iraq_1

عراق کے ہسپتال میں آگ لگنے سے کم از کم 50افراد ہلاک

EjazNews

جنوبی عراق کے شہر ناصریہ کے ہسپتال میں پیر کی شب کورونا سے متاثر مریضوں کے ایک آئسولیشن سینٹر میں آگ لگنے سے کم از کم 52 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

عراقی میڈیاکے مطابق آگ لگنے کا یہ واقع ناصریہ کے الحسین ہسپتال میں پیش آیا ہے۔ مریضوں کو وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی وڈیوز میں ہسپتال سے گہرے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مقامی شہری دفاع کے حکام نے آگ پر قابو پا لیا۔

جنوبی عراق میں حکام نے ذی قار گورنریٹ میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔ چھٹی پر گئے ڈاکٹروں کو طلب کر لیا گیا۔

مغربی میڈیاکے مطابق عراق کے حکام صحت نے بتایا کہ تین ماہ میں عراق کے ہسپتال میں آگ لگنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اپریل میں بغداد کے ایک ہسپتال میں لگنے والی آگ سے 82 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ سے اب بات چیت نہیں ،ایران کی ساری قیادت اس پر متفق ہے:سپریم لیڈر خامنہ ای

محکمہ صحت کے ایک عہدیدار حیدر الزامل نے مغربی میڈیا کو بتایا کہ آگ کوویڈ آئسولیشن سینٹر میں لگی ہے۔

iraq

آئسولیشن وارڈ میں موجود افراد جھلس کر ہلاک ہوئے، سرچ آپریشن جاری ہے، ہسپتال کی عمارت میں متاثرین کے پھنسے رہنے کا خدشہ ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ آئسولیشن وارڈ میں 60 مریضوں کی گنجائش تھی۔ عراق کے طبی ذرائع نے پیر کو دیر گئے بتایا کہ 16 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ پر ہزاروں افراد نے احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین یک زبان ہو کر چلا رہے تھے کہ ’سیاسی جماعتوں نے ہمیں جلا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس واقعہ پر ایکشن لینے اور ذمہ داروں کے استعفے کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

وزارت داخلہ نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا کہ آگ ہسپتال کی مرکزی عمارت کے ساتھ بنائے جانے والے عارضی سٹریکچر میں لگی تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  جوہری معاہدے میں چین کا کردار منصفانہ اور تعمیری رہا ہے:چین

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے آگ لگنے کی وجوہ جاننے کے لیے وزرا اور سیکیورٹی سربراہوں کے ساتھ اجلاس کیا ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے سپیکر نے ٹویٹ کیا کہ الحسین ہسپتال میں ہونے والا واقعہ عراقیوں کی جانوں کے تحفظ میں ناکامی کا واضح ثبوت ہے اور اب اس کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔

عراقی میڈیا کی رپورٹنگ کے مطابق الحسین ٹیچنگ ہسپتال میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے مختص آئسولیشن سینٹر میں موجود آکسیجن کے سیلنڈروں سے آگ لگی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق عراقی وزیر اعظم نے آتشزدگی کی اعلی سطح پر تحقیقات کے لیے حکومتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزرا اور سکیورٹی حکام کو فوری طور پر ناصریہ روانہ کیا ہے۔

وزیراعظم نے ذی وقار گورنریٹ کے محکمہ صحت، ہسپتال اور شہری دفاع کے ڈائریکٹرز کو معطل کرنے اور انہیں حراست میں لے کر شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ بھی جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ترک صدر کا طالبان سے مطالبہ

وزیر اعظم نے وزارتوں کو فوری ایمرجنسی طبی امداد بھیجنے اور شدید زخمیوں کو علاج کے لیے عراق سے باہر بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں