imran_khan_cpc

پاکستانی رہنمائوں نے چین کے100ویں یوم تاسیس اپنے بیان میں کیا کہا؟

EjazNews

کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ (سی پی سی) کے سو سال پورے ہونے پر بیجنگ میں منعقدہ عالمی رہنماؤں کے سمٹ میں ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پی سی کا چینی قوم کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا مشن اور پی ٹی آئی کا ’’نیا پاکستان‘‘ وژن دونوں ممالک کے عوام کی با وقارامنگوں کا آئینہ دار ہے، کمیونسٹ پارٹی چائنہ کے 100 ویں یوم تاسیس پر مبارک باد پیش کرتا ہوں، پاکستان اور چین آہنی برادر ملک ہیں اور سی پیک بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، پاکستان عالمی امن اور ترقی کے لیے چین کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بے لوث خدمت سے ہی سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرتی ہیں، تحریک انصاف ملک میں قانون کی بالادستی اور انصاف کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے سمٹ کے شرکا کو احساس پروگرام سے متعلق آگاہی دی اور کہا کہ ہمارا احساس پروگرام ایشیا میں سماجی تحفظ کے نمایاں پروگراموں میں سے ایک ہے، احساس پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 80 لاکھ مستحق افراد کو سماجی تحفظ دیں گے، صحت کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق یونیورسل ہیلتھ کوریج کو ترجیح بنایا، خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو صحت کا مفت بیمہ دینا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ کابینہ کے اجلاس میں کیا اہم بات ہوئی؟
cpc
انہوں نے کہا کہ بے لوث خدمت سے ہی سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرتی ہیں، تحریک انصاف ملک میں قانون کی بالادستی اور انصاف کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی چائنا کے وژن نے چینی قوم کے جذبوں کو جلا بخشی، چین نے انتہائی غربت کا خاتمہ کیا، پاکستان اور چین آہنی برادر ملک ہیں، ہم اپنے بنیادی مفادات کے امور میں ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سال 2021 ہماری آزمودہ دوستی کو نئی قوت اور جذبہ بخشے گا۔

صدرمسلم لیگ ن شہباز شریف نے کہا کہ چین کی پرامن نشوونما ،دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور ایک بہترین عالمی طاقت چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ویژن اور لگن کا نتیجہ ہے۔ دو عناصر نے چین کو زبردست بنایا ہے ، لامتناہی توانائی ، تخلیقی صلاحیتوں اور لوگوں کی محنت اور سی پی سی کے ذریعہ فراہم کردہ قیادت کی نسلیں، مشترکہ مفادات پر مبنی قومی بحالی کے لئے سی پی سی کے جنرل سکرٹری شی جنپنگ کی جدوجہد کے تعاون کے عظیم وژن کا مظہر ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ چین کی ترقی دنیا کے لئے تاریخی اور مثالی ہے ،صدر شی چن ینگ کی قیادت میں چین عالمی ،سیاسی ،فوجی اور اقتصادی قوت بن کر ابھرا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  30 سال سے 39سال تک افراد کی ویکسی نیشن شروع

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور چیئرمین مائوزے تنگ نے پاک چین دوستی کی بنیاد رکھی تھی اور سی پیک کی ابتدا صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی نے رکھی تھی۔

انہو ں نے چینی قوم کو اس موقع پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی جانب سے اس ورچوئل تقریب کا انعقاد کرنے پر سی پی سی کو سراہا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آج سی پی سی دنیا کی سب سے بڑی پارٹی بن چکی ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی قیادت کر رہی ہے۔ آپ کی قیادت اور پالیسیوں کے تسلسل سے چین نے غربت ختم کرنے کے لئے کامیابی حاصل کی ہے اور اس وقت دنیا میں بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ کورونا کی وباءسے دنیا بھر کی معاشی ترقی سست ہوگئی تھی اور صحت کا نظام درہم برہم ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود چین نے بے مثال معاشی ترقی کی اور ساری دنیا کو ایک سبق دیا۔ چین کی ترقی سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اصل معاشی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ملک کے غریب ترین عوام کو فائدہ پہنچے۔ چین نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بیرونی سرمایہ کاری، وباءکے دوران انسانی تعاون ، موسمیاتی تبدیلی میں ذمہ داری اور عالمی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آرمی چیف سے اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ و سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی ملاقات

انہوں نے کہا کہ سی پیک ہم سب کے لئے پارٹی کی سطح سے اوپر اٹھ کر اہم منصوبہ ہے۔چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ انسانیت کی مشترکہ اخلاقی اقدار مختلف تہذبیوں کے درمیان ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتی ہیں، چین کے صدر شی جن پنگ کے دور میں اختیار کیے گئے بارہ اخلاقی اصولوں پر مشتمل ضابطہ اخلاق قابل قدر ہے جس میں آزادی ، مساوات ، انصاف اور قانون کی بالادستی جیسے زریں اصول شامل ہیں ، مادی ترقی اور اخلاقی اصول مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل دے سکتے ہیں جس میں ہر انسانی کے لیے خوشی اور خوشحالی کا پیغام ہو، جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی میں اخلاقی اقدار بہت اہمیت کی حامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں