Education_Protast

زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اگر طلباء کی بات سنی جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟

EjazNews

اگر دیکھا جائے تو ملک کی زیادہ آباد ی کا تعلق دیہات سے ہے۔ شہروں میں کتنے لوگوں کے پاس انٹر نیٹ کنکشن ہے اور کتنے سرکاری سکولوں اور کالجوں ، یونیورسٹیوں کے پاس یہ سہولت ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کو آن لائن تعلیم دے سکیں اگر صرف اس ایک پہلو کو دیکھ لیا جائے تو بہت سے سوالات کا جواب بغیر کسی مسئلے کے مل جاتا ہے۔

آپ ذرا غور کیجئے سرکاری سکولوں اور کالجوں کے پاس انٹر نیٹ کی کتنی سہولت موجود ہے ۔ ہم یہ نہیں کہتے ہے کہ سارے اساتذہ پڑھاتے نہیں لیکن اس بات میں کسی حد تک سچائی تو ہے کہ سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار کسی لحاظ سے بھی آپ پرائیویٹ سیکٹر کے برابر کا نہیں کہہ سکتے۔

پچھلے ڈیڑھ سے دو سال کے دوران سکول کے نام پر بچوں کے ساتھ کیا مذاق ہو رہا ہے۔ کوئی ایسا سسٹم نہیں بن سکا اس ڈیڑھ سال میں کہ طالب علموں کی تعلیم بہتر طور پر جاری رہ سکے ۔ بیان بازی دیکھی جائے تو شاید ہماری ترقی امریکہ سے بھی زیادہ نکل آئے گی اور گروتھ ریٹ کے جادوگر ہمیں چین سے بھی زیادہ تیز رفتار بتا دیں گے۔ لیکن کچھ چیزیں زمینی حقائق سے بھی دیکھنی چاہئیں ۔

Education_Protast_1
اگر طالب علم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو اساتذہ پڑھائیں ایک ماہ مزید اور اس کے بعد امتحانات لیں تو اس پر حکومت کو بھی سوچنا چاہئے۔

اگر طالب علم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو اساتذہ پڑھائیں ایک ماہ مزید اور اس کے بعد امتحانات لیں تو اس پر حکومت کو بھی سوچنا چاہئے۔ کیونکہ اگر کورونا کی وجہ سے بغیر امتحان دئیے آپ طالبعلموں کو پاس کر سکتے ہیں تو پھر امتحانات کو اگر چند ہفتوں کیلئے آگے پیچھے کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم اگلے چھ ماہ، ایک سال یا دو سال میں کبھی بھی اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں:وفاقی وزیر اسد عمر

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے امتحانات ملتوی کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مسئلے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ پاکستان کے لاکھوں طلبہ اور طالبات کا مسئلہ ہے جن کا تعلق نچلے طبقے سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ مئی سے امتحانات کے بارے میں اطلاع دی جا رہی ہو لیکن ملک بھر میں شدید لوڈ شیڈنگ ہے اور انٹرنیٹ کنکشنز دستیاب نہیں لہٰذا امتحانات چھ سے آٹھ ہفتے مؤخر کردیں کیونکہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اختیاری مضامین میں امتحان لیا جا رہا ہے تو ان کے سلیبس میں 10فیصد کمی کی گئی ہے اور جن لازمی مضامین کا امتحان نہیں لیا جا رہا ان کے سلیبس میں 40فیصد کمی کی گئی ہے جبکہ جن کا امتحان لیا جا رہا ہے اس کی تیاری ہی نہیں کرائی گئی، اگر آپ نے پڑھایا نہیں ہے تو اخلاقی طور پر امتحان نہیں لے سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے جہاں چھوٹا سا طبقہ امیر ہوجائے اور باقی ملک غریب ہو:وزیراعظم

مسلم لیگ(ن) کے رہنما احسن اقبال نے سعد رفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ میٹرک کے نتیجے کی بنیاد پر میرٹ بنایا جائے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو کم از کم 45 دن کے لیے امتحانات کو مؤخر کیا جائے اور اس دوران خصوصی کلاسز کا انعقاد کر کے طلبہ و طالبات کو کورس مکمل کرایا جائے تاکہ ان کا میرٹ متاثر نہ ہو۔

وفاقی وزیر تعلیم نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر سعد رفیق اور احسن اقبال تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ طالبعلم کی صلاحیت کو پرکھنے کا بہترین پیمانہ امتحانات ہیں اور 12ویں جماعت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ انہیں جامعات اور پیشہ ورانہ کالجز میں جانا ہوتا ہے، ہم سخت محنت کرنے والے طلبہ سے امتیازی سلوک کیوں کریں، اپنی گھٹیا سیاست بند کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ امتحانات لینے کا فیصلہ آزاد جموں و کشمیر میں مسلم لیگ(ن) اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت سمیت تمام وفاقی اکائیوں نے متفقہ طور پر لیا تھا، وہ جانتے ہیں کہ طلبہ کو گزشتہ امتحانات کی بنیاد پر ترقی نہیں دی جا سکتی کیونکہ گزشتہ سال امتحانات ہوئے ہی نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا ویڈیو سکینڈل تحریک انصاف کے موقف کی تائید ہے؟

وزیر تعلیم نے کہا کہ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ تتر بتر ہونے والی مسلم لیگ(ن) سستی شہرت کے لیے طلبہ سے سیاست کررہی ہے، احسن اقبال اور سعد رفیق جیسے لوگ جانتے ہیں کہ بلوچستان اور سندھ میں پہلے ہی امتحانات ہو چکے ہیں لہٰذا بقیہ طلبہ سے مختلف سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جانتے ہیں کہ 18ویں ترمیم کے بعد 30 بورڈز میں سے صرف ایک فیڈرل بورڈ وفاق کی زیر انتطام ہے، اس کے باوجود وہ ایسے ظاہر کررہے ہیں کہ جیسے وفاقی وزیر کے ایک حکم سے ملک بھر میں امتحانات رک جائیں گے جو گھٹیا سیاست کی ناکام کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بقیہ صوبوں اور وفاقی اکائیوں میں کل سے امتحانات کا آغاز ہو رہا ہے اور ہم امتحانات میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ جو طلبہ مزید وقت دینے کا مطالبہ کررہے ہیں وہ 2 سے تین ماہ بعد ضمنی امتحانات میں شرکت کر سکتے ہیں، آخر ان امتحانات کو کیوں ملتوی کیا جائے اور جو طلبہ پڑھ رہے ہیں ان کو سزا دی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں