indian army

بھارتی ڈیفنس اور ائیرچیف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں’’جت‘‘ گئے

EjazNews

بطور آرمی چیف بپن راوت کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلی بار چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا عہدہ متعارف کرایا تھا، جس پر اپوزیشن اور ماہرین مودی کو تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے، جبکہ انڈین سروسز چیفس جنرل بپن راوت کی بطور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی تقرری کو سیاسی تقرری مانتے ہیں۔اب نریندر مودی کا تینوں افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے بنایا گیا عہدہ ان ہی کے گلے پڑنے لگا ہے، اور بھارتی فورسز کو سنبھالنے والے آپس ہی میں لڑ پڑے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیفنس چیف جنرل بپن راوت اور بھارتی ایئر چیف مارشل بھادوریا کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

بپن راوت نے جنگ کے دوران آرٹلری اور انجنیئرنگ تعاون کی طرح بھارتی ایئر فورس کے کردار کو بھی بری فوج کا معاون قرار دے دیا-

بھارتی ایئر چیف معاون کہنے پر بھڑک اٹھے، انھوں نے کہا ہمارا کردار معاون کا نہیں ہے بلکہ جنگ میں یہ ایک فضائی طاقت ہے اور اس کا بڑا کردار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ترقی یافتہ ممالک ہیں

جنرل بپن راوت اور ایئر چیف بھادوریا گلوبل کاؤنٹر ٹیررازم کونسل کے زیر انتظام منعقدہ کانفرنس کے مختلف سیشنز میں بات کر رہے تھے، جب اپنے خطاب میں بپن راوت نے ایئرفورس سے متعلق بیان دیا تو بھادوریا سے بھی اس پر تبصرے کے لیے کہا گیا، انھوں نے کہا ایئر پاور کا ایک بہت بڑا کردار ہے جو وہ کسی بھی مربوط جنگ میں ادا کرتی ہے۔

بپن راوت کی سیاسی تقرری سے بھارتی فوج کے پول کھلنے لگ گئے ہیں ۔

پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت کے بعد یہ ایک نئی ہزیمت ہےبھارتی سی ڈی ایس اورائیر چیف کے اختلافات میڈیا میں کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں