misbah ul haq

ہم نے کھلاڑیوں کو جو پلان دیا تھا انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا:مصباح الحق

EjazNews

انگلینڈ سے آن لائن پریس کانفرس کرتے ہوئے مصباح نے کہا کہ اس کارکردگی کا دفاع نہیں کیا جا سکتا، یہ بہت مایوس کن کارکردگی ہے، دو میچوں میں بیٹنگ میں کنڈیشنز کو سنبھال نہیں سکے اور گزشتہ میچ میں بیٹنگ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ایک ایسا مجموعہ بنایا جس کا ہمیں دفاع کرنا چاہیے تھا لیکن یہ باولنگ کے لحاظ سے انتہائی مایوس کن کارکردگی رہی۔

انہوں نے ناقص فیلڈنگ کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پوری سیریز میں ہماری فیلڈنگ بہت خراب رہی ہے لہٰذا اس کارکردگی کا کوئی بھی دفاع نہیں کر سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ یہ دنیا کی پانچ بہترین ٹیموں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، گزشتہ کچھ سیریز دیکھیں تو ہم نے ہوم اور اوے سیریز میں جنوبی افریقہ کو شکست دی، ہم نے بیٹنگ، باولنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں بہت زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور ہمیں بڑی حد تک لگ رہا تھا کہ ہم درست سمت میں گامزن ہیں لیکن اس سیریز سے ایسا لگ رہا ہے کہ ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا لیکن ہمیں ایک دم سے ہونے والی اس شکست کی وجوہات تلاش کرنی ہوں گی کیونکہ ہم گزشتہ پانچ چھ سیریز سے کافی اچھی کارکردگی دکھا رہے تھے لہٰذا یہ کارکردگی میرے پریشان کن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل کا فائنل 24جوان کو کروایا جائے گا

پی ایس ایل کے ایک دو میچوں کی کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو مواقع دینے کے سوال پر ہیڈ کوچ نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہمارے پاس انگلینڈ کی طرح وسائل نہیں ہیں، ان کے کھلاڑیوں کا پول موجود ہے لیکن ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہے، گزشتہ کچھ سیریز میں ہمیں کچھ نمبرز پر مشکلات کا سامنا رہا اور کوئی کھلاڑی سیٹ نہیں ہو سکا لہٰذا ٹیم کی ضرورت کے تحت ہمیں ایک دو میچوں میں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارکردگی کا ملبہ کوچ یا کھلاڑیوں پر ڈالنا مناسب نہیں، یہ ٹیم ورک سے ہوتا ہے، آپ بحیثیت ٹیم کام کرتے ہیں اور اگر کھلاڑی میدان میں کامیابی نہیں دکھا سکے تو ہم بھی اس کے اتنے ہی ذمے دار ہیں جتنے کھلاڑی ہیں، ہم بحیثیت ٹیم ناکام ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کھلاڑیوں کو جو پلان دیا تھا انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور جہاں منصوبوں پر عمل کیا تو فیلڈنگ نے سپورٹ نہیں کیا ، اگر ہم اہم مواقع پر کیچ چھوڑیں گے تو ایسی وکٹوں پر آپ کے حق میں نتائج آنا مشکل ہے، کسی ایک قصور نہیں بلکہ بحیثیت ٹیم ہم سب کا قصور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ملتان سلطانز کی پہلی مرتبہ پی ایس ایل فائنل میں رسائی

ٹیم میں پسند اور ناپسند کی بنیاد پر سلیکشن کے حوالے سے سوال پر ہیڈ کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کو ٹیم میں پسند ناپسند کی بنیاد پر شامل کرنے کے حوالے سے بحث تو کبھی ختم نہیں ہو گی، اگر 16 یا 17 کا اسکواڈ ہے تو 11 ہی کھیلیں گے اور یہ سوال ہو گا کہ بقیہ کیوں نہیں کھیلے، ہم بہترین کامبی نیشن ساتھ لے کر چلتے ہیں اور جرورت کے مطابق تبدیلیاں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ کسی کو فیور دیں، ٹیم مینجمنٹ کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ بہترین اور متوازن ٹیم کو میدان میں اتاریں تاکہ ہم میچز جیتیں اور اس کے علاوہ کوئی ہدف نظر میں ہوتا۔

آل راونڈر شاداب خان اور فہیم اشرف کی ناقص کارکردگی کے باوجود ٹیم میں موجودگی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں کھلاڑی ٹیم کا بیلنس بناتے ہیں، اگر ہم عثمان قادر کو کھلائیں گے تو ہمارے پاس ایک بلے باز کم ہو جائے گا جبکہ شاداب خان بیٹنگ بھی کر لیتے ہیں، اسی طرح فہیم کی بھی پچھلی کئی سیریز میں کارکردگی کافی اچھی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نیشنل ٹی ٹونٹی ذیشان ملک کے 192رنز اور سدرن پنجاب کی ہار

بابر اعظم کے حوالے سے مصباح الحق نے کہا بیٹنگ میں اب بابر اعظم دباو¿ برداشت کرنا سیکھ گیا ہے لیکن بحیثیت کپتان وہ ابھی نئے ہیں، تو کچھ چیزیں سیکھنے میں انہیں وقت لگے اور اتنی جلدی کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں