balochistan

اگر ارادوں میں پختگی ہو اور سمت ٹھیک ہو تو اپوزیشن مطالبہ منوا ہی لیتی ہے

EjazNews

اپوزیشن اراکین کو وزارت داخلہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی نقل بھی فراہم کی گئی، جسے پڑھنے کے بعد اپوزیشن کے اراکین اسمبلی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اراکین اسمبلی اپنے خلاف مقدمہ درج ہونے پر گرفتاری دینے پولیس تھانے پہنچے تھے جہاں پولیس کی جانب سے انہیں حراست میں لینے سے انکار پر وہ 2 ہفتوں سے دھرنا دئیے بیٹھے تھے۔

پولیس نے اپوزیشن کے اراکین صوبائی اسمبلی اور ان کے تقریباً 20 حامیوں کے خلاف 18 جون کو اسمبلی کے احاطے میں مظاہرہ کرنے، دروازوں کو قفل لگا کر حکومت اراکین کو بجٹ اجلاس میں شرکت سے روکنے اور مالی سال 22-2021 کے صوبائی بجٹ کی تقریر روکنے پر مقدمہ درج کیا تھا۔

اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے پر حکومت نے ایف آئی آر سے حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کے نام نکال دئیے تھے لیکن مقدمہ واپس نہیں لیا گیا تھا جس پر اپوزیشن نے مقدمہ واپس لیے جانے تک دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانس سے سفارتی تعلقات :عدالت نے کیس وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا
appotion
بعدازاں اراکین اسمبلی پولیس تھانے سے نکل گئے اور جلوس کی شکل میں ایم پی ایز ہاسٹل پہنچے۔

چنانچہ احتجاج کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ایڈووکیٹ ملک سکندر خان نے کہا چونکہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ مان لیا ہے اور متعلقہ حکام نے اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے لہٰذا ہم پولیس تھانے کے احاطے سے اپنا احتجاج ختم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لیکن ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت اپوزیشن کے ترقیاتی کاموں کو پی ایس ڈی پی کا حصہ نہیں بنا لیتی۔

بعدازاں اراکین اسمبلی پولیس تھانے سے نکل گئے اور جلوس کی شکل میں ایم پی ایز ہاسٹل پہنچے۔

وفد کے دیگر اراکین میں صوبائی وزرا میر عارف خان محمد حسنی، میر سلیم احمد کھوسہ اور مبین خلجی شامل تھے جنہوں نے احتجاج کرنے والے اراکین اسمبلی کے ساتھ مذاکرات کیے۔وفد نے اپوزیشن اراکین کو بتایا کہ حکومت نے اراکین اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی ہے اور اس سلسلے میں ایک باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا سوہاوامیں خطاب

اپنا تبصرہ بھیجیں