلین چٹ دے دی جبکہ سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد محمود اورلینڈ ایکوزیشن کمشنروسیم تابش کو گرفتارکرلیاگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تحقیقات اب نیب کریگا۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب گوہر نفیس نے راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے 21ہزار صفحات کی چھان بین کی اور ایک سو کے قریب افراد کے بیانات ریکارڈ کیے ۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ رنگ روڈ کی الائنمنٹ تبدیل کرنا اور غیر قانونی ایوارڈ ہونا ثابت ہو گیا ہے۔ رنگ روڈ کی الائنمنٹ تبدیل کرنے کی منظوری صوبائی ترقیاتی بورڈ سے نہیں لی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن پنجاب نے پراجیکٹ ڈپٹی ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔اس کے علاوہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کا وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے ہدایات لینے کا دعوی بھی غلط ثابت ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مونس الٰہی کے حلف اٹھانے کے بعدوفاقی وزراء کی تعداد29ہوگئی

رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر نے ہاوسنگ سوسائٹیزکو فائدہ پہنچانے کیلئے 5 نئی انٹر چینج تجویز کی ہیں۔منصوبے میں وزیر اعظم کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ منصوبے کی لاگت میں پی سی ون میں تبدیل کرنے سے 10 ارب کا اضافہ ہوا ہے۔

ادھرڈی جی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب محمد گوہر نفیس نے میڈیا کو بتایا کہ حکومتی منظوری کے بغیر 2ارب60کروڑ روپے خرچ کیے گئے،رنگ روڈ کی الائنمنٹ میں تبدیلی سے نجی ہائوسنگ سوسائٹیز کو دانستہ طور فائدہ پہنچایا گیا۔ منصوبے میں دانستہ طور پر نئے انٹرچینج شامل کیے گئے، لوکل ٹریفک کی انٹری کیلئے راستے کھول کرمخصوص عناصر کو فائدہ دیا گیا۔لینڈ ایکوزیشن آفیسر وسیم تابش نے 12پراپرٹیز خریدیں جن میں ان کی مالیت 6 کروڑ ظاہر کی گئی ۔

سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد محمود نے وزیر اعظم عمران خان کو غلط تفصیلات سے آگاہ کیا۔گوہر نفیس کا مزید کہنا تھا کہ کہ ہائوسنگ سوسائٹی کی جانب سے عوام کو لوٹنے اور سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کے متعلق معاملہ نیب کو بھجوا کر بڑے مگرمچھوں کو بھی بے نقاب کیا جائے گا۔مختلف عناصر کو فائدہ پہنچانے کیلئے رنگ روڈ روالپنڈی کی الائنمنٹ اور روٹ کو بڑھایا گیا، زلفی بخاری،توقیر شاہ اور غلام سرور سے متعلق تفتیش جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق رنگ روڈ سکینڈل کی ابتدائی رپورٹ میں سیاسی شخصیات کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کابینہ کے کسی رکن کے ملوث ہونے کا ذکر نہیں ہے۔رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ ہائوسنگ سوسائٹیز کی تحقیقات نیب کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  عجمان اور دبئی بینکوں کی پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالرز مرابھا سنڈیکیٹڈ فنانسنگ

اپنا تبصرہ بھیجیں