taliban_afghanistan

طالبان کا افغانستان کے 85فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ

EjazNews

افغانستان میں طالبان نے شمالی صوبوں میں 100 سے زائد اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے ، یہ اضلاع جو نائن الیون سے قبل بھی افغان طالبان کے مخالف شمالی اتحاد کے مضبوط گڑھ رہے ہیں۔

طالبان ملک کے 250اضلاع اور 85فیصد رقبے پر قبضے کا دعویٰ کرچکے ہیں ۔ صوبہ بدخشاں کے تمام اضلاع طالبان کے کنٹرول میں ہیں جس میں ضلع فرخار بھی شامل ہے جو نائن الیون سے پہلے طالبان کے مخالف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیر قیادت شمالی اتحاد کا مرکز تھا۔

مستند ذرائع کے مطابق طالبان نے فقط اسلام قلعہ کے تجارتی مرکز سے 30 لاکھ امریکی ڈالرز نقد اور تقریباً دو سو ملین کے تجارتی مواد اور وسائل پر قبضہ کیا ہے۔

طالبان نے ہفتے کے روز کابل کے پڑوس میں واقع لغمان صوبے کے ایک ضلع پر بھی قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ وہ اہم سرحدی راہداری سے طالبان کا قبضہ چھڑانے کیلئے فوج بھجوانے کی تیاری کررہے ہیں ، افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے کہا کہ طالبان کو ان کی تازہ ترین پوزیشنز سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نریندر مودی کی متعصب پالیسیوں سے انڈیا معاشی بحران میں ہے اور اس کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے:سابق وزیراعظم انڈیا

ہرات کے گورنر کے ترجمان جلانی فرحاد نےغیر ملکی میڈیاکو بتایا ہے کہ حکام ایران اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی گزرگاہ اسلام قلعہ کو طالبان کے قبضے سے واپس لینے کے لیے افواج بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مزید فوجی ابھی بھیجے نہیں گئے مگر جلد بھیج دئیے جائیں گے۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اہم سرحدی گزرگاہوں سمیت ملک کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کرلیا ہے ۔

ماسکو میں طالبان عہدیداروں کے ایک وفد نے بتایا کہ انہوں نے افغانستان کے تقریباً چار سو اضلاع میں سے 250 پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ادھر افغان امن مذاکراتی عمل میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی دے رہی اور طالبان کے مخالف کمانڈر انفرادی طور پر اپنے لوگوں کو ان کے خلاف مزاحمت پر ابھار رہے ہیں، صوبہ ہرات میں طالبان مخالف اہم کمانڈر اسماعیل خان نے اپنے حامی کمانڈروں کے ساتھ طالبان کی پیش رفت کے خلاف مزاحمت شروع کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا دنیا بے وقوف ہے؟

ہرات میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل خان نے کہا کہ ہم بہت جلد اگلے محاذوں پر بھی طالبان کی مدد کریں گے اور خدا کی مدد سے صورتحال کو بدل دیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں