taliban_spokesperson

اسلام آباد کی جانب سے مشورے کا خیر مقدم کریں گے،کوئی ڈکٹیشن ناقابل قبول ہوگی:ترجمان طالبان

EjazNews

غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے واضح کیا کہ افغانستان میں رونما ہونے والی نئی سیاسی صورتحال میں اسلام آباد کی جانب مشوروں کا خیر مقدم کریں گے لیکن اس ضمن میں کسی بھی قسم کی کسی سے کوئی ڈکٹیشن ناقابل قبول ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی ہدایت قبول کرنا ہمارے قوانین کے خلاف ورزی ہے۔

سہیل شاہین نے امید ظاہر کی کہ ہم پاکستان کے ساتھ اچھےتعلقات کے خواہاں ہیں کیونکہ وہ ایک اسلامی برادر اور پڑوسی ملک ہے جبکہ ان کے ساتھ ہماری ثقافتی، مذہبی اور تاریخی اقدار مشترک ہیں۔

علاوہ ازیں امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد پاکستان تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے کردار سے متعلق سوال کے جواب میں سہیل شاہین نے واضح کیا کہ ہم کسی گروہ یا فرد کو افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور یہ ہی ہماری پالیسی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بنگلہ دیش: 22منزلہ عمارت میں آگ سے 19افراد ہلاک 73زخمی

افغانستان میں سے 20 برس بعد امریکی فوجیوں کےانخلا اور طالبان کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کے تناظر میں کابل میں سیاسی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس سیاسی کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کی جانب سے متعدد مرتبہ اس بیان پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان میں امن چاہتا اور صرف عوامی کی خواہشات پر مبنی حکومت کو تسلیم کرے گا۔

اگر افغانستان میں موجودہ صورتحال کی بات کی جائے تو طالبان نے وسطی افغانستان کے شہر غزنی کا گھیراؤ کر لیا ہے اور افغان سکیورٹی فورسز سے لڑائی کے لیے شہریوں کے گھروں میں گھس کر مورچے بنا لیے ہیں۔

یہ طالبان کا صوبائی دارالحکومت پر تازہ ترین حملہ ہے جہاں انہوں نے سکیورٹی فورسز پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے شہر کا گھیراؤ کر لیا ہے کیونکہ غیرملکی افواج کے جانے کے بعد ان کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکہ نے خاموشی سے بگرام ایئربیس خالی کردی تھی جبکہ پینٹاگون نے کہا تھا کہ امریکی فوج کا 90 فیصد انخلا مکمل ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں عید کی نماز پر بھارت کی جانب سے پابندی عائد

یاد رہے کہ امریکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں ایک معاہدے کے تحت افغانستان سے انخلا پر راضی ہوا تھا اور جو بائیڈن نے بھی ان فوجی رہنماؤں کی توقعات پر پانی پھیر دیا تھا جو افغانستان میں فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے کے حامی تھے۔
افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل آسٹن ملر نے خبردار کیا تھا کہ ملک خانہ جنگی کی جانب جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں