Disagreement

اختلاف رائے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ رشتے توڑ لیے جائیں، اختلاف رائے حق ہے

EjazNews

کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے کی موجودگی اُس معاشرے کے فعال ہونے کا ثبوت ہے، لیکن اس کے بھی کچھ آداب اور حدودوقیود ہیں۔ اگراختلافِ رائے ان حدودوقیود کے اندر رہے، تو باعثِ رحمت ہے، ورنہ انتشار اور تلخیوں کا سبب بن جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جہاں دو افراد اکٹھے ہوں، کسی نہ کسی معاملے پر تنقیدی گفتگو شروع ہو ہی جاتی ہے اور بعض اوقات رویّہ اس حد تک جارحانہ اور غیر مناسب ہوجاتا ہے کہ فریقین آپس میں گفتگو پر رضا مند ہی نہیں ہوتے۔ یوں معمولی سا اختلاف بھی شدیدمخالفت میں بدل جاتا ہے۔ حالاں کہ رائے سے اختلاف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نوبت دشمنی تک جاپہنچے۔یاد رکھیے، اختلافِ رائے کی بنیادی شرط ہی ادب ہے کہ گفتگو مہذّب اورپُرسُکون ماحول میں کی جائے۔ سامنے والے کی بات کو غور سے سُنا جائے، پھر انتہائی نرم لہجے میں قوی دلائل کی روشنی میں جواب دیا جائے۔ اختلاف چاہے دینی معاملے میں ہو یا دُنیاوی، کبھی بھی اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ گفتگو اگر تہذیب کے دائرے میں شائستگی سے کی جائے، تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ مخالف آپ کی بات مان لے گا اور اگر نہ بھی مانے، تو اندازِتکلم سے ضرور متاثر ہوگا۔ نیز، اس کے دِل میں آپ کے لیے جو نرم گوشہ پیدا ہوگا، وہ کم از کم دشمنی کو جنم نہیں لینے دے گا۔ اس کے برعکس اگر بات کا انداز غیر مہذّب اور جارحانہ ہو، تو مخالف قائل ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی اور ضد پر اڑا رہے گا۔ دراصل سخت گیر رویّے کی وجہ سے لوگ ہماری گفتگو سُننا بھی پسند نہیں کرتے۔ یاد رکھیے، شدید اختلاف کے باوجود اپنی بات شائستگی سے دوسرے تک پہنچانا انسان کا مہذّب، تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہونا ثابت کرتا ہے۔ اختلافی گفتگو میں ایک غلطی یہ بھی ہوتی ہے کہ ہم اپنی بات مِن و عَن منوانا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سامنے والے کو میری بات ہر صُورت ماننا ہوگی۔ حالاں کہ یہ تصوّر بھی غلط ہے۔ اگرکسی سے اختلاف ہو تو نہایت تحمّل سے اس کی سُن کر اپنی بات مدلّل انداز میں اس تک پہنچائیں۔ اگر اس کا دِل ودماغ حق کا متلاشی ہوگا ،تو وہ بغیر کسی حجّت کے آپ کی بات مان لے گا۔ وگرنہ آپ لاکھ کوشش کرتے رہیں، وہ آپ کی بات ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں بیوی کی پریشانیوں کے حل کرنے کیلئے اہم معلومات

آج کل یہ عام سی بات ہوچُکی ہے کہ اختلافی گفتگو کسی نظریے یا مؤقف سےشروع ہوکر ذاتیات اور طعن و تشنیع تک پہنچ جاتی ہے۔ پُرانی پُرانی باتیں نکل کر سامنے آنا شروع ہوجاتی ہیں اور ایسے ایسے الزامات اور اتہامات لگائے جاتے ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ غورطلب بات یہ ہے کہ وہ اختلافی نکتہ، جس پر گفتگو شروع ہوتی ہے، صُورتِ حال کشیدہ ہونے کے باوجود اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ اور یہ طے ہے کہ اگر افہام و تفہیم میں غلبہ چیخ وپکار کی بنیاد پر ہو ،تو جاہل ہی زیادہ غالب رہتے ہیں، حالاں کہ غلبہ و کام یابی کو ضرورت دلیل اور سُکون و تحمل کی ہوتی ہے۔ ایک مثل معروف ہے،’’خالی ڈبا بَھرے ہوئے ڈبے سے زیادہ آواز اور شور کرتا ہے‘‘۔ اور ہمارے معاشرے میں اسی کو غالب سمجھا جاتا ہے، جو خیالی اور توہمّاتی باتوں کوشور شرابا کرتے لوگوں تک پہنچائے۔ اس کے برعکس جوفرد شائستگی سے دھیمے انداز میں گفتگو کرے ،اُسے مغلوب گرداں لیاجاتا ہے۔ اسی طرح ایک خرابی یہ بھی ہے کہ انسان اپنی بات اور اپنے مؤقف ہی کو قطعیت کا درجہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یاد رکھیں، ضروری نہیں کہ جو بات ہمیں سمجھ آئے وہ قطعی اور حتمی ہو۔بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ کچھ حقائق ایسے بھی ہوتے ہیں ،جو ہم سے پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان کے سامنے آنے سے ہمارے مؤقف میں تبدیلی کے قوی امکانات ہوسکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم نے کسی نظریےکے متعلق دلائل کی بنیاد پر ایک مؤقف قائم کیا،پھر ہماری اس رائے سے کسی کو اختلاف ہوا ۔ اس نے ہماری رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اس نظریےکے متعلق کچھ ایسے پہلو اور دلائل سامنے رکھے، جو ہمارے دلائل سے مضبوط تھے، تو اس صورتِ حال میں زیادہ امکان پایا جاتا ہے کہ مخالف کے دلائل کی قوّت ہمیں اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کردے،لہٰذا ہمیں اپنے قائم کردہ مؤقف میں لچک رکھنی چاہیے۔ کسی بھی موضوع پر ہر فریق اپنے مؤقف کو درست اور دوسرےکو غلط سمجھے ،تو خود سوچیے، ایسی گفتگو کا انجام کیا ہوگا؟ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں، جن کا سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہوتا ہے۔ نیز، ان باتوں کو ہم درست طریقے سے سمجھ نہیں پاتے ۔ ہم اپنی سوچ سمجھ کے مطابق رائے قائم کرلیتے ہیں اور اسی کا ڈھنڈوراپیٹنا شروع کردیتے ہیں۔ اگر اس پر کوئی ہم سے اختلاف کرلےتو برہم ہوجاتے ہیں اور اگراختلاف کرنے والا عُمر اور مرتبے میں چھوٹا ہو تو اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انسان پوری زندگی طالب علم رہتا ہے۔ اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے اور سامنے والا ہمیں سمجھادے تو اس کی بات مان لینی چاہیے ۔خوامخواہ اس اختلاف کو مخالفت میں نہیں بدلنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  جنریشن گیپ :آپسی گفتگو ہی سے کم ہوتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں