china vs united states

امریکی ایڈوائزری میں چین کیخلاف کیا سخت اقدام اٹھایا گیا ہے؟

EjazNews

امریکہ نے چین کے صوبہ سنکیانگ میں جبری مشقت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر کاروباری اداروں اور شخصیات کو صوبے میں سرمایہ کاری کرنے اور سپلائی چین سے وابستگی پر خبردار کیا ہے۔

امریکی میڈیاکے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی اور سنکیانگ میں بدسلوکی کی حد کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر کاروباری کمپنیوں اور متعلقہ شخصیات نے سنکیانگ کے ساتھ جڑی سپلائی چین، منصوبوں یا سرمایہ کاری سے علیحدگی نہ اختیار کی تو ایسی صورت میں امریکی قوانین کی خلاف ورزیوں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی حکومت نے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے اداروں کے مابین ہم آہنگی مضبوط کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی لیبر ڈیپارٹمنٹ اور تجارتی نمائندے کے دفتر نے دیگر حکومتی اداروں کی جانب سے سنکیانگ سے متعلق مشترکہ تازہ ترین ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، جو پہلی مرتبہ گذشتہ سال یکم جولائی کو محکمہ خارجہ، کامرس، داخلی سکیورٹی اور محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی کے 2019میں دوبارہ انتخاب کے بعد بھارت کے زوال میں تیزی آئی:فریڈم ہائوس

محکمہ خزانہ نے فنانشل ٹائمز اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ چین کی جانب سے ہانگ کانگ اور سنکیانگ میں کریک ڈاون کرنے پر امریکہ رواں ہفتے مزید پابندیاں عائد کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکی انتظامیہ ہانگ کانگ میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جمعے تک اسی قسم کی ایڈوائزری جاری کر سکتی ہے جو سنکیانگ کے معاملے میں کی گئی ہے۔

منگل کو جاری ہونے والی ایڈوائزری میں امریکی کمپنیوں کو سختی سے متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر ان کی کاروباری سرگرمیاں بلواسطہ طور پر بھی سنکیانگ میں چینی حکومت کے وسیع اور بڑھتے ہوئے کڑی نگرانی کے نظام سے وابستہ ہیں تو انہیں امریکی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر سرویلنس کے الزام میں امریکی حکومت نے 14 کمپنیوں اور دیگر اداروں کو معاشی بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جو بائیڈن کے حامیوں کا رقص ، ٹرمپ کے حامی الیکشن چوری کے نعرے لگانے لگے

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے سنکیانگ میں بدترین بدسلوکی برقرار ہے جس کے تحت مسلمان نسلی گروہوں اویغور، قازقس، اور کرغیز کے علاوہ دیگر مذہبی اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم چین نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنکیانگ میں مذہبی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے ٹریننگ سینٹر قائم کیے ہوئے ہیں۔

امریکی تجارتی ترجمان کیتھرین تائی نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے پر کینیڈا، میکسیکو، اور دیگر شراکت داروں کی تعریف کی ہے۔

علاوہ ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر ہانگ کانگ کی حکومت کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جائے گا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب چینی عہدیداروں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں