fawad_ch

اسلام آباد کے مدارس اور مساجد کے امام و آئمہ کرام کو ماہانہ مشاہرہ دیا جائے،وزیراعظم نے کیا کہا؟

EjazNews

کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب پولیس نے محکمہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ مل کر بھارت کے بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا اور اس کی تفصیل اگلے چند ہفتوں میں سامنے لے کر آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے نام اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات منظر عام پر لائیں گے جو اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں، دہلی میں جن بینکس سے رقم منتقل کی گئی ان کی تمام تر تفصیلات اس میں موجود ہوں گی اور ان کی تمام تر تفصیلات بھی سامنے آئیں گی جس پر کابینہ نے تسلی کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کلبھوشن کے بعد بھارت کا دہشت گردی کا دوسرا سب سے بڑا نیٹ ورک تھا جو پاکستان میں بے نقاب ہوا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بلوچستان میں بھی بھارت کے دہشت گرد نیٹ ورک کو بہت کامیابی سے توڑا ہے اور اس میں ملوث عناصر کو پکڑ لیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم نے کل اعلان کیا ہے کہ بلوچستان کے وہ ناراض قوم پرست جن کا بھارت سے تعلق نہیں تھا اور جو سیاسی مسائل کی وجہ سے ناراض تھے ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے باضابطہ طور پر کام شروع کردیا گیا ہے البتہ جو ناراض بلوچ بھارت کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائی کرتے تھے ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  نیب دستاویزات کے مطابق میاں شہباز شریف کے پاس کتنے بے نامی اثاثے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے ثمرات کے لیے بلوچستان بہت اہمیت کا حامل ہے اور کل کا وزیراعظم کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم سی پیک کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور آج چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 100سالہ تقریب میں شرکت کر ے ورچوئل خطاب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی امن الحق اور بابر اعوان نے بریفنگ دی اور سمندر پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کے لیے کی جانے والی جامع انتخابی اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی اور ہمیں امید ہے کہ 15 جولائی تک الیکٹرک ووٹنگ کے نظام مکمل تیار کر پائیں گے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق اب تک کابینہ کے 141 اجلاس ہوئے ہیں جن میں 3 ہزار 776 فیصلے کیے گئے، ان میں 3ہزار 444 تقریباً 91فیصد فیصلوں پر عملدرآمد ہو چکا ہے، 66 پر عمل جاری ہے جبکہ 123 فیصلوں پر عملدرآمد میں تاخیر ہوئی ہے جبکہ 142 فیصلے مفاہمتی یادداشتوں یا معاہدوں سے متعلق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شمالی علاقہ جات میں بہت زیادہ سیاح جا رہے ہیں لیکن گلگت کی فلائٹس میں کافی مسائل آتے ہیں کیونکہ وہ ائیرپورٹ تمام موسموں میں کارآمد نہیں ہے، ہم سکردو میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنا رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہم چاہتے ہیں سکردو اور گلگت بلتستان ائیرپورٹ تمام موسموں کا حامل ایئرپورٹ بنایا جائے اور سول ایوی ایشن کو وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ وہ سیاحت کے حوالے سے ائیرپورٹس کے بارے میں ایک منصوبہ لے کر آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کرنے جارہے ہیں:وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے وزرائے مملکت، وزرا اور دیگر شخصیات کی جانب سے پروٹوکول اور سکیورٹی کے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس حوالے سے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، وزیر اعظم کو یہ رپورٹ آئی ہے کہ ہماری حکومت کے صوبائی اور وفاقی اکابرین وہ پروٹوکلز زیادہ استعمال کررہے ہیں اور وزیر اعظم نے کہا ہے کہ میں خود رات کو اس لیے شادی اور کھانوں پر نہیں جاتا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میرے جانے سے لوگوں کو تکلیف ہو گی اور ایک غیرمعمولی پروٹوکول سے پرہیز کرنا چاہیے لہٰذا انہوں نے اس حوالے سے سختی سے ہدایت کی ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو بھی بتا دیا گیا ہے جبکہ تمام وزرا، گورنرز اور صوبائی اکابرین کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ آپ اپنے پروٹوکولز میں کمی لائیں۔

فواد چودری نے کہا کہ جہاں بھی اضافی پروٹوکول ہو گا، وہاں وزیراعظم سخت ایکشن لیں گے اور تحریک انصاف کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ پروٹوکول نہیں ہونے چاہئیں، البتہ کچھ ایسے امور ضرور ہیں جن میں سکیورٹی کی ضرورت ہے اور اسی تناظر میں سکیورٹی اقدامات الگ سے کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  11پاکستانی ہندوئوں کی انڈیا میں ہلاکت کا حساب دو:رمیش کمار (سرپرست پاکستان ہندو کونسل)

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے فاٹا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں تھری جی اور فور جی سروس کی فراہمی پر زور دیا ہے اور اب فاٹا کے اے کلاس اضلاع ان کو تھری جی اور فور جی کی سروس دے دی گئی ہیں اور وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ جہاں پر یہ سہولیات نہیں دی گئیں وہاں انہیں فوری پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان کا معاملہ حل ہوتا نظر نہیں آ رہا لیکن اس کی وجہ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی ایک بڑی آبادی کو طویل عرصے تک اتنی بڑی سہولت سے استفادہ نہ کرنے دیں لہٰذا وزیراعظم نے اس حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے، اگر کوئی سکیورٹی کا مسئلہ بنتا ہے تو صورتحال کو وزیر اعظم کے علم میں لا کر عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر مذہبی امور نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ خیبر پختونخوا کی طرز پر اسلام آباد کے مدارس اور مساجد کے امام و آئمہ کرام کو ماہانہ مشاہرہ دیا جائے اور وزیر اعظم نے اس تجویز پر غور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں