ashraf ghani

بھارت کی افغانستان میں مشکوک سرگرمیاں

EjazNews

کابل اور قندھار ایئرپورٹ پر بھارتی فضائیہ کے سی17 کارگو طیاروں کی تصاویر بھی سامنے آگئیں۔ کابل اور قندھار ایئرپورٹ پر بھارتی جہازوں سے سامان اتارتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ طالبان کی پیش قدمی کے بعد بھارت نے قندھار میں اپنا قونصل خانہ سے سفارتی اہلکاروں اور ’’را‘‘ ایجنٹوں کے 50رکنی دستے کو خصوصی طیارے کے ذریعے واپس نئی دہلی واپس بلانے کی تصدیق کردی ہے ۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہاہے کہ بھارت افغانستان کی صورتحال کی نگرانی کررہا تھا اور شدید فائرنگ کے باعث قندھار قونصل خانہ سے وقتی طور پر عملہ واپس بلا لیا ہے، بھارت افغانستان کی بدلتی صورتحال کی قریب سے نگرانی کررہا ہے، ہمارے اہلکاروں کا تحفظ اور سکیورٹی سب سے اہم ہے،بھارت کا قندھار میں قونصل خانہ بند نہیں کیا گیا تاہم قندھار شہر کے قریب شدید جھڑپ کے باعث بھارتی نژاد اہلکاروں کو وقتی طور پر واپس بلالیا گیا ہے۔میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ صورتحال مستحکم ہونے تک بالکل عارضی اقدام ہے، قونصل خانہ مقامی عملے کے ارکان کے ذریعے سرگرمیوں جاری رکھے گا۔ کابل اور مزار شریف کے قونصل خانے کھلے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاک ڈاؤن صرف اس صورت میں کامیاب ہو گا، جب لوگوں کو بنیادی ضرورتیں گھر میں ملیں گی: وزیراعظم

برطانوی ریڈیو کے مطابق اگر طالبان اسی طرح پیش قدمی کرتے رہے تو انڈیا کے لیے کابل میں سفارت خانے کو محفوظ رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ ادھر طالبان کے مطابق قندوز، تخار، بامیان، پروان ،بلخ میں کارروائیاں جاری ہیں ، 2بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ، پائلٹ قتل کیا گیا، درجنوں اہلکار سرنڈر ہوئے ہیں، طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ فتوحات کے باوجود مفاہمت پر یقین ہے ، خود مختار اسلامی افغانستان منزل ہے۔ افغان فوج کی جانب سے طالبان کی پیشقدمی روکنے کے دعوے کئے جارہے ہیں ۔

حکومتی ترجمان حامد مبریز نے اتوار کے روز کہا کہ عسکریت پسند ہلاکتوں کا سامنا کرنے اور 2درجن سے زائد لاشیں چھوڑنے کے بعد فرار ہوگئے۔مسلح باغیوں نے اتوار کی صبح تالقان شہر پر مختلف اطراف سے حملہ کردیا لیکن سکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی اور باغیوں کو ہلاکتوں کا سامنا کرنے اور 25لاشیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ دریں اثنا صوبہ میں فوجی افسرعبدالرزاق نے شِنہوا کو بتایا کہ کم ازکم18 طالبان عسکریت پسند ہلاک ہوگئے اور باغی تالقان شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام ہوگئے۔افسر نے مزید کہا کہ جھڑپ میں 10عسکریت پسند اور 3فوجی زخمی ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کا پیچھا کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کا ایران سے دہشت گردوں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

اپنا تبصرہ بھیجیں