major general babar iftikhar

افغان نیشنل آرمی تربیت یافتہ ہے اور اسکے پاس خصوصی ہتھیار اور ایئر فورس بھی ہے:میجر جنرل بابر افتخار

EjazNews

اپنے ایک انٹرویو میں جنرل ، میجرجنرل بابر افتخار نے کہا کہ اس وقت امن عمل ایک اہم مرحلے پر ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان عوام اور قیادت کی سربراہی میں افغان مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 20سال کے دوران امریکہ کی فوج نے افغان نیشنل آرمی کو تربیت دی ہے ، جو استعداد اور طاقت رکھتی ہے اور افغان آرمی کی گرائونڈ پر موجودگی کے ساتھ ساتھ اس کے پاس اپنی فضائیہ بھی ہے ۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان فورسز کی تربیت پر بھاری اخراجات کئے گئے ہیں اور امریکہ نے ان کو تربیت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان نیشنل آرمی تربیت یافتہ ہے اور اسکے پاس خصوصی ہتھیار اور ایئر فورس بھی ہے، انکی تربیت پر کھربوں ڈالر خرچ کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت پیشہ ور سپاہی مجھے یقین ہے کہ افغان فورسز پیشہ وارانہ اہلیت کے ساتھ موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے اہل ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے مزید کہا کہ افغان فوج کے پاس اہلیت ہونے کے باوجود اگر وہ صورتحال پر کنٹرول نہیں کرسکتے تو اس کے بعد اندرونی عوامل اور زمینی حقائق و پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانوں کے اپنے فیصلہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور افغان عوام کو کوئی تیسرا فریق ڈکٹیٹ نہیں کر سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  نیوزی لینڈ میں دہشت گردی پر قومی رہنماؤں کا اظہار افسوس

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی افواج واپس جا چکی ہیں اور انکی اتحادی افواج بھی واپس جا رہی ہیں۔ افغانستان سے امریکہ اور اسکی اتحادی افواج کا انخلا 31اگست کو مکمل ہو جائیگا۔ خطے کے شراکت داروں کو افغان قیادت کی مشاورت کے ساتھ اس مسئلہ کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں امن وامان کی صورتحال کے حوالہ سے حکمت عملی مرتب کرنے پر طویل مشاورت کی گئی ہے اور پوری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان نے انتہائی مخلصانہ کر دار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان شراکت داروں میں پاکستان کا کوئی بھی پسندیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و امان کے حوالے سے مخلصانہ کوششیں کی ہیں لیکن ہم ایک مقررہ حدود سے تجاوز نہیں کرسکتے۔ افغانستان میں طالبان اور افغان فورسز کی مسلح تنازع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت تنازع جاری ہے لیکن فیصلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاک افغان باڈر سیکورٹی اور اس کے انتظام کار کو بہتر بنایا گیا ہے۔ 2611کلو میٹر طویل پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا تقریباً 90فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شریف خاندان نے نشان عبرت بن کر بھی کوئی سبق نہیں سیکھا:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

انہوں نے کہا کہ سرحد پار زیادہ برفیلے یا دشوار گزار علاقوں میں باڑ لگانے کا کام باقی ہے تاہم مربوط حکمت عمل کے تحت سرحد پر جامع حکمت عملی اور انتظام کار کے تحت قلعے تعمیر کئے جا چکے ہیں اور سرحدی چوکیوں پر فرائض کی انجام دہی کیلئے ایف سی کے نئے ونگ بنائے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں سول وار کے اثرات پاکستان پر بھی ہو سکتے ہیں جس طرح ماضی میں ہوا تھا ،ہم اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں مزید بتایا کہ افغانستان میں موجود داعش اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کئی گروپ موجود ہیں جو پاکستان مسلح افواج پر حملے کرتے ہیں اور سرحد پر باڑ لگانے عمل کے دوران ان حملوں کے نتیجہ میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی حکمت عملی بہتر ہے اور ہماری مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر خدا نے چاہا تو ہم اس صو رتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کرینگے۔ افغانستان میں سول وار کے باعث افغان پناہ گزینوں کی آمد کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کسی قسم کے تشدد کی صورت میں افغان پناہ گزینوں کی پاکستان آنے کی صورتحال کے بارے میں وزارت داخلہ نے جامع منصوبہ بندی کی ہے تاہم علاقائی و بین الاقوامی شراکتداروں کو افغان امن عمل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  احساس سے متعلق پالیسی بیان جاری کرنے پر خوش ہوں:وزیراعظم

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سوچ بڑی واضح ہے اور اپنی سرزمین کو کسی کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے،اس حوالے سے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے بین الاقوامی برادری اور فورسز کی جانب سے پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کو روکنے کیلئے مخلصانہ کوششیں نہیں کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری کا مقصد وہاں پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھارت کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے، بھارت کی مکمل توجہ پاکستان کو نقصان پہنچانے پر مرکوز ہے اور وہ افغانستان میں بے امنی کے حوالہ سے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کئی ناکام کوششیں کر چکا ہے لیکن پوری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے ہمیشہ مخلصانہ کوششیں کی ہیں ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مختلف قسم کے پروپیگنڈہ کے باوجود اس پر کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں